ڈوڈہ //یل جی انتظامیہ عوام کی دہلیز تک بنیادی سہولیات فراہم کرنے و جسمانی طور پر معذور افراد کو ہر ممکن مدد کرنے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن زمینی حقائق پر ان دعوو¿ں کا کوئی خاص ردعمل دکھائی نہیں دیتا ہے۔ادھر ڈوڈہ کی تحصیل چلی پنگل کے دیہی ترقی بلاک جکیاس میں پانچ بچوں کے نابینا والد نے 2019-20 مالی سال کے دوران 14th ایف سی کے تحت ڈیڑھ لاکھ روپے کی لاگت سے محکمہ نے ٹنکی تعمیر کروائی لیکن دو سال کے دوران بل حاصل کرنے کی غرض سے بی ڈی او دفتر جکیاس و متعلقہ جے ای کے پاس سینکڑوں چکر کاٹے مگر تاحال رقم ادا نہ کی گئی۔ گذشتہ دنوں جب محمد اسحاق ملک ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ کے سامنے پیش ہوا اور ساری روداد سنائی جس کے بعد انہوں نے اے سی ڈی سے معاملہ کی چھان بین کرنے و متاثرہ شخص کو اس کا حق دینے کی ہدایت کی۔اے سی ڈی نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے بی ڈی او اور اس نے سیکرٹری پنچائت سے بل ادا کرنے کا کہا۔کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے محمد اسحاق نے کہا کہ گذشتہ روز وہ اس غرض سے بی ڈی او دفتر جکیاس گیا تو وہاں یہ سن کر انہیں مایوسی ہوئی کہ پنچائت جکیاس اے میں 14th ایف سی کے تحت بیس لاکھ کی بلیں مذکورہ سرپنچ و پنچائت سیکرٹری نے نکالی ہیں اور اب فنڈس دستیاب نہیں ہیں۔ محمد اسحاق نے کہا کہ بی ڈی او انہیں اکیس ہزار روپے دینے پر آمادہ ہوا لیکن میں نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کیا کہ میرا کام ڈیڑھ لاکھ روپے کا ہے میں اکیس ہزار کیوں لوں۔ محمد اسحاق نے الزام عائد کیا کہ پیشگی رقم ادا نہ کرنے پر جونیئر انجینئر نے بل تاخیر سے بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پانچ بچوں کا باپ ہے اور ماہانہ ایک ہزار پنشن پر گھر کا خرچ چلا رہا ہے لیکن مذکورہ سرپنچ و محکمہ دیہی ترقی کے ملازمین نے اس کے ساتھ ناانصافی کی جسکی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے محمد اسحاق نے لیفٹیننٹ گورنر و ڈپٹی کمشنر و ایس ایس پی ڈوڈہ سے انصاف دینے کی مانگ کی۔اس معاملہ کو لے کر جب کشمیر عظمیٰ نے سرپنچ پنچائت جکیاس اے ظفراللہ فراش سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پنچائت کے اکاو¿نٹ میں بیس لاکھ روپے موجود ہیںلیکن بی ڈی او رقم دینے سے منع کر رہا ہے۔ اس ضمن میں جب بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر جکیاس سنجیو کوتوال سے رابطہ کیا تو انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ مذکورہ سرپنچ و پنچائت سیکرٹری نے بیس لاکھ روپے کی بلیں 14th ایف سی میں نکالی ہیں اور اب فنڈس کی کمی ہے تاہم انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ وہ سرپنچ و پنچائت سیکرٹری کو اجرت دینے سے منع کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنچائت اکاو¿نٹ میں جمع رقم بیک ٹو ولیج و دیگر اسکیموں لئے آئی ہے اور وہ اس کام کے عوض نہیں دے سکتے ہیں۔اے سی ڈی ڈوڈہ محمد ادریس لون نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہ معاملہ کی چھان بین کرکے متاثرہ شخص کو انصاف فراہم کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔