پرویز احمد
سرینگر // وادی کشمیر میں عام لوگوں میںسب سے زیادہ معدے کی درد کی شکایت ہوتی ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے اعداد و شمار کے مطابق وادی میں 25فیصد لوگ معدے کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں جن میں معدے کا درد سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ سرینگر اور دیگرضلع و سب ضلع ہسپتالوں کے اعدادوشمار سے یہ بات اخذ کی گئی ہے کہ ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں میں ہر 4افراد میں سے ایک معدے کے درد میں مبتلا ہے۔ معدے کا درد(گیسٹرک پین) عام طور پر تیزابیت، گیس، بد ہضمی یا معدے کی اندرونی جھلی میں سوزش کی وجہ سے ہوتا ہے۔ عام زبان میںیہ معدے اور آنتوں کا چڑچڑا پن ہے جو کسی نہ کسی وجہ سے معدے کی نلی کے اندرونی پٹھوں کی حساسیت کی وجہ سے ہوتی ہے۔اس حساسیت کی وجہ سے پٹھوں اور آنتوں میں درد پیدا ہوتا ہے جو معدے ، چھاتی میں جلن اور بھاری پن کی صورت میں محسوس ہوتی ہے۔ اس کو طبی زبان میں معدے کا درد کہا جاتا ہے۔
معدے کے درد کی وجوہات
معدے کے درد کی 4بڑی وجوہات ہوتی ہیں جن میں تیزآبیت ، قبض، درکش ادویات کا استعمال اور دیگر وجوہات شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ذہنی تنائو ،، سگریٹ نوشی اور طرز زندگی میں تبدیلی کی وجہ سے بھی معدے میں درد ہوتا ہے۔ تیز آبیت معدے میں موجود وہ مائع ہے جو غذا کو ہضم کرتا ہے۔ معدے میں موجود تیزآب کا phایک یا 2ہوتا ہے۔ یہ اتنا تیز ہوتا ہے کہ اگر اس میں کسی دھات کو ڈالا جائے تو وہ پگل جاتا ہے۔جب یہی تیز آب معدے کی نلیمیں چلا جاتا ہے تومعدے میں جلن پیداہوتی ہے۔ معدے کا درد متواتر طور پر درد کُش ادویات کھانے سے ہوتا ہے۔ دردکُش ادویات کے علاوہ کھی کبھی یہ خون پتلا کرنے کی ادویات جیسے Aspirin،Disprinاور دیگر ادویات کا استعمال کرنے سے ہوتا ہے۔ قبض ہونا معدے کی ایک اور بڑی بیماری ہے۔اس سے معدہ اور انتڑیاں دونوں متاثر ہوتے ہیں اور قبض سے آنتوں کے پٹھوں میں سستی آتی ہے۔اس کے علاوہ معدے کے درد کی کچھ عام وجوہات بھی ہوتی ہیں جن میں ناقص خوراک شامل ہیں۔
ناقص خوراک
ضروری مقدار سے زیادہ اور جلدی جلدی کھانے کے علاوہ رات کو دیرسے کھانا ،کھانا بری عادتوں میں تصور کیا جاتا ہے جو معدے کے قدرتی نظام کو تبدیل کردیتا ہے۔ معدے میں ایک مقررہ وقت پر تیزآبیت اورEnsymeپیدا ہوتے لیکن دیر سے کھانا کھانے کی وجہ سے یہ تیزآب اور Enzyme بے کار ہوجاتے ہیں اور کھانہ پھر پور طرح سے ہضم نہیں ہوپاتا ہے۔ مصالحہ دار کھانا معدے کیلئے بہت مضر ہے۔اس سے نظام ہاضم میں تبدیلی آجاتی ہے، تیز آبیت میں اضافہ ہوجاتا ہے جو بالآخر درد میں تبدیل ہوجاتا ہے۔نشہ آور اشیاء اور منشیات کا استعمال،سگریٹ اور شراب نوشی کا استعمال معدے کے درد کی وجہ بنتا ہے۔ سگریٹ نوشی کرنے کی وجہ سے دھواں معدے میں چلا جاتا ہے جہاں و بیکٹریا کے پنپنے کی وجہ بن جاتا ہے۔ شراب نوشی اور منشیات سے نہ صرف معدہ بلکہ لیور بھی آہستہ آہستہ متاثر ہوجاتا ہے۔معدے کے درد کا علاج طرز زندگی میں تبدیلی سے کیا جاسکتا ہے جیسے کم اور وقت پر کھانا ، رات کو کھانے کے بعد دو گھنٹے انتظار کرنا،مصالحہ دار کھانا ترک کرنا، مرچ مصالحے کے استعمال کو کم سے کم کرنے کی عادت ڈالنا،بازاروں میں دستیاب مصالحے ترک کرنا اور روایتی وازوان کا استعمال موزون طریقے سے کرنا شامل ہے۔ ڈاکٹر عادل احمد کہتے ہیں کہ موجود دور پر معدے کے درد کی بڑی وجوہات میں تلی اور آدھی پکائی غذائیں کھانے سے ہوتا ہے۔ ڈاکٹر عادل نے بتایا کہ وادی میں 25فیصد لوگ معدے کے درد میں مبتلا ہیں۔