سرینگر// ممکنہ طور پریورپین یونین ہائی کمشنر یوگو استوتو کی سربراہی میں سفارتکاروں کا ایک بڑا وفد آج سے جموں کشمیر کے 2روزہ دورے پر آرہا ہے۔ سفارکاروں کے وفد میں یوپی یونین ممالک کے سفرا بھی ہونگے۔ جموں کشمیر میں دفعہ370کی تنسیخ اور ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام، والے علاقوں میں تقسیم کے بعد یہ غیر ملکی سفارتکاروں کا یہ تیسراا دورہ ہوگا،جس کے دوران وہ جموں کشمیر کی تازہ ترین صورتحال کی جانکاری حاصل کریں گے۔یورپی یونین سفارتکاروں کا یہ دورہ مئی میں ہونے والے ہند، یورپی یونین سربراہی اجلاس سے قبل ہورہا ہے جسے کافی اہمیت دی جارہی ہے۔سفارتکاروں کے اس وفد کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی بات نہیں کی جارہی ہے۔تاہم یورپین یونین کے یورپین خارجی ایکشن سروس(EEAS) نے بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے دورے کی دعوت دینے کی تصدیق کی ہے۔یورپی یونین ترجمان برائے خارجہ امور اور سیکورٹی پالیسی نبیلا مسورالی نے کہا ہے’’ یورپی یونین کے ہائی کمشنر نے بھارتی وزارت خارجہ کی کشمیر دورے کی دعوت قبول کرلی ہے، یورپی یونین ممالک کے سفارتکار بھی اس میں شرکت کریں گے‘‘۔مس نبیلا مسورالی نے کہا’’ بھارتی حکام کی جانب سے اس طرح کے دورے سے یورپی یونین کو زمینی صورتحال کے بارے میں آگاہ کرنے میں مدد ملے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر حکام نے سفارتکاروں کے 20رکنی وفد کے دورے کے حوالے سے انتظامات مکمل کرلئے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ پہلے 2دوروں کی نسبت اس یہ دورہ زیادہ مصروف ہوگا۔یورپی یونین وفد کیساتھ سیاسی جماعتوں، بلاک ڈیولپمنٹ کونسلوں، سماجی و دیگر انجمنوں کی میٹنگیں رکھی گئی ہیں۔ جموں کشمیر انتظامیہ وادی نشین سماجی تنظیموں ، میڈیا سے وابستہ افراد، تجارتی انجمنوں ،سول سو سائٹی اور دیگر طبقوں کی نمائندگی کرنے والے گروپوں کو دعوتت نامے ارسال کردیئے ہیں۔ وفد ڈل جھیل کی سیر کے علاوہ درگاہ حضرتبل بھی جائیگا۔ وفد کل یعنی 18فروری کو جموں جائیگا ۔وادی میں قیام کے دوران مین سٹریم سیاسی جماعتوں کیساتھ وفد کی ملاقاتیں طے نہیں ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ غیر ملکی سفارتکاروں کو جموں کشمیر میں سیاسی عمل کے آغاز اور حال ہی میں4 جی موبائل انٹرنیٹ کی بحالی کے بارے میں بھی جانکاری دی جائے گی۔ غیر ملکی سفارتکاروں کا یہ دورہ حالیہ ضلعی ترقیاتی کونسل انتخابات کے بعد ہو رہا ہے اور ان سفارتکاروں کو اس بات کی بھی جانکاری دی جائے گی کہ مقامی پنچایتوں کو کس طرح با اختیار کیا گیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ اس ٹیم میں یورپی ملکوں کے علاوہ افریقی ممالک اور مشرق وسطیٰ کے سفارتکار شامل ہونگے۔