یو این آئی
نئی دہلی/کچھ معرکے جیتے نہیں جاتے ، بلکہ اپنی بقا کی جنگ بن جاتے ہیں۔ تاریخ کے سینے پر نقش وہ دوپہر بھی ایسی ہی تھی جب کھیل کے قواعد پیچھے رہ گئے اور انسانی ہمت کی ایک نئی لکیر کھینچی گئی۔یکم جولائی 2014 کی وہ تپتی دوپہر محض ایک کھیل نہیں تھی، بلکہ بیلجیئم کے طوفانی حملوں اور ایک تنہا انسان کے درمیان کھڑی “فولادی دیوار” کا قصہ تھا۔ سلواڈور کے میدان میں جب بیلجیئم کے سورما ایک کے بعد ایک وار کر رہے تھے ، تو وہاں کوئی گول کیپر نہیں، بلکہ امریکی گول کیپر ٹم ہاورڈ کے روپ میں ایک ایسی مزاحمت کھڑی تھی جو ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ اس دن یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا تھا کہ وہ ایک گوشت پوست کا انسان ہے یا فولادی دیوار۔برازیل کے ‘ارینا فونٹے نووا’ میں اسٹیج ایک نابرابر جنگ کے لیے سج چکا تھا۔
ایک طرف بیلجیئم کی ‘گولڈن جنریشن’ تھی-ایڈن ہازارڈ، کیون ڈی بروئن اور ونسنٹ کمپنی جیسے جادوگر، جن کے پیروں میں فٹ بال کا سحر تھا۔ دوسری طرف امریکہ تھا، جس کے پاس ٹوٹنے والے حوصلے کے سوا کچھ نہ تھا۔ اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں تماشائی اس المیے سے بے خبر تھے جو اس سبزہ زار پر رقم ہونے والا تھا۔ریفری کی پہلی وہسل کے ساتھ ہی بیلجیئم کا لشکر ٹوٹ پڑا۔ کبھی باکس کے اندر سے ، کبھی دور سے ، کبھی دائیں سے تو کبھی بائیں سے ،امریکی خیمے پر حملوں کی لہریں ایک کے بعد ایک آتی رہیں۔ بیلجیئم کی جیو میٹرک پاسنگ اور بجلی جیسی رفتار کے سامنے امریکی دفاع کسی طوفان میں پھنسی بوسیدہ کشتی کی مانند دکھائی دے رہا تھا۔پہلا زوردار شاٹ دور سے آیا، جس کی رفتار اور زاویہ بالکل درست تھا، لیکن ہاورڈ کے ہاتھ وقت سے بھی تیز نکلے ۔ انہوں نے چھلانگ لگائی اور گیند کو ایسے دھکیل دیا جیسے وہ کوئی خطرہ ہی نہ ہو۔ اس ایک لمحے نے واضح کر دیا کہ آج کی کہانی مختلف ہوگی۔لو شاٹس، ہیڈرز، اچانک ماری گئی والیز گول کی طرف بڑھتی ہر گیند جیسے التجا کر رہی تھی کہ “مجھے اندر جانے دو”، مگر ہر بار ایک شخص نے اس التجا کو مسترد کر دیا۔ ہاورڈ کا جسم اب صرف جسم نہیں رہا تھا، بلکہ وہ حیرت انگیز اضطراری حرکات کی ایک مشین بن چکا تھا۔اسٹیڈیم میں پہلے تالیاں گونجیں، پھر خاموشی چھا گئی اور پھر کمنٹیٹر کی حیرت زدہ آواز،ایک اور سیو! ہاورڈ پھر سامنے آ گئے !” ہر کوئی یہی پوچھ رہا تھا کہ ایک انسان یہ سب کتنی بار کر سکتا ہے ؟نوے منٹ بیت گئے ، اسکور بورڈ ساکت رہا، جیسے ہاورڈ نے وقت کو ہی منجمد کر دیا ہو۔ لیکن فٹ بال انسانوں کا کھیل ہے اور معجزے بھی تھک جاتے ہیں۔ ایکسٹرا ٹائم میں وہ دیوار بالآخر درک گئی۔ کیون ڈی بروئن اور پھر رومیللو لوکاکو نے اپنی طاقت کے زور پر گیند کو جال میں پہنچا دیا۔ حقیقت لوٹ آئی تھی، لیکن ہاورڈ کی آنکھوں میں اب بھی شکست کا نشان نہ تھا۔فائنل وہسل بجی تو اسکور بورڈ نے ایک کہانی سنائی، مگر تماشائیوں کے دلوں میں دوسری کہانی لکھی جا چکی تھی۔16 سیوز ،یہ محض ایک عدد نہیں ہے ، بلکہ اس کے اندر سانس روک دینے والے وہ لاتعداد لمحات چھپے ہیں جہاں ایک تنہا شخص نے ناممکن کو چیلنج کیا تھا۔ٹم ہاورڈ اس دن میچ ہار گئے ، لیکن وہ فٹ بال کی اس دیومالائی داستان کا حصہ بن گئے جہاں ایک انسان انسانی دیوار کہلایا۔