جڑی بوٹیوں کے بارے میں عوام میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت
سرینگر//وزیربرائے صحت و طبی تعلیم، سماجی بہبود سکینہ اِیتو نے جموں کے کنونشن سینٹر میں محکمہ آیوش جموں و کشمیر کی جانب سے منعقدہ دسویں قومی یوم آیوروید کی تقریبات سے بذریعہ ورچیول موڈ خطاب کیا۔وزیر موصوفہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آیوروید کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دُنیا کے قدیم اور مؤثر ترین متبادل نظام صحت میں سے ایک ہے۔ اُنہوں نے کہا،’’آیوروید ہندوستان کی ثقافتی حکمت کا مظہر ہے جو ایک ایسا طرزِ زِندگی اور صحت کا ماڈل پیش کرتا ہے جو قدرت سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ اِس برس کا موضوع ’ آیورویدبرائے لوگ اور سیارہ‘ ہمیں یاد دِلاتا ہے کہ اَفراد کی صحت اور ماحول کی صحت لازم و ملزوم ہیں۔ اِس علم کو محفوظ رکھنا اور ہر گھر تک پہنچانا ہماری ذِمہ داری ہے۔اُنہوں نے تمام شرکاء پر زور دیا کہ وہ آیوروید کے فوائد کے بارے میں ایک مؤثر بیداری مہم چلائی جائے تاکہ لوگ اِس سے فائدہ اُٹھا سکیں۔ وزیرصحت نے کہا،’’یہ تقریبات اسی وقت ثمر آور ہوں گی جب آیوروید کے فوائد کا پیغام ہر ضلع، ہر پنچایت اور جموں و کشمیر کے ہر علاقے میں عام لوگوں تک پہنچایا جائے۔‘‘اُنہوں نے مزید کہا کہ آیورویدک اَدویات کے بارے میں زیادہ بیداری نہیں ہے اور اِس جانب توجہ دِلاتے ہوئے کہا کہ لوگوںکو آگاہ کیا جانا چاہیے کہ آیورویدک دوائیوں کے سائیڈ ایفیکٹس عام اَدویات کی نسبت کم ہوتے ہیں۔سکینہ اِیتو نے صحت شعبے میں حکومت کے مختلف اَقدامات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت جدید طبی سہولیات کو دُور دراز اور دیہی علاقوں تک پہنچانے کے لئے پُرعزم ہے۔ اُنہوں نے تمام شرکا پر زور دیا کہ ان سرکاری اقدامات سے لوگوںکو فائدہ پہنچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے کیوں کہ یہی حکومت کا بنیادی مقصد ہے۔ کیونکہ یہی حکومت کا اصل مقصد ہے۔اُنہوں نے محکمہ آیوش جموں و کشمیر کی کاوشوں کو سراہا کہ وہ مسلسل آیوش نظام کو فروغ دے رہے ہیں، لوگوں میں بیداری پیدا کر رہے ہیں اور روایتی نظام صحت کو نوجوانوں کے قریب لا رہے ہیں۔ اُنہوں نے زور دیا کہ مزید عوامی رسائی پروگراموں، استعداد سازی اور صحت سہولیات کا دائرہ جموں و کشمیر کے کونے کونے تک توسیع کیا جائے تاکہ آیوش گھر گھر کا نام بن جائے۔ صوبائی کمشنر جموں رمیش کمار نے اَپنے خطاب میں آیوش کے رول کو سراہتے ہوئے کہا کہ طرزِ زِندگی کی بیماریوں میں آیوش کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اُنہوں نے آیوش کے مضبوط شعبوں جیسے غیر متعدی اَمراض پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔سیکرٹری صحت ڈاکٹر سیّد عابد رشید شاہ نے اپنے ورچیوئل خطاب میں کہا کہ آیوروید ایک ایسا علم ہے جو صرف علاج پر نہیں بلکہ بیماریوں سے بچاؤ، طرزِ زندگی کے اِنتظام اور تندرستی پر زور دیتا ہے۔ اُنہوں نے تحقیق و ترقی، سائنسی توثیق، معیار بندی اوربڑے پیمانے پر عوامی بیداری پر زور دیا تاکہ آیوش کو دُنیا بھر میں قابل قبول نظام بنایا جا سکے۔