بھدرواہ+ بانہال+کشتواڑ //پوری وادی چناب میں منگل کے روز سے مون سون سے قبل موسلا دار بارشوں کی وجہ سے قومی شاہراہ 1۔بی پر کئی مقامات پر پسیاں گر آنے کی وجہ سے ٹریفک کی آمد و رفت میں خلل پڑی ہے۔تاہم ضلع انتظامیہ نے موسمی حالات کے پیش نظر تعلیمی ادارے بند کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔110کلو میٹر لمبی بٹوت۔ کشتواڑ قومی شاہراہ کو دربشالہ، رگی نالہ اور ڈنسال کے مقامات پر بھاری بارشوں سے شاہراہ پر پسیاں گر آئی ہیں۔ ڈپٹی ایس پی ٹریفک این ا یچ 1بی ذوہیب حسن کے مطابق اگرچہ حُکام نے فوری طور سے شاہراہ کو ٹریفک کے لئے کھول دینے کے لئے بحالی کا کام شروع کیا ہے لیکن لگاتار بارش کی وجہ اور پتھر گر آنے کی وجہ سے اس میں مشکلات آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی مقامات پر ٹریفک کو معطل کیا گیا ہے اور ہم ٹریفک کو بحال کرنے میں کوشاں ہیں لیکن لگاتار بارش کی وجہ سے اس میں دشواری آتی ہے۔انہوں نے مسافروں کو اپنے اپنے مقامات پر جانے سے قبل ٹریفک کنٹرول یونٹس سے تازہ ترین صورتحال معلوم کرنے کی ہدایت دی ہے۔گُذشتہ دو دنوں سے لگاتار ہوئی بارش کی وجہ سے ڈوڈہ اور کشتواڑ اضلاع کے انتظامیہ نے جمعہ کے روزتمام تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ ادھر رام بن میں کئی ندی نالوں میں طغیانی آئی ہے اور سیلابی ریلوں ، زمین کے کٹائو اور کھسکنے کی وجہ سے نقصانات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ شدید بارشوں اور تیز ہوائوں کی وجہ سے ضلع رام بن کے بانہال ، کھڑی ، پوگل پرستان اور گول سنگلدان کے کئی ندی نالوں میں طغیانی آئی ہے اور پانی کی سطح بڑھ گئی ہے ، جس کی وجہ سے کئی علاقوں میںپینے کے پانی کے نلوں، بجلی کی ترسیلی لائینوں اور مہو نالہ پر لکڑی کے ایک پْل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ جبکہ کھڑی کے نزدیک سرن ، منڈکباس علاقے میں ایک سیلابی ریلے کی وجہ سے ریلوے ٹنل نمبر 74 کو تعمیر کرنے والی کمپنی افکان کی ایک گاڑی اور دیگر سامان ملبے کے نیچے دب گیا ہے ۔ زمین کھسکنے کی وجہ سے کھڑی کے تراگن اور باوہ کے علاقے میں کئی رہائشی مکانوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ پنچایت ترگام تحصیل کھڑی کے تراگن علاقے سے تعلق رکھنے والے محمد شریف اور محمد یوسف ٹھاچو ولد احمد اللہ ٹھاچو نے بتایا کہ ان کے دو منزلہ رہائشی مکان کے نیچے سے زمین کھسک رہی ہے جس کی وجہ سے مکانوں کو ڈ یہہ جانے کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے اور ابھی تک کوئی بھی سرکاری ذمہ دار علاقے میں نہیں پہنچا ہے۔ اسی طرح کھڑی کے باوہ علاقے تعلق رکھنے والے گوجر طبقہ سے تعلق رکھنے والے کئی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کھڑی مہو رابطہ سڑک کے برسٹ وال ، پختہ نالیاں اور کلورٹ نہ بنانے کی وجہ سے باوہ کی رہائشی بستی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے اور سڑک کے پانی کی وجہ سے زمین کا کٹائو ہورہا ہے اور باوہ کی پوری بستی کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے حکام سے اس طرف توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔ تاہم ضلع رام بن سے کسی قسم کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ ادھر کشتواڑ سے 25کلو میٹر کی دوری پر درابشالہ کے نزدیک کلگاڑی کے مقام پر پسی گر آنے سے بٹوت ۔کشتواڑ قومی شاہرہ آمد ورفت کیلئے بند ہو گئی ہے۔کلگاڑی کے مقام پر ایک پھر سے پہاڑ سے بھاری چٹانیں گرنے کی وجہ سے سڑک مسدود ہو گئی ہے۔مسافروں نے بتایا کہ سڑک کے بیچوں بیچ بھاری چٹانیں گر آئیں ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ سڑک بحال ہونے میں ابھی وقت لگے گا کیوں کہ پہاڑ سے لگا تار پتھر گر رہے ہیں جس کی وجہ سے اس مقام پر کچھ دیر کیلئے سینکڑوں مسافر در ماندہ ہو گئے ۔تا ہم آر اینڈ بی محکمہ کی بحالی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر سڑک کے اس حصہ کو بحال کردیا۔