یو این آئی
دبئی/ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں ہندوستان کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے پاکستانی حکومت کے فیصلے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے کھیل کی روح کے منافی قرار دے دیا ہے ۔ آئی سی سی نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ کسی بھی عالمی ایونٹ میں اپنی مرضی کے میچز کھیلنے کی گنجائش نہیں ہے ۔ آئی سی سی کے مطابق تمام کوالیفائی کرنے والی ٹیمیں طے شدہ شیڈول کے مطابق کھیلنے کی پابند ہیں۔ پی سی بی اس فیصلے کے طویل مدتی اثرات پر غور کرے ، کیونکہ پاکستان خود عالمی کرکٹ کے نظام کا حصہ اور اس سے ملنے والے مالی فوائد کا حقدار ہے ۔ یہ فیصلہ نہ صرف عالمی کرکٹ بلکہ پاکستان کے اپنے لاکھوں شائقین کے لئے بھی نقصان دہ ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بائیکاٹ کی صورت میں پاکستان دو قیمتی پوائنٹس سے محروم ہو جائے گا جو براہِ راست ہندوستان کو مل جائیں گے ۔ پاکستان کے نیٹ رن ریٹ پر منفی اثر پڑے گا جبکہ ہندوستان کا رن ریٹ متاثر نہیں ہوگا۔ 15فروری کو شیڈول ہند ۔پاک ٹاکرا تجارتی لحاظ سے ورلڈ کپ کا سب سے بڑا میچ ہے ۔ پاکستان گروپ اے میں ہندوستان، نمیبیا، نیدرلینڈز اور امریکہ کے ساتھ شامل ہے ۔شیڈول کے مطابق پاکستان کو اپنا پہلا میچ 7 فروری کو نیدرلینڈز، دوسرا 10 فروری کو امریکہ اور تیسرا میچ 18 فروری کو نمیبیا کے خلاف کھیلنا ہے۔ پاکستان کے تمام میچز سری لنکا میں شیڈول ہیں۔عالمی ادارے نے اب تک پی سی بی سے باضابطہ جواب کا انتظار کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے مفاد میں کوئی درمیانی راستہ نکال لیا جائے گا تاکہ ٹورنامنٹ کے تقدس کو بچایا جا سکے ۔
بی سی سی آئی کی تائید
ہندوستانی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان کی جانب سے ہندوستان کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے اعلان پر بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے موقف کی بھرپور حمایت کر دی ہے ۔بی سی سی آئی کے نائب صدر اور رکن پارلیمنٹ راجیو شکلا نے پیر کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی کرکٹ بورڈ کھیل کی روح (اسپورٹس مین شپ) کے حوالے سے آئی سی سی کے بیان سے مکمل اتفاق کرتا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئی سی سی نے ایک بڑا بیان جاری کیا ہے جس میں کھیل کی اخلاقیات کی بات کی گئی ہے ۔ ہم ان کے موقف کے ساتھ ہیں، تاہم اس حساس معاملے پر کوئی بھی حتمی تبصرہ آئی سی سی کے حکام سے تفصیلی ملاقات اور مشاورت کے بعد ہی کیا جائے گا۔یہ بحران اس وقت پیدا ہوا جب حکومتِ پاکستان نے اعلان کیا کہ پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ کے لئے سر لنکا جائے تو جائے گی، لیکن 15فروری کو شیڈول روایتی حریف ہندوستان کے خلاف میچ میں میدان میں نہیں اترے گی۔