سرینگر// اچھی صحت کیلئے صفائی کو ضروری قررا دیا جا رہا ہے لیکن شہر سے نکلنے والا ہزاروں ٹن ٹھوس فضلہ نہ صرف دریائے جہلم کی نذر کیا جاتا ہے بلکہ سڑکوں کے کناروں اور گلی کوچوں کے مخصوص جگہوں پر ڈالے جانے والا یہ کوڑا کرکٹ غفونت پھیلنے کا موجب بن رہا ہے اور ایسے حالات میں جب لوگ کورونا وائرس سے لگنے والی بیماریوں سے پریشان ہیں،گندگی کے ڈھیر انکے لئے مزید مشکلات پیدا کررہے ہیں۔ اس وقت جموںوکشمیر میں کورونا وائرس کی وبا ء نے جہاں ہر شعبہ کو متاثر کیا ہے وہیں جان بچانے کی خاطر لوگ نئے نئے جتن بھی کر رہے ہیں۔ اب ماسک کے بغیر ایک پل بھی نہیں رہا جا سکتا لیکن جس طرح حکام صحت وصفائی کے حوالے سے اقدامات کر رہی ہے اس سے لگ رہا ہے کہ آنے والے وقت میں مزید بیماریاں بھی پھیلنے کا اندیشہ ہے ۔نوگام پانتہ چھوک سڑک کے کناروں پر جمع گندگی اور کوڑے کے ڈھیر سے اٹھنے والی بدبو نے ماحول کو آلودہ کر دیا ہے جبکہ ایچ ایم ٹی سے میر گنڈ کے درمیان سڑک کے کناروں پر اگر دیکھا جائے تو وہاں پر اس قدر کوڑاکرکٹ اور ٹھوس فضلہ ڈالا گیا ہے کہ وہاں سے چلنا پھرنا بھی مشکل بن گیا ہے ۔ کوڑا کرکٹ کے انباروں کو ٹھکانے لگانے میں میونسپل حکام خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ محکمہ کے خاکروب لوگوں کے گھروں سے نکلنے والے کوڑا کرکٹ کو رات کے دوران وہاں گاڑیوں میں بھر کر لاتے ہیں اور پھر سڑک کے کناروں پر جمع کردیتے ہیں جس سے نہ صرف بستیوں میں بدبو پھیل رہی ہے بلکہ لوگوں کی آمد و رفت بھی وبال جان بنتی جارہی ہے۔مکینوں کا کہنا ہے کہ اچھن زونی مر میں لوگوں کی جانب سے آواز اٹھانے کے بعد اب سڑک کے کناروں پر ڈالے جانے والے فضلہ کی وجہ سے مکینوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہوا ہے ۔متعلقہ محکمہ کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے میں ناکام ہوا ہے جبکہ سڑک کے دونوں کناروں پرجمع گندگی اورکوڑا کرکٹ سے اٹھنے والی بدبو نے ماحول کو مزید آلودہ کر دیا ہے۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر میں ٹھوس فضلہ ٹھکانے لگانے کیلئے 19کلسٹروں کو منظوری ملی تھی اور شہر سمیت وادی کے اکثر علاقوں میں یہ کلسٹر بنانے کیلئے ڈی پی آر بھی مکمل کر کے اْن کوسرکار سے منظور ملی لیکن کشمیر عظمیٰ کو معلوم ہوا ہے کہ ابھی تک ایک بھی کلسٹر پر کام نہیں ہو سکا ہے جس کی وجہ سے ہر سو غفونت پھیل رہی ہے۔واضح رہے کہ مرکزی سرکار نے چاربرس قبل سابق ریاست کے دیگر قصبوں کے ساتھ ساتھ شہر سرینگر کو بھی ٹھوس فضلہ سے پاک رکھنے کیلئے ایک کلسٹر کو منظوری دی تھی جس کا مقصد لوگوں کے گھروں سے نکلنے والے ٹھوس فضلہ کو سائنسی طور پر ٹھکانے لگانا تھا مگر افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس کام کے متعلق محکمہ کے افسران کو کوئی جانکاری ہی نہیں ہے۔شہر سرینگرمیں فضلہ کو یا تو سڑکوں یا پھر نالوں اور جہلم کی نذر کیا جاتا ہے جس سے کئی طرح کی بیماریاں پھوٹ پڑنے کا اندیشہ ہے اور ساتھ میں پانی بھی آلودہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے شہر کے ہسپتالوں ، دفاتر ، گھروں اور دیگر جگہوں سے روزانہ لاکھوں ٹن ٹھوس فضلہ نکلتا ہے اوراس کو ٹھکانے لگانے کیلئے اگرچہ سرکار بلند بانگ دعویٰ کرتی ہے تو وہیںزمینی سطح پر کچھ اور ہی دکھائی دیتا ہے۔ ماہرین نے کہا کہ نالوں اور دریائوں میں اس کو پھینکے سے نہ صرف پانی آلودہ ہورہا ہے بلکہ اس سے ماحولیات پر بھی کافی بْرا اثر پڑسکتا ہے۔ماہرین نے کہا کہ ٹھوس فضلہ کو کھلے میں پھینکے سے بدبو بھی پھیلتی ہے جس سے کئی طرح کی بیماریاں پھوٹ پڑنے کا اندشیہ رہتا ہے۔