سرینگر اور بڈگام میں 190کروڑ کے شہری ترقیاتی پروجیکٹوں کا آغاز
سرینگر// وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کل سری نگر اور بڈگام اَضلاع میںزائد اَز 190 کروڑ روپے کے بنیاد ی ڈھانچے اور دریا کے تحفظ کے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا جو شہری تبدیلی اور ماحولیاتی دیرپائی کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ یہ منصوبے پانچ حلقوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور شہری خوبصورتی، دریائے جہلم کے آلودگی کے خاتمے اور دودھ گنگا کے لئے جدید سیوریج ٹریٹمنٹ انفراسٹرکچر پر مرکوز ہیںجو شہری سہولیات کو بہتر بنانے، ماحولیاتی لحاظ سے بڑھانے اور آبی ذخائر کی بحالی کے لئے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے رعناواری میںبابُ السلطان العارفین کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا جو کہ رعناواری چوک میں فنکارانہ خطاطی کے ساتھ شہر کا ایک تاریخی گیٹ وے ہے۔ یہ منصوبہ پی ڈبلیو ( آر اینڈ بی) کے ذریعے 130لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا اور تاریخی علاقے کی جمالیاتی اور ثقافتی شناخت کو اُجاگر کرے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ گیٹ وے نہ صرف علاقے کو خوبصورت بنائے گا بلکہ اس کی روحانی اور ثقافتی اہمیت کو بھی نمایاں کرے گا۔اُنہوں نے براری نمبل منور آباد میں ژونٹھ کوہل اور گائوکدل میں جہلم دریا کی آلودگی کم کرنے اور اس کے تحفظ کے لئے ایک بڑے ماحولیاتی منصوبے کی بنیاد بھی رکھا۔ یہ منصوبہ مکانات و شہر ترقیاتی محکمہ کے تحت یو اِی اِی ڈِی کے ذریعے 7090.68لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا جس میں ایم ایل ڈِی 8سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) قائم کیا جائے گا تاکہ دریا میں غیرٹریٹمنٹ شدہ اخراج کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکے۔
اِسی مقام پر وزیر اعلیٰ نے دودھ گنگا میں آلودگی پر قابو پانے کے لئے ایچ اینڈ یو ڈِی ڈی ( یو اِی اِی ڈِی) کے تحت سوریج ٹریٹمنٹ کے دو بڑے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا۔ آلوچی باغ سری نگر میں ایک 14 ایم ایل ڈِی ایس ٹی پی (5060.47لاکھ روپے )اور موچھو بڈگام میں ایک 6ایم ایل ڈِی ایس ٹی پی (6772.32 لاکھ روپے) جو چاڈورہ سے باغِ مہتاب تک خشک موسم کے پانی کے بہائو کاٹریٹمنٹ کریں گے اورعلاقے میں سیوریج اور ماحولیاتی تحفظ کو مضبوط کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے مکانات و شہری ترقی محکمہ اور سری نگر میونسپل کارپوریشن پر دباؤ کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ نکاسی آب، سیوریج، سڑکیں، پارکس اور نئی کالونیوں کی ترقی ان کے مینڈیٹ میں آتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا،’’ایک گھنٹے کی بارش اور پورا شہر پانی میں ڈوب جاتا ہے۔ یہ بدلنا چاہیے۔ چاہے مرکزی سکیمیں ہوں، یوٹی کیپکس ، ڈِسٹرکٹ کیپکس یا ایس ایس سی آئی جیسی نئی فنڈنگ سکیمیں، ہمارا مقصد سری نگر کے بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر اَپ گریڈ کرنا ہے۔‘‘وزیر اعلیٰ نے کہا ،’’کئی مہینوں تک بارش نہیں ہوتی، پھر تین دن میں چھ ماہ کی بارش ہو جاتی ہے۔ پانی زمین میں جذب ہونے کے بجائے بہہ جاتا ہے جس سے سیلاب اور پانی کی کمی دونوں پیدا ہوتی ہیں۔ ہمیں ایسا بنیاد ی ڈھانچہ تیار کرنا ہوگا جو بدلتے موسم کو برداشت کر سکے۔‘‘وزیراعلیٰ نے سری نگر کی تاریخی شناخت’’مشرق کا وینس‘‘ یاد دلاتے ہوئے کہا،’’ایک وقت تھا جب لوگ ہماری نہروں سے کشتی کے ذریعے سفر کرتے تھے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہمارے آبی وسائل اس معیار پر بحال ہوں۔ پانی کی معیار بہتر ہو، کمی کم ہو۔‘‘اُنہوں نے شہر کی بھیڑ کو کم کرنے کے لئے بیرونی علاقوں میں منصوبہ بند ہاؤسنگ کالونیوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اُنہوں نے منصوبوں کی تیز رفتار تکمیل کی یقین دہانی کی اور کہا کہ کئی منصوبے افتتاح یا بنیاد رکھنے کے لئے تیار ہیں۔
کرائیس نتھیمم گارڈن
فوٹو گرافی اور ریل مقابلے کے فاتحین کو اعزاز
فوٹو گرافی اور ریل مقابلے کے فاتحین کو اعزاز
عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//وزیراعلیٰ عمر عبد اللہ نے کل سری نگر میں کرائیس نتھیمم گارڈن کی اِفتتاحی تقریبات کے دوران منعقد فوٹوگرافی اور ریل مقابلے کے فاتحین کو اعزاز دیا۔اِس اعزازی تقریب کا اِنعقاد محکمہ فلوری کلچر، گارڈنز اور پارکس نے کیا جس میں شرکأ کو ان کی غیر معمولی تخلیقی صلاحیتوں اور شاندار باغ کی خوبصورتی اور شان و شوکت کو اپنے فن کا مظاہرہ کرنے پر اعزاز سے نوازا گیا۔وزیرِاعلیٰ نے جیتنے والوں کو نقد انعامات کے ساتھ سرٹیفکیٹ آف میرٹ پیش کئے جن میں پہلے انعام کے طور پر 20,000 روپے، دوسرے انعام کے طور پر 10,000 روپے اور ہر زمرے میں 5,000 روپے تیسرے انعام کے طور پر دئیے گئے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا،’’ جب ہمارے نوجوان اپنی صلاحیتوں کو فطرت کی تعریف میں استعمال کرتے ہیں، تو وہ کشمیر کی خوبصورتی اور اقدار کے سفیر بن جاتے ہیں۔ ایسے پلیٹ فارمز تخلیقی اختراع اور ثقافتی اظہار کی تحریک دیتے رہنے چاہیے۔‘‘