۔10سے زائد دیہات کی ہزاروں کنال زرعی اراضی سیراب کرنے کیلئے پروجیکٹ تیار کرنے کی مانگ
رمیش کیسر
نوشہرہ// نوشہرہ تحصیل کے سرحدی گاؤں کلائی کے مقامی لوگوں نے ریاستی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ان کے گاؤں میں آبپاشی کے لئے ایک بڑی نہر کی منظوری دی جائے، جس سے نہ صرف کلائی بلکہ اس کے ملحقہ 10 سے زائد دیہات کے کسانوں کو فائدہ پہنچے گا۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس نہر کے ذریعے ہزاروں کنال زرعی اراضی کو سیراب کیا جا سکتا ہے، جس سے علاقے میں زرعی پیداوار اور کسانوں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔واضح رہے کہ گاؤں کلائی بھارت-پاکستان حقیقی کنٹرول لائن کے قریب واقع ہے اور مناؤر دریا کے کنارے آباد ہے۔ مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ اس دریا کا پانی اگر منظم طریقے سے آبپاشی کے لئے استعمال میں لایا جائے تو کلائی، دبوڑا، جابا، بیری پتن، سیال، سیری، گگروٹ، کلال اور ڈینگ سمیت دیگر دیہاتوں کے کسانوں کی زرعی زمین سیراب ہو سکتی ہے۔علاقہ مکینوں نے بتایا کہ اس وقت یہاں کے کسان مکمل طور پر قدرتی بارش پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر بارش بروقت ہو جائے تو فصل کی پیداوار بہتر ہوتی ہے، لیکن اگر بارش نہ ہو تو فصلیں خشک سالی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ گزشتہ سیزن میں گندم کی فصل بھی شدید سوکھے کی نذر ہو گئی تھی کیونکہ تقریباً چھ ماہ تک بارش نہیں ہوئی، جس سے کسانوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔مقامی افراد کے مطابق اگر کلائی گاؤں میں گریوٹی پر مبنی آبپاشی نہر کی منظوری دی جاتی ہے تو ہزاروں کسانوں کی روزی روٹی مستحکم ہو سکتی ہے۔ اس نہر کے ذریعے نہ صرف بارانی فصلیں محفوظ ہوں گی بلکہ وہ فصلیں بھی بہتر پیداوار دیں گی جو عام طور پر بارش نہ ہونے کی وجہ سے تباہ ہو جاتی ہیں۔مقامی لوگوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کلائی گاؤں میں ایک بڑی آبپاشی نہر کی تعمیر کو ترجیحی بنیادوں پر منظور کیا جائے تاکہ 10 سے زائد دیہات کے ہزاروں کسان اس منصوبے سے مستفید ہو سکیں اور سرحدی علاقے کی معاشی حالت میں بہتری آ سکے۔