سرینگر//جموں و کشمیر کے چار روزہ دورے کے دوسرے دن پارلیمانی سٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ امور نے آج اعلیٰ سول انتظامیہ کے ساتھ ایک میٹنگ کی جس میں ترقیاتی منظر نامے اور یوٹی میں لوگوں کی فلاح و بہبود کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ابتداًجموں و کشمیر کے چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے یو ٹی کے تمام محکموں کی کامیابیوں اور کام کاج پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک تفصیلی پرزنٹیشن دی ۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے 28 ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل کمیٹی کی سربراہی کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمنٹ آنند شرما کر رہے ہیں ۔ ڈیموکریٹک ڈی سنٹرلائیزیشن کیلئے گذشتہ چند برسوں میں کئے گئے اقدامات کے بارے میں تفصیل بتاتے ہوئے میٹنگ کو ضلعی ترقیاتی کونسلوں اور بلاک ڈیولپمنٹ کونسلوں کے انتخابات کے انعقاد کے بارے میں آگاہ کیا گیا اس طرح یو ٹی میں نچلی سطح کی جمہوریت کو تقویت ملی ۔ میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ خطے میں اب تین درجے کا جمہوری نظام قائم ہو چکا ہے اور پنچائتی راج ادارے ( پی آر آئی ) اور اربن لوکل باڈیز کو مزید بااختیار بنایا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ عوامی آؤٹ ریچ پروگرامز ٹو ولیج ، جن ابھیان ، میرا قصبہ میرا غرور وغیرہ پورے جموں و کشمیر میں منعقد کئے گئے ۔ جموںوکشمیر میں بجلی منظرنامے کے حوالے سے پینل کو جانکاری دی گئی کہ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے تیزی سے چل رہے ہیں اور سال 2025ء تک 2500 میگاواٹ کا اِضافہ ہوجائے گا۔کمیٹی کو سڑک رابطے اورپانی کی فراہم کے بارے میں جانکاری دی گئی اور اسے جل جیون مشن جیسی سکیموں کی صورتحال اور یوٹی کے 18 اَضلاع کے تمام دیہی سکولوں اور آنگن واڑی مراکز کو صد فیصد پائپیڈ پانی کی فراہمی کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔میٹنگ میں صنعتی ترقی ، سیاحتی شعبے ، نوجوانوں اور خواتین کو بااِختیار بنانے ، کھیل سرگرمیوں کے اَمور پر بھی غور وخوض ہوا۔ملاقات میں کشمیری مائیگرنٹ کی کشمیر میں آباد کاری پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔پینل نے وَبائی اَمراض کے دوران کووِڈ۔19 تخفیفی اقدامات کوسراہا اور یوٹی اِنتظامیہ کی کوششوں،ای۔آفس اور دیگر اِنتظامی اصلاحات پر عمل درآمد کو بھی تسلیم کیا۔اس سے قبل کمیٹی نے سیلف ہیلپ گروپوں کے مستفید ، زرعی پیداوار کسانوں آرگنائزیشنوں کے نمائندے ، زیادہ کثافت والے سیب کے کاشتکاروں ، زعفران کی پیداوار کرنے والوں کے ساتھ ایک اِستفساری سیشن منعقد کیا۔اِس موقعہ پر باغبانی اور زراعت کے نمائندوں نے پینل کے سامنے اَپنی تجاویز پیش کیں جنہوں نے یقین دہانیکرائی کہ ان کی تجاویز پر مناسب غور کیا جائے گا۔اُنہوں نے پیداوار کی مارکیٹنگ ، ذخیرہ کرنے کی گنجائش اور کلسٹر کولڈ سٹوریج کے مسائل بھی اُٹھائے۔اِس موقعہ پر نوجوانوں پر مبنی سکیموں اور پروگراموں کے مستفید نے کمیٹی کے اَرکان کے ساتھ بات چیت کی اور جموںوکشمیر کے دُور دراز علاقوں میں ہنر سے متعلقہ اِداروں کے قیام کا مطالبہ کیا۔پینل نے نیڈوس ہوٹل مولانا آزاد روڈ سرینگر میں واقع 132 بٹالین کے سی آر پی ایف کیمپ کا بھی دورہ کیا۔کمیٹی کے ارکان نے کیمپ کے اَفسران اور جوانوں کے ساتھ بات چیت کی۔