بلا شبہ ٹیکنالوجی کے عروج نے جہاں انسانوں کی فلاح و بہبود کی کئی راہیں ہموار کردیں،وہیں بہتر معاشرے کے خواب چکنا چور کرکے رکھ دیئے ۔اسلام نےہمیں باحیا اور پاکیزہ زندگی گزارنے کا درس دیا ہے لیکن ٹیکنالوجی کے انقلاب سےسوشل میڈیا پر ہماری نوجوان نسل غلط روی کا شکار ہو کر نہ صرف دنیا بلکہ اپنی آخرت اور اپنے ایمان کو بھی برباد کر رہی ہے۔ انسانی زندگی کی ہر ساعت بہت قیمتی ہوتی ہے لیکن ہم اکثر اپنا زیادہ تر وقت اِنٹرنیٹ پر غیر ضروری کاموں میں صرف کر دیتے ہیں۔
موبائل فون نے جتنی تیزی کے ساتھ ترقی کی ہے ، ایسا ریکارڈ کسی ایجاد کا نہیں ہے –۔جہاں جدید ٹیکنالوجی ہمارے لئے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے ،وہیں اس کے نقصانات بھی خطرناک ہیں ۔اس نے ہمیں بہت سی لا یعنی فکروں میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس کے استعمال نے معاشرے میں بڑی خرابیاں پیدا کر دی ہیں، اس کے زیادہ استعمال سے ہم جسمانی طور پر تو سماج میں رہتے ہیں، اپنوں کے ساتھ ہوتے ہیں، لیکن اگر بغور دیکھا جائے تو اس نے ہمیں اپنوں کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی ذہنی طور پر سب سےجُدا کر دیا ہے۔ ایسے مسائل جن کے بارے میں پہلے سوچا بھی نہیں جاتا تھا، آج وہ ہر دن کے اخبار کی ہیڈ لائن ہوتے ہیں ۔بے حیائی اور فحاشی کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی نے تو اب انسانوں کے ضمیر کو اتنا مردہ کر دیا ہے کہ انسان بُرائیوں کوبُرائی بھی نہیں سمجھتا، وہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس قدر مستغرق ہو چکا ہے کہ اخلاقیات،محبت،شفقت،ادب اور احترام انسانیت سب بھول کر صرف مشین بن کر رہ گیا ہےـ۔
ایک فرد اپنی ذات سے جس قدر واقف ہوتا ہے، یہ کمپنیاں اس سے اُس کی دلچسپیوںاور پسند و ناپسند سے واقف ہوتی ہیں۔ظاہر ہے کہ یوٹیوب کے اِس وقت تقریبا 5.2 بلین صارفین ہیں ،جو ایک دن میں اوسطا ًایک گھنٹہ ویڈیوز دیکھتے ہیں، حیرت انگیز انکشاف یہ ہے کہ 70 فی صد ویڈیو یوٹیوب کی جانب سے مجوزہ مواد ہوتا ہے۔ ایک فرد اس زعم میں مبتلا ہوتا ہے کہ مجھے اختیار کی پوری آزادی حاصل ہے تاہم حقیقت اس کے برخلاف ہے، آٹو پلے بٹن کے پیچھے تصور ہی یہ ہے کہ آپ کے سوچنے سے پہلے آپ کی دلچسپی سے مطابقت رکھنے والے ویڈیوز کا سلسلہ چلتا رہے،اس حد تک کہ ان کا استعمال لت کی شکل اختیار کر جائے۔ یہ تمام کوششیں فرد کی زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کرنے کے لئے ہیں۔بے شک سوشل میڈیا کا لامحدود استعمال انسانی رویوں میں بڑے منفی اثرات مرتب کرتا ہے، ہر لمحہ مختلف و متضاد خبریں ہم تک پہنچ رہی ہیں۔ ایک آن ہم خوشی کا اظہار کرتے ہیں تو اس کے فوراً بعد کسی غمگین خبر سے سابقہ پڑتا ہے۔
اِن تیزی سے بدلتے ہوئے احساسات و جذبات کا انسانی نفسیات پر گہرا اثر ہوتا ہےاور یہ اثر اس طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ طلاب میں کسی ایک چیز پر توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہےاور کتابوں کا مطالعہ کرنا ممکن نہیں رہتا، انسان کا ذہن ہر آن نئے مواد کی تلاش میں رہتا ہے ،ایک موضوع پر دیر تک غور و فکر کرنا مشکل ترین عمل بن جاتا ہے۔چنانچہ چند مہینے قبل ہی واٹس اَیپ نے اپنے قوانین میں کچھ تبدیلی کرنے کا اعلان کیا۔یہ تبدیلی ایسی تھی جس کی وجہ سے یوزر کی پرائیویسی کو خطرہ لاحق ہو گیا، جس کے نتیجہ میں لوگ واٹس ایپ کی جگہ دوسرا پلیٹ فارم تلاش کرنے لگے، جہاں ان کی پرائیویسی محفوظ ہو۔
لیکن کیا ایک پلیٹ فارم سے دوسرے پلیٹ فارم کی طرف منتقلی اس مسئلہ کا مستقل حل ہے؟ اس پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ کوئی بھی پلیٹ فارم ایسا نہیں ہے، جس پر صد فیصد اعتماد کیا جائے، صورت حال یہ ہے کہ انسان کسی نہ کسی درجہ میں روبوٹ کی حیثیت کرتا چلا جا رہا ہے، جس کی چابی اُن افراد کے ہاتھوں میں ہے جو ٹیکنالوجی اور اس میں موجود ڈیٹا محفوظ رکھتے ہیں۔اس لیے ضرورت ہے کہ محض ایک پلیٹ فارم سے دوسرے پلیٹ فارم کی طرف منتقلی کی فکر سے آگے بڑھ کر ٹیکنالوجی کے متعلق تنقیدی مطالعہ کی جانب توجہ مبذول کی جائے اور ٹیکنالوجی کے فلسفہ کو سمجھنے کی کوشش کی جائے، انسانیت، آدمیت اور آزادی ٔفرد جیسے بنیادی سوالات کو موضوع بحث بنایا جائے۔