مینڈھر //بہت بڑی آبادی والا مینڈھر کا گلہوتہ علاقہ سرکار اور انتظامیہ کی نظرو ں سے اوجھل ہے ۔مقامی لو گ عدم توجہی کاشکا ر بن کر ہر قسم کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ۔یہ علاقہ تین پنچایتوں پر مشتمل ہے تاہم ابھی تک حکومت کی طرف سے اس میں صرف ایک ہائی سکول قائم کیاگیاہے اوراسی طرح سے ایک پرائمری ہیلتھ سنٹر بھی چل رہاہے لیکن اس کا قیام ہرنی کے نام پر ہے۔مقامی لو گو ں کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی آبا دی والے علاقے کیلئے کوئی بڑاہسپتال اور ہائراسکینڈری درجہ کا سکول نہ ہونا افسوسناک ہے اورجہاں مریضوں کو بنیادی سطح پر علاج کی سہولت نہیں ملتی وہیں طلباء کو ہائراسکینڈری سطح کی تعلیم کیلئے کئی کلو میٹر دور ہرنی جاناپڑتاہے ۔انہوںنے کہاکہ ہائی سکول کیری کا نگڑا بہت پر انا ہے جس کا درجہ بڑ ھا کراسے ہائراسکینڈری کیاجائے تاکہ طلباء آرام سے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں کیو نکہ ہرنی آنے جانے میں ان کا وقت ضائع ہورہاہے اور کئی طالبات اپنی تعلیم چھوڑ دینے پر مجبور ہوجاتی ہیں ۔ لو گو ں کا مز ید کہنا تھا کہ محکمہ پی ایچ ای کی کارکردگی بہت ہی مایوس کن ہے اور پانی کی سکیمیں بند پڑی ہیں جن کی جانب ملازمین کوئی دھیان نہیں دے رہے ۔ انہو ں نے کہا کہ ہائی سکول کیری کے نزدیک نا لہ سے ایک اسکیم کئی بر س قبل شروع کی گئی تھی لیکن لا کھو ں روپے خر چ کر نے کے با وجود یہ مکمل نہیں ہوپائی اور صرف بنیادی سطح پر ہی ٹینک اور ایک کمرہ بنایا گیا ہے اورپا پئیں پڑی پڑی تباہ ہورہی ہیں ۔انہوںنے کہاکہ یہ محکمہ کی طرف سے انتہائی درجہ کی لاپرواہی برتی جارہی ہے جس کی وجہ سے لوگ پانی کی ایک ایک بوند کیلئے ترستے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ کئی بر س گز ر جانے کے بعد علا قہ میں سڑکو ں کو کام شروع کیا گیا لیکن ان پر تارکول نہیں بچھایاگیا ۔انہوںنے کہاکہ ہرنی بی جی سڑک کا غذات میں مکمل دکھائی جارہی ہے لیکن اس کی حالت دیکھنے لائق ہے ۔انہوںنے کہاکہ اس سڑک کی تعمیر پرخرچ ہونے والی رقومات کے حوالہ سے ویجی لینس سے انکوائری کرائی جائے ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ بجلی سپلائی کا حال بھی خراب ہے اور سپلائی کاکوئی شیڈیول نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ان دنوں بچوں کے امتحانات چل رہے ہیں اور انہیں بجلی نہیں ملتی ۔ ان کاکہناہے کہ مقامی لوگ بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات بھری زندگی بسر کررہے ہیں اس لئے فوری طور پر اقدامات کرکے بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے۔