یو این ایس
سرینگر//کشمیر کے صدیوں پرانے لکڑی کے فنِ تعمیر ‘‘ختم بند’’ کی مانگ مشرقِ وسطیٰ سمیت بیرونِ ملک تیزی سے بڑھ رہی ہے، جسے مقامی کاریگر ایک خوش آئند پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ بین الاقوامی طلب میں اضافے کے باعث کئی ماہر کاریگر نئی نسل کو اس نایاب ہنر کی باریکیاں سکھا رہے ہیں، تاہم خام مال کی شدید قلت، لکڑی کی نیلامی کا نظام ختم ہونا اور نقل و حمل میں رکاوٹیں اس فن کے مستقبل پر سوالیہ نشان بن چکی ہیں۔یو این ایس کے مطابق ختم بند کشمیری لکڑی کے فن میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے، جس میں دیودار یا اخروٹ کی لکڑی کے باریک اور تراشیدہ ٹکڑوں کو جیومیٹریکل نمونوں میں بغیر کیل یا مشین کے جوڑ کر چھتیں تیار کی جاتی ہیں۔ یہ فن نہ صرف جمالیاتی حسن رکھتا ہے بلکہ شدید سردی میں قدرتی انسولیشن بھی فراہم کرتا ہے۔تاریخی حوالوں کے مطابق، اس فن کو چودہویں صدی میں حضرت شاہِ ہمدانؒ کے ساتھ ایران سے آئے کاریگروں نے کشمیر میں متعارف کرایا، جسے بعد ازاں سولہویں صدی میں مرزا حیدر دولت بیگ نے سرپرستی دے کر پورے کشمیر میں فروغ دیا۔
آج بھی یہ فن مکمل طور پر ہاتھ سے تیار کیا جاتا ہے، جو اس کی قدر و قیمت میں مزید اضافہ کرتا ہے۔محمد شفیع ککرو، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے ختم بند سے وابستہ ہیں، کہتے ہیں کہ بیرونِ ملک مانگ کے باوجود کاریگروں کو خام مال کی شدید قلت کا سامنا ہے۔انہوں نے بتایا’’لکڑی کی نیلامی کا نظام تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ ہمیں کھلی منڈی سے مہنگی اور غیر معیاری لکڑی خریدنی پڑتی ہے، جبکہ درست دستاویزات کے باوجود نقل و حمل کے دوران ہمیں بار بار روکا اور ہراساں کیا جاتا ہے۔‘‘کاریگروں کے مطابق، ماضی میں محکمہ جنگلات کے ذریعے بالن کے لیے فراہم کی جانے والی لکڑی میں سے معیاری حصے منتخب کیے جاتے تھے، مگر اب وہ ذریعہ بھی تقریباً ناپید ہو چکا ہے۔خالد احمد نجار کا کہنا ہے کہ حکومت ایک سال کے نام پر لکڑی کا کوٹہ دیتی ہے، مگر عملی طور پر یہ صرف دو ماہ کے لیے کافی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا’’اگر حکومت واقعی اس مرتے ہوئے ہنر کو بچانا چاہتی ہے تو ہمیں مناسب نرخوں پر خام مال، آسان قرضے اور مستقل پالیسی سپورٹ فراہم کرنی ہوگی۔‘‘تاہم، بڑھتی ہوئی مشکلات کے باعث کئی کاریگر اس پیشے سے مایوس بھی ہو رہے ہیں۔ تاشوان سے تعلق رکھنے والے محمد سبحان کہتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو یہ ہنر سکھانے سے گریز کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا’’ہم نے غربت اور عدم استحکام دیکھا ہے، ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے بچے بھی وہی مشکلات جھیلیں۔‘‘یو این ایس کے مطابق تصدق علائی، جو گزشتہ 18 برسوں سے ختم بند سے وابستہ ہیں، کہتے ہیں کہ صرف اس ہنر پر خاندان کا گزارا ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا’’ہم دن میں دوسرے کام کرتے ہیں اور شام یا رات کو ختم بند پر کام کرتے ہیں، کیونکہ مہنگا خام مال اور کم منافع ہمیں مجبور کرتا ہے۔‘‘روایتی طور پر ختم بند کا استعمال درگاہوں، خانقاہوں، شاہی محلات، حویلیوں اور ہاوس بوٹس تک محدود تھا۔ خواجہ نقشبند کا مزار اور خانقاہِ معلیٰ اس فن کے شاندار نمونے ہیں۔ اگرچہ گزشتہ ایک دہائی سے کوئی نئی ہاوس بوٹ تعمیر نہیں ہوئی، مگر آج شہری گھروں میں ختم بند ایک حیثیتی علامت بن چکا ہے۔ اب یہ فن صرف چھتوں تک محدود نہیں بلکہ دروازوں، کھڑکیوں، اسکرینوں اور آرائشی پینلز میں بھی استعمال ہو رہا ہے۔دریش کدل سرینگر کے کاریگر محمد جمال کے مطابق، وقت کے ساتھ اس فن میں کچھ تکنیکی تبدیلیاں آئی ہیں۔انہوں نے کہا’’پہلے لکڑی پر نقش بنانے کے لیے ‘ریکنا’ استعمال ہوتا تھا، جو زیادہ درست تھا، مگر آنکھوں پر منفی اثرات کے باعث اب پنسل استعمال کی جاتی ہے۔ اسی طرح مہنگی لکڑی کی جگہ پلائی فریموں میں استعمال ہو رہی ہے۔‘‘ علی محمد نجار کے مطابق، کشمیر میں ختم بند کے 160 سے زائد روایتی ڈیزائن موجود تھے، مگر اب کاریگر بمشکل 100 کے قریب ڈیزائن ہی بنا پاتے ہیں۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے بتایا’’ہم نئے ڈیزائنوں میں آئینے، رنگوں اور جدید امتزاج کے ساتھ تجربات کر رہے ہیں، تاکہ اس فن کو نئی شناخت دی جا سکے۔‘‘ماہرین کے مطابق، سری نگر کی مدنی مسجد، خانقاہِ معلیٰ اور دیگر تاریخی عمارتیں ختم بند فنِ تعمیر کی زندہ مثالیں ہیں، جہاں کثیرالاضلاع جیومیٹریکل نمونے جیسے مرابہ، کنسوت، سرو، لکوت، بود، بدم اور توبل آج بھی اس فن کی عظمت کی گواہی دیتے ہیں۔اگرچہ عالمی مانگ نے ختم بند کو معدوم ہونے سے بچا لیا ہے، مگر کاریگروں کا کہنا ہے کہ جب تک خام مال کی فراہمی، لکڑی کی نیلامی کی بحالی اور پالیسی سطح پر ٹھوس اقدامات نہیں کیے جاتے، تب تک یہ صدیوں پرانا فن مستقل خطرے میں رہے گا۔