ملک منظور کولگام
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں کے قریب ایک بڑا جنگل تھا۔ اس جنگل میں مختلف قسم کے درخت تھے اور وہ کافی وسیع و عریض تھا۔ گاؤں کے لوگ اس جنگل سے ٹوٹی ہوئی ٹہنیاں چن کر لاتے تھے جنہیں وہ کھانا پکانے کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ چونکہ جنگل کافی گھنا اور گہرا تھا، اس لیے لوگ زیادہ اندر جانے کی ہمت نہیں کرتے تھے۔
جنگل کے ایک حصے میں بڑی بڑی چٹانیں تھیں، جہاں لوگوں کا خیال تھا کہ جن اور پریاں رہتے ہیں۔ لوگ اس سمت جانے سے کتراتے تھے، مگر ایک دن حاجرہ نامی ایک عورت اسی جانب نکل پڑی۔ وہاں سوکھی لکڑیوں کے ڈھیر دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئی اور لکڑیاں جمع کرنے لگی۔ اسی اثنا میں اس کی نظر سینکڑوں خوبصورت طوطوں پر پڑی، جن کے ٹھکانے ان چٹانوں میں تھے۔
طوطوں کی اتنی بڑی تعداد دیکھ کر حاجرہ نہال ہوگئی۔ وہ ایک طوطے سے باتیں کرنے لگی: “تم اچھے ہو۔۔۔ تم بہت اچھے ہو!” اس نے یہ جملہ کئی بار دہرایا۔ بار بار سننے کے بعد طوطے نے بھی سیکھ لیا اور کہا: “تم اچھے ہو۔۔۔ تم اچھے ہو!” حاجرہ کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ اس نے لکڑیوں کا گٹھا اٹھایا اور واپسی کی راہ لی۔ جاتے ہوئے طوطے نے پھر آواز لگائی: “تم اچھے ہو۔۔۔” حاجرہ مسکرانے لگی۔
جب دوسری عورتوں نے حاجرہ کو اکیلے مسکراتے دیکھا تو وہ حیران و پریشان ہو گئیں۔ وہ آپس میں کانا پھوسی کرنے لگیں کہ “شاید حاجرہ پر جنوں کا سایہ پڑ گیا ہے”۔ حاجرہ کی ہنسی رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ وہ سب سے آگے آگے چل رہی تھی اور لکڑیوں کا بوجھ بھی اسے ہلکا محسوس ہو رہا تھا۔ دوسری عورتیں اس کی رفتار کا مقابلہ نہ کر سکیں، جس سے ان کا شک یقین میں بدل گیا کہ یہ حاجرہ نہیں بلکہ کوئی جن ہے، اسی لئے گھوڑے کی طرح تیز چل رہی ہے۔
اگلے دن حاجرہ اپنے ساتھ مکئی اور مونگ پھلی کے دانے لے کر دوبارہ جنگل کے اسی “ڈراؤنے” حصے کی طرف چل پڑی۔ دوسری عورتوں نے اسے روکنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ نہ مانی۔ اس نے چٹانوں کے پاس پہنچ کر طوطوں کے آگے دانے ڈالے اور کہا: “دانے کھاؤ۔۔۔ لو دانے کھاؤ۔” طوطے پہلے تو ہچکچائے، لیکن حاجرہ کی محبت نے انہیں قریب آنے پر مجبور کر دیا۔ وہ دانے چگنے لگے اور ایک طوطے نے حاجرہ کے الفاظ دہرائے: “دانے کھاؤ۔۔۔ دانے کھاؤ!”
حاجرہ بہت خوش ہوئی۔ طوطے اس کے گرد منڈلانے لگے۔ جب اس نے لکڑیوں کا گٹھا سر پر اٹھایا تو ایک طوطا اس کے گٹھے پر آ بیٹھا۔ حاجرہ ہنستی ہوئی واپس لوٹی۔ دوسری عورتوں نے ہمت جٹا کر پوچھا: “حاجرہ! تم کس بات پر ہنس رہی ہو؟” اس نے جواب دیا: “میرے سر پر طوطا بیٹھا ہے۔” عورتیں اور زیادہ ڈر گئیں کیونکہ تب تک طوطا اڑ چکا تھا اور انہیں کچھ نظر نہ آیا۔
کچھ دن بعد حاجرہ کی طبیعت ناساز ہوگئی اور وہ جنگل نہ جا سکی۔ محلے کی دیگر عورتیں لکڑیاں لینے گئیں۔ ان میں راجہ نامی ایک عورت بہت حاسد تھی۔ اس نے سوچا کہ کیوں نہ وہ جگہ دیکھی جائے جہاں سے حاجرہ اتنی لکڑیاں لاتی ہے۔ جب وہ وہاں پہنچی تو طوطے اسے حاجرہ سمجھ کر اس کے قریب آگئے۔ ایک طوطا اس کے کندھے پر آ بیٹھا تو راجہ بری طرح گھبرا گئی۔ اس نے سمجھا کہ یہ سب جن ہیں۔ خوف اور غصے میں اس نے ایک ٹہنی زور زور سے گھمائی، جس سے کئی طوطے زخمی ہو گئے اور ایک کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ وہ ان کی پروا کیے بغیر ہانپتی کانپتی واپس بھاگی۔
باقی عورتوں نے پوچھا: “راجہ! کیا ہوا؟” اس نے کانپتی آواز میں کہا: “میں نے وہاں بہت سے جن دیکھے جو طوطوں کے روپ میں تھے۔” اب سب کو یقین ہو گیا کہ حاجرہ ان ہی جنوں کی وجہ سے بیمار ہوئی ہے۔
طبیعت ٹھیک ہونے پر جب حاجرہ اگلے دن جنگل پہنچی تو کوئی طوطا اس کے پاس نہ آیا۔ اس نے دانے ڈالے، گانے گائے، مگر سب دور رہے۔ وہ پریشان ہو کر چٹانوں میں ڈھونڈنے لگی تو اسے وہی باتیں کرنے والا طوطا ملا جس کی ٹانگ ٹوٹی ہوئی تھی۔ حاجرہ تڑپ اٹھی۔ اس نے فوراً اپنے دوپٹے سے پٹی کاٹی اور اس کے زخم پر باندھ دی۔ اسے اپنے ہاتھ سے دانے کھلائے اور پانی پلایا۔
جب وہ واپس عورتوں کے پاس پہنچی تو وہ اداس تھی۔ عورتوں نے پوچھا: “آج تم مایوس کیوں ہو؟” اس نے کہا: “آج کسی طوطے نے مجھ سے بات نہیں کی۔ پتہ نہیں کس بے رحم نے انہیں تکلیف پہنچائی ہے۔” راجہ سے رہا نہ گیا، وہ فخر سے بولی: “وہ طوطے نہیں جن تھے، میں نے انہیں سبق سکھایا ہے ورنہ وہ تجھ پر سایہ ڈال دیتے۔”
حاجرہ سمجھ گئی کہ یہ سب راجہ کی سنگدلی ہے۔ وہ خاموش رہی اور اگلے کئی دن تک دوائیاں لے جا کر طوطوں کا علاج کرتی رہی۔ کچھ دن بعد طوطے ٹھیک ہو گئے۔ ایک دن ایک طوطے نے اسے ایک چمکتا ہوا اینٹ نما پتھر دکھایا۔ حاجرہ وہ پتھر گھر لے آئی۔ جب اس کے شوہر نے وہ پتھر ایک جوہری کو دکھایا تو اس نے بتایا کہ یہ خالص سونے کا ٹکڑا ہے جس کی قیمت لاکھوں میں ہے۔
حاجرہ کا خاندان امیر ہو گیا۔ جب راجہ کو یہ خبر ملی تو اس کا دل حسد کی آگ میں جلنے لگا۔ وہ لالچ میں اندھی ہو کر اکیلے ہی جنگل کی طرف بھاگی۔ وہاں پہنچتے ہی اچانک کالی گھٹائیں چھا گئیں اور تیز بارش کے ساتھ بجلی کڑکنے لگی۔ وہ پوری طرح بھیگ گئی اور سردی سے ٹھٹھرنے لگی۔لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری ۔ وہ چٹانوں میں سونے کی اینٹ ڈھونڈنے لگی اور بلآخر ایک پانے میں کامیاب ہوگئی ۔ وہ اینٹ دیکھ کر بہت خوش ہوگئی ۔ اس نے طوطوں کو دانے بھی نہیں ڈالے ۔ وہ سرگوشی کرنے لگی : ” میرا کام نکل گیا ۔ مجھے یہی چاہیے تھا ۔اب طوطے جائیں بھاڑ میں۔” وہ اینٹ کو بغور دیکھ ہی رہی تھے کہ اچانک پاس میں بادل پھٹ گئے ۔ اس کے طوطے اڑ گئے اور ہاتھوں سے اینٹ گر کرگہری کھئی میں گرگئی ۔ بادل پھٹنے سے اچانک سیلاب امنڈ آیا ۔راجہ بھاگ گئی اور بمشکل گھر پہنچی ۔گھر میں وہ شدید بیمار پڑ گئی۔ کئی دن بخار میں تڑپنے کے بعد اس کی جان تو بچ گئی لیکن اب اس میں جنگل جانے کی ہمت نہ رہی۔اس کو وہاں کا خوفناک منظر بار بار یاد آرہا تھا۔ وہ گھر میں سہمی سہمی بیٹھ کر اپنی غلطی پر پچھتاتی اور سوچتی: “کاش! میں نے بھی نیک نیتی سے کام لیا ہوتا۔”
���
قصبہ کھُل کولگام ،کشمیر
موبائل نمبر؛9906598163