جموں//ولر،ڈل،نگین، مانسبل ،سناسر جھیلوںاور پورمنڈل گائوں کومحفوظ آب گاہیں قرار دیاجائے۔یہ ہدایات یہاں چیف سیکریٹری وی وی آر سبھرامنیم نے جموں وکشمیر ویٹ لینڈ اَتھارٹی کی پہلی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے ویٹ لینڈوں کے تحفظ اور انتظام کی حکمت عملی طے کرنے کے دوران دیں۔میٹنگ میں محکمہ مال ، دیہی ترقی ، مکانات و شہری ترقی ،زرعی پیداوار اور کسان بہبود ، جنگلات و ماحولیات ، جل شکتی اور سیاحت کے اِنتظامی سیکرٹریوں کے ساتھ پرنسپل چیف کنزرویٹر جنگلات ، ناظم محکمہ ماحولیات و ریموٹ سنسنگ ، سیکرٹری جموںوکشمیر پولیوشن کنٹرول بورڈ اور ویٹ لینڈ اَتھارٹی کے دیگر غیر سرکاری ممبران نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے محکمہ جنگلات کو ہدایت دی جو ویٹ لینڈ میں ڈیجیٹل انوینٹری کی تیاری ، دستاویزات اور جیو مقامی ڈیٹا بیس کی تیاری کا نوڈل محکمہ ہے کہ جموں وکشمیر کے مختلف ویٹ لینڈ کی پروفائلنگ کرنے اور اس کے بعد انوویشنمنٹ انوائرمنٹ پروٹیکشن ایکٹ 1986 اور ویٹ لینڈ (کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ) قواعد 2017 کے تحت تجویز کریں۔محکمہ سے کہا گیا ہے کہ وہ ویٹ لینڈوں اور ان کے اثر و رسوخ کے زون میں سرگرمیوں کے ضابطے کی حکمت عملی تیار کرے۔ اس کے علاوہ آبی وسائل کے پائیدار استعمال کیلئے تحفظ کے منصوبوں کی بھی سفارش کرے۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ جموں و کشمیر میں کل 3,754 آبی ذخائر موجود ہیں جن کو مختلف محکموں اور ایجنسیوں کے تحت کنٹرول کیا جارہا ہے جن میں جنگلات ، وائلڈ لائف ، سوئیل اینڈ واٹر کنزرویشن اور مقامی حکومت کے ادارے شامل ہیں۔چیف سیکرٹری نے محکمہ جنگلات پر زور دیا کہ وہ قواعد و ضوابط سے متعلق دفعات کے مطابق تحفظ کیلئے ویٹ لینڈوں کی شناخت کریں۔ ہدایات جاری کی گئیں کہ ولر ، ڈل ، نگین ، سناسر، مانسبل جھیلوں اور پور منڈل کو بطور پروٹیکٹ ویٹ لینڈس کنزرویشن میں لایا جائے۔