نیویارک//سال2020کے امریکی انتخابات ہمیشہ یاد رہیں گےاور انہیں کسی اچھے کے لئے یاد نہیں رکھا جائے گا بلکہ ان کو صدر ٹرمپ کی شکست نہ قبول کرنےکے رویہ کے لئے زیادہ یاد رکھا جائے گا۔ صدر ٹرمپ انتخابات سے قبل اور نتائج آنے کے بعد بھی اس بات کو ماننے کےلئےتیار نہیں ہیں کہ وہ ہار بھی سکتےہیں اور ابھی بھی ان کی ہر ممکن کوشش ہے کہ ان انتخابی نتائج کو کسی طرح غلط اور غیرقانونی قرار دلادیں۔دوسری جانب ان کوبڑا جھٹکا اس وقت لگا جب سبکدوش ہونے والے امریکی نائب صدر مائیک پینس نے صدارتی انتخاب میں جو بائیڈن کی جیت کے پارلیمنٹ کے سرٹیفکیٹ کو کالعدم قرار دینے کے لئے قانونی کارکن لوئس گوہارٹ کےزیر قیادت شروع کئے گئے قدام کی حمایت کرنے سے انکار کردیا ہے۔ مسٹر گوہارٹ اور ریاست ایریزونا سے تعلق رکھنے والے 11 ووٹروں نے عدالت میں ایک مقدمہ دائر کیا جس میں یہ دعوی کیا گیا کہ صرف مسٹر پینس کو ان ووٹروں کا تعین کرنے کا حق ہونا چاہئے جن کے ووٹ کانگریس کو جائیں گے۔مسٹر پینس کے خلاف منگل کو دائر ایک نئے مقدمے میں استغاثہ نے کہا کہ انہوں نے قانونی چارہ جوئی کے بغیر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی حمایت حاصل نہیں ہو سکی جس کے بعد عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔استغاثہ کے وکیل نے معاہدے کے ذریعہ قانونی مسائل کو حل کرنے کی ایک مثبت کوشش قرار دیا جس میں نائب صدر کے وکیل کو مشورہ دینا بھی شامل تھا۔