ایجنسیز
دبئی/اگرچہ فیفا ورلڈ کپ کا خطاب جیتنا کرسٹیانو رونالڈو کے شاندار کریئر کا بہترین اختتام ثابت ہو سکتا تھا، لیکن ایک ٹرافی کی کمی پرتگال کے لیے دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ان کی غیر معمولی خدمات، کامیابیوں اور متاثر کن سفر کو ہرگز ماند نہیں کر سکتی۔پانچ مرتبہ بیلن ڈی آر جیتنے والے 41 سالہ رونالڈو نے اپنا آخری ورلڈ کپ میچ اس وقت کھیلا جب پرتگال کو پری کوارٹر فائنل میں اسپین کے ہاتھوں 1-0 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اضافی وقت میں اسپین کے متبادل کھلاڑی میکل میرینو کے فیصلہ کن گول نے رونالڈو کا عالمی کپ جیتنے کا آخری خواب بھی ختم کر دیا۔ورلڈ کپ میں آخری بار میدان سے رخصت ہوتے وقت رونالڈو جذباتی دکھائی دیے ، تاہم وہ اپنے بین الاقوامی کریئر پر فخر کر سکتے ہیں، جس نے نہ صرف انہیں بلکہ پورے پرتگال کو بے شمار یادگار لمحات دیے ۔2003 میں رونالڈو کے سینئر بین الاقوامی ڈیبیو سے قبل پرتگال نے کبھی کوئی بڑا بین الاقوامی ٹائٹل نہیں جیتا تھا۔
ٹیم 2000 کی یورپی چیمپئن شپ کے سیمی فائنل تک پہنچی تھی، جہاں فرانس نے اسے شکست دی، جبکہ 1966 کے فیفا ورلڈ کپ میں تیسری پوزیشن ہی اس کی بہترین عالمی کارکردگی تھی۔اگرچہ پرتگال کے پاس باصلاحیت کھلاڑیوں کی کبھی کمی نہیں رہی، لیکن مستقل مزاجی نہ ہونے کے باعث وہ عالمی فٹ بال کی صفِ اول کی ٹیموں میں اپنی جگہ مستحکم نہیں بنا سکا تھا۔رونالڈو ایسے وقت میں قومی ٹیم کا حصہ بنے جب پرتگال اپنی شناخت بنانے کی جدوجہد کر رہا تھا۔ اگلے دو عشروں میں انہوں نے پرتگال کو صرف باصلاحیت ٹیم سے نکال کر عالمی فٹ بال کی مضبوط اور مستقل دعوے دار ٹیموں میں شامل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔رونالڈو کی آمد کے بعد پرتگالی فٹ بال کی تاریخ کا کامیاب ترین دور شروع ہوا۔ ان کی قیادت میں ٹیم 2004 کی یورپی چیمپئن شپ کے فائنل تک پہنچی، جہاں اسے اپنے ہی میدان پر یونان کے ہاتھوں شکست ہوئی، تاہم یہ ناکامی سنہری دور کے خاتمے کے بجائے ایک ایسے عہد کا آغاز ثابت ہوئی جس میں پرتگال عالمی فٹ بال کی ایک طاقتور ٹیم بن کر ابھرا۔