عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی امریکی-اسرائیلی حملے میں ہلاکت کی ایران کے سرکاری میڈیا کی تصدیق کے بعد، اتوار کی صبح سحری کے فورا ًبعد وادی بھر میں ہزار وںلوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔ سرینگر، بڈگام، پلوامہ، بارہمولہ، بانڈی پورہ اور شمالی اور جنوبی کشمیر کے کئی قصبوں کے ساتھ ساتھ لداخ کے کرگل سے بڑے پیمانے پر پرامن احتجاج ہوا۔ مظاہرین نے سوگ میں خامنہ ای کی تصویریں اور سیاہ پرچم اٹھائے ہوئے، امریکہ اور اسرائیل مخالف نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر مارچ کیا۔سرینگر میں، ہزاروں لوگ لال چوک میں جمع ہوئے، جہاں وادی کے مختلف حصوں سے سوگواروں کی آمد کے ساتھ ہی ہجوم بڑھتا رہا۔ شہر کے وسط میں بڑی تعداد میں مظاہرین کے جمع ہونے پر ٹریفک کا رخ موڑ دیا گیا۔ سونہ وار میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر ہزاروں افراد نے دھرنا دیا۔
1 پلوامہ، بڈگام، بانڈی پورہ اور بارہمولہ سمیت متعدد اضلاع میں بڑے ماتمی جلوس نکلے جن میں دونوں مکاتبِ فکر کے لوگ شریک ہوئے۔ بڈگام اور سرینگر میں سیاہ پٹیاں باندھے نوجوانوں نے غم و غصے کا اظہار کیا جبکہ بارہمولہ کے مین بازار میں نکالی گئی ریلی میں عوام کا جمِ غفیر امڈ آیا۔ گاندربل میں خواتین کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی، نوحہ خوانی کی اور خامنہ ای کی تصاویر اٹھا کر ان کے لیے دعائیں کیں۔ خبر کی تصدیق کے بعد وادی کا ماحول یکسر تبدیل ہوگیا، بازار نیم بند رہے، گلیوں میں سوگوار جلوسوں کا سلسلہ جاری رہا اور مساجد و امام بارگاہوں میں مجالسِ ترحیم، قرآن خوانی اور خصوصی دعائیں ہوتی رہیں۔ حسن آباد، زڈی بل اور دوسرے شیعہ آبادی والے علاقوں میں گہرا سوگ چھایا رہا اور امام بارگاہیں سوگواروں سے بھری رہیں۔ وادی میں اتوار کے روز ہڑتال جیسی صورتحال دیکھنے کو ملی۔ بیشتر علاقوں میں تجارتی سرگرمیاں متاثر رہیں جبکہ سڑکوں پر معمول کے برعکس صرف نجی گاڑیاں ہی محدود تعداد میں چلتی ہوئی نظر آئیں۔ سرینگر سمیت کئی شہروں اور قصبوں میں دکانیں، کاروباری ادارے اور بازار بڑی حد تک بند رہے۔ شہر خاص، لالچوک، بٹہ مالو، حبہ کدل، نوہٹہ، راجوری کدل اور مضافاتی علاقوں میں بھی تجارتی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ شیعہ اکثریتی علاقوں جیسے کہ ماگام،بڈگام اور کرگل میں اہم اجتماعات دیکھنے میں آئے، جبکہ گلمرگ روڈ کے ساتھ ساتھ ماگام اور ضلع بانڈی پورہ کے کچھ حصوں بشمول سرائے ڈانگر پورہ اور شادی پورہ میں بھی مظاہروں کی اطلاع ملی۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ مظاہرے پرامن تھے اور ان کا مقصد ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی اور مشرق وسطی میں تحمل سے کام لینے کی اپیل ہے۔ پولیس اور نیم فوجی دستوںکو وادی کے حساس علاقوں میں خاص طور پر سرینگر کے جڈی بل علاقے اور دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں تعینات کیا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوامی ردعمل کے پیش نظر حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ۔ حکام نے کہا کہ پورے کشمیر میں احتجاجی مظاہرے دن بھر پرامن رہے اور شرکا مارچ کے بعد منتشر ہو گئے۔