پلوامہ//جموں و کشمیر میں سرکار کی جانب سے ٹرانسپورٹ کرایہ میں اضافے کے اعلان کے ساتھ ہی سب ضلع ترال کے غریب بچے اور ان کے والدین سخت پریشانیوں میں مبتلا ہوئے ہیں ۔ترال کے کئی علاقے پہلے ہی بس اور منی بس سروس سے محروم ہے۔لوگوں کو خدشہ ہے کہ بس سروس کی عدم دستیابی کی وجہ سے انہیں مزید مسائل سے دوچار ہونا پڑے گا ۔ترال کے نارستان علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ نے بتایا کہ ان کا والد ایک مزدور ہے جبکہ وہ بھائی بہن ترال کے دو بڑے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں اور انہیں سومو میں آنے جانے میں فی کس ایک سو روپے کرایہ روزانہ لگتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ کرایہ میںمزید اضافے کی وجہ سے ان کا والد سومو کرایہ ادانہیںکرپائیںگے ۔ستورہ کے ایک شہری فاروق احمد نے بتایا کہ اگر ترال کے دور افتادہ علاقوں کو بس سروس شروع نہیں کی گئی تو 50فیصد غریب بچوںکو کالج پہنچنے میںمشکلات درپیش ہونگے ۔کارملہ سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے بتایا کہ وہ پہلے ہی کئی کلو میٹر پیدل سفر کرنے کے بعد سومو کا کرایہ ادا کرنے کے لائق ہوتے تھے اوراگر کرایہ میں کمی نہیں ہوئی تو وہ مزید مسائل سے دوچار ہونگے ۔لوگوں کے مطابق ستورہ،نارستان،آری پل،ناگہ بل،کہلیل،بٹ نوراور جواہر پورہ لام جیسے علاقوںکو چند سال پہلے تک بس اور منی بس سروس جا ری تھی لیکن وہ بعد میں اچانک بند ہوئی جس کی وجہ سے غریب مسافروں کو انتہائی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کرایہ میں اضافہ کرنا سومو ڈارئیوروں کی مجبوری بن گئی ہے تاہم سرکاربس سروس چلاکر لوگوں کے مسائل حل کرسکتی ہے۔عوامی حلقوں نے سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کو مقامی روٹوں پر چلانے کے علاوہ ہر علاقے میں بس سروس کو شروع کیا جائے ۔