محمد عرفات وانی
پہاڑوں کے دامن میں واقع ایک پرانا گاؤں ڈاڈسرہ اپنی خاموش فضا اور دھند میں لپٹی ہوئی صبحوں کے لئے جانا جاتا تھا۔ وہاں ایک پرانا گھر تھا جس کے بارے میں لوگ کہتے تھے کہ اس میں وقت ٹھہر گیا ہے۔ نہ وہاں ہنسی کی آواز آتی تھی نہ زندگی کی کوئی گونج۔ اسی گھر میں ایک شخص رہتا تھا، حامد استاد جو کبھی اسی گاؤں کا سب سے مشہور معلم تھا مگر اب وہ صرف ایک سایہ تھا جو دیواروں سے باتیں کرتا تھا۔
حامد استاد کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ لفظوں سے دل بدل دیتا تھا۔ اس کے شاگرد آج بڑے بڑے عہدوں پر تھے مگر وہ خود تنہائی کے سب سے نچلے درجے پر پہنچ چکا تھا۔ اس کی بیوی چند سال پہلے وفات پا چکی تھی اور اس کا بیٹا علی اچانک گھر چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ نہ کوئی خط نہ کوئی خبر۔ صرف ایک سوال کہ کیا وہ زندہ بھی ہے۔
ایک سرد رات جب گاؤں پر گہری دھند چھائی ہوئی تھی حامد استاد کے دروازے پر زور دار دستک ہوئی۔ وہ چونک گیا۔ اس گھر میں برسوں سے کوئی نہیں آیا تھا۔ ہاتھ کانپتے ہوئے اس نے دروازہ کھولا۔ سامنے ایک شخص کھڑا تھا، چہرہ تھکا ہوا، کپڑے بھیگے ہوئے مگر آنکھیں… وہ آنکھیں کسی پرانے درد سے واقف لگ رہی تھیں۔ وہ بغیر کچھ کہے اندر داخل ہو گیا۔
حامد نے کانپتی آواز میں پوچھا کہ تم کون ہو اور اس ویرانے میں کیوں آئے ہو….اجنبی نے آہستہ سے کہا کہ میں کسی کو ڈھونڈ رہا ہوں… شاید آپ اسے جانتے ہوں… یہ کہتے ہوئے اس نے جیب سے ایک پرانی تصویر نکالی۔ تصویر دیکھ کر حامد کے ہاتھ سے چائے کا کپ گر گیا۔ اس تصویر میں اس کا بیٹا علی تھا۔
کہانی ماضی میں چلی جاتی ہے۔ علی ایک ذہین مگر باغی مزاج نوجوان تھا۔ وہ اپنے باپ کی سخت اصولی زندگی سے تنگ تھا۔ ایک دن وہ یہ کہہ کر چلا گیا کہ میں اپنی تقدیر خود لکھوں گا۔ حامد نے اسے روکنے کی کوشش کی مگر وقت نے فیصلہ سنا دیا تھا۔ اس دن کے بعد گھر میں خاموشی اتر آئی۔
اجنبی نے اپنا نام سلیم بتایا اور کہا کہ وہ علی کے ساتھ بیرون شہر ایک حادثے میں تھا۔ حادثے کے بعد سب کچھ بدل گیا… علی لاپتہ ہو گیا تھا… مگر اس نے مرنے سے پہلے ایک خط دیا تھا… اور کہا تھا کہ یہ اس کے باپ تک پہنچایا جائے… یہ سن کر حامد کے اندر زمین ہلنے لگی۔
سلیم نے وہ خط نکالا مگر دینے سے پہلے رک گیا۔ اس نے کہا کہ اس خط میں کچھ ایسا ہے جو آپ کی پوری زندگی بدل سکتا ہے…حامد کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ خط ہاتھ میں آتے ہی اس کی آنکھیں دھندلا گئیں۔ خط میں لکھا تھا کہ ابو… میں زندہ ہوں مگر میں واپس نہیں آ سکتا… کیونکہ سچ بہت بھاری ہے…
سلیم نے آہستہ سے سچ بتایا کہ علی حادثے میں مر نہیں گیا تھا بلکہ ایک ایسے مسئلے میں پھنس گیا تھا جس نے اس کی شناخت چھین لی تھی۔ وہ ایک نئے نام سے زندہ تھا مگر اپنے باپ سے دور۔ اصل صدمہ یہ تھا کہ وہ بار بار گھر آنے کی کوشش کرتا رہا مگر ہر بار کوئی نہ کوئی رکاوٹ اسے روک دیتی۔
حامد استاد زمین پر بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ بار بار یہی کہہ رہا تھا کہ میں نے اسے سمجھنے میں دیر کر دی… وقت نے مجھے ہرا دیا… سلیم خاموش تھا مگر اس کی خاموشی بھی روتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ باہر بارش شروع ہو چکی تھی جیسے آسمان بھی اس کہانی پر سوگ منا رہا ہو۔
رات کے آخری لمحے میں سلیم نے دروازے پر جاتے ہوئے کہا کہ علی واپس آ سکتا ہے… مگر وقت واپس نہیں آئے گا…صبح جب سورج نکلا، حامد استاد کھڑکی کے پاس بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں وہ خط تھا اور آنکھوں میں ایک نئی سمجھ۔ اس نے آہستہ سے کہا کہ وقت کے زخم انسان کو توڑتے نہیں… بلکہ اسے حقیقت سے ملا دیتے ہیں…
���
کچھمولہ ترال پلوامہ کشمیر ،موبائل نمبر؛9622881110