پچھلے دو ہفتوں کے دوران دنیا میںبہت سے ایسے واقعات ہوئے جن پر بہت کچھ لکھنے کی گنجائش ہے لیکن ان میں سے ایک واقعہ ایسا ہے جس پر خاموش رہنا ایسے کسی بھی شخص کے لئے ممکن نہیں جس کے اندر احساس کی ایک رمق بھی باقی ہے اوروہ ہے نیوزی لینڈ کی مساجد میں قتل عام کے بعد انسانی قدروں کے احیاء کا لامثال مظاہرہ اوروہ بھی اس دور میںجب انسان پوری دنیا میںحیوانیت سے بھی بدتر خصائل کا مظاہرہ کررہا ہے ۔ ہماری اس جنت نظیر سرزمین پر بھی کئی ایسے واقعات ہوئے جن پر بات نہ کرنا ضمیر کو گوارا نہیں ہوسکتا اورمشکل یہ ہے کہ کس کو موضوع بنایاجائے ۔کشمیر کی سرزمین پر یوں تو قتل و غارت گری اب کوئی غیر معمولی موضوع نہیں رہا ہے لیکن گزشتہ ہفتے دودلخراش واقعات رونما ہوئے جو دور رس اور گہرے نتائج کے حامل ہیں ۔ دوسفاکانہ قتل ہوئے ۔ ایک پولیس کی حراست میں اٹھائیس سالہ استاد رضوان احمد پنڈت کی موت اور دوسرا میر محلہ حاجن میں ایک دس سالہ معصوم عاطف میر کی زندگی کا خاتمہ ۔ دونوں انسانیت سوز واقعات کشمیر کی وادی میں ہی دب کر رہ گئے ۔ فلک بوس پہاڑوں سے آگے عالم انسانیت تک ان سانحوں کی کوئی گونج نہیں پہنچی ۔نوجوان ، صحت مند اور خوبصورت رضوان پنڈت کو انصاف اورقانون کے رکھوالوں نے گھر سے اٹھا کر اپنی تحویل میں رکھا تھا لیکن تین دن کے بعد ان کی لاش والدین کے حوالے کردی گئی ۔اپنے تعلیم یافتہ بچے کے سر پر سہرا دیکھنے کا خواب آنکھوں میں سجائے ہوئے والدین نے کہاں سے وہ دل لایا ہوگا کہ اس کی لاش دیکھ سکیں ۔عاطف میر چھٹی جماعت کا طالب علم تھا ۔وہ فٹبال کھیلنے کا شوقین تھا ۔ اسے جنگجوئوں نے یرغمال بنایا ہوا تھا اور جب فورسز نے اس مکان کو گھیرا جس میں جنگجو موجود تھے تو اسے چھوڑ دینے کی اپیلیں علاقے کے معزز افراد نے مساجد کے لائوڈ سپیکروں سے آہ و زاریوں کے ساتھ کیں لیکن اسے نہیں چھوڑا گیا ۔ پاکستان کے یہ دونوں جنگجو جو کشمیر میں’’ جہاد‘‘ کرنے آئے تھے ،اس بچے کو چھوڑنے کیلئے اس کی والدہ کی فریاد سے بھی نہ پسیج سکے ۔ فورسز بھی انسان کی اس معصوم سی اولاد کوبچانے کیلئے دو جنگجوئوں کی قیمت پر آپریشن معطل کرنے کو راضی نہیں ہوئے ۔موت تو دو جنگجوئوں کا مقدر بن ہی چکی تھی لیکن اس بچے نے موت کے ساتھ کوئی سودا نہیں کیا تھا۔اسے کیوں موت کے گھاٹ اترنا پڑا، اس کے پیچھے بھی ایک اندوہناک کہانی ہے ۔ یہ کشمیر میں ملی ٹنسی کے طویل دور میں اپنی نوعیت کا پہلا ایسا واقعہ ہے ۔ اس سے پہلے جنگجوئوں نے کسی بھی شہری کو یرغمال یا ڈھال نہیں بنایا تھا ۔ان دو واقعات سے کچھ ہی روز پہلے ترال میں ایک خاتون ایس پی او کو اس کے گھر میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا اور ترال میں نامعلوم بندوق برداروں نے بھی ایک شخص کو گولیاںمار کر ہلاک کیاتھا۔ایسے واقعات معمول کے واقعات ہیں جو اب توجہ کا باعث بھی نہیں بنتے ۔لیکن رضوان پنڈت اور عاطف کی موت نے پتھر دل انسانوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ۔نہ ہندوستان میں کوئی جسنڈرا آرڈن ہے اور نہ پاکستان میں جو موت کے اس تانڈو ناچ سے تڑپ اٹھے اور انسانوں کو جانوروں کی طرح موت کا نوالہ بننے سے روکے ۔
نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم مسلمان نہیں ۔ غالباً اس کا کوئی مذہب ہی نہیں لیکن اپنے ملک میں ہوئے ایک بڑے سانحے پر ایک انسان ہی کی حیثیت سے اس نے اس طرح سے اپنا فرض ادا کیا کہ مذاہب کی نمایندگی کے ان دعوے داروں کے ہوش ٹھکانے آگئے جو اپنے مذاہب کے نام پر ایک دوسرے کا قلع قمع کرنے کی دھن میں اس دنیا کو انسانوں کا قبرستان بنانے پر آمادہ ہیں ۔کاش نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسنڈرا آرڈن مسلمان ہوتیں اور ان کے ملک میں ایسا حملہ غیر مسلموں کی عبادت گاہ پر ہوتا اور وہ اسی طرح کا کردار ادا کرتیں جو اس نے کیا تو دنیا کے سامنے اسلام کے نظریات کی روح کا حقیقی تعارف پیش ہوتا ۔دنیا کو معلوم ہوتا کہ اسلام کا منتہائے مقصد عالم انسانیت کی بھلائی کے سوا اورکچھ نہیں لیکن جہاںجسنڈرا آرڈن جمعہ نماز کے موقعے پر نقاب اوڑھ کر مسلمانوں کے ساتھ کھڑی تھی وہیں پر مسلم دنیا کے ایک مقتدر رہنما ترکی کے صدر اردغان آسٹریلیا کے اس دہشت گرد سے مخاطب ہوکر کہہ رہے تھے کہ ہم تم لوگوں کا وہی حشر کریں گے جو عثمانیہ سلطنت نے آسٹریلیا کی ایک جنگ میں عیسائی فوج کا کیا تھا ۔ سوچ کا یہی فرق قوموں کی تقدیر لکھتا ہے ۔ عروج و زوال کی ساری داستانوں کے پیچھے سوچ کا یہی فرق کار فرمارہا ہے ۔
کشمیر کی سرزمین پر ایک جنگ جاری ہے ۔ اس جنگ میں بظاہر کشمیری اور بھارتی فورسز ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں لیکن پس پردہ کئی قوتیں کئی نظریات کے ساتھ اس کو جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں ۔اس جنگ میں مخبر ی کے نام پر جو مرتا ہے کشمیری ہی ہوتا ہے ۔ پولیس کا اہلکار یا افسر مارا جاتا ہے تو کشمیری ہی ہوتا ہے ۔ فوج اورنیم فوجی دستوں کا کشمیری اہلکار ہی مارا جاتا ہے ۔ سیاسی کارکن جو مارا جاتا ہے کشمیری ہی ہوتا ہے ۔این آئی اے کا قہربھی کشمیری پر ہی ٹوٹ پڑتا ہے ۔ پی ایس اے بھی کشمیری پر ہی عاید ہوتا ہے ۔ رضوان پنڈت بھی کشمیری ہی ہوتا ہے اور عاطف میر نام کا معصوم بچہ بھی ۔کشمیریوں کی ہی چادر بھی چھن جاتی ہے اور چار دیواری کی حرمت بھی ۔کشمیری ہی الیکشن لڑتا ہے اورکشمیری ہی بائیکاٹ کی مہم چلاتا ہے ۔کوئی اسے آزادی کی جنگ کہتا ہے ۔ کوئی اسے اسلام کی سربلندی کا جہاد کہتا ہے ۔کوئی اسے کفر کے خلاف اسلام کی جنگ قرار دیتا ہے اورکوئی اسے حقوق کی لڑائی کہتا ہے ۔اس ٹکراو کوخونریز خانہ جنگی کی حد تک پہنچنے سے جوچیز روک رہی ہے وہ نئی دہلی سے دفعہ 35الف کے خاتمے ۔ دفعہ 370کے خاتمے کی آوازیں ۔ہندوتواکے علمبرداروں کے عزائم ۔ کٹھوعہ کی مصوم بچی کی آبرو ریزی اور قتل کے بعد مجرموں کو بچانے کی ایجی ٹیشن ۔ پیلٹ گن کا بے جااستعمال ۔ فورسز کی طرف سے شہریوں کی اموات ۔ قتل عام کے واقعات ۔ جارحانہ پالیسیاں ۔ سیاسی چالبازیاں اورایسے ہی دیگر اقدامات ہیں ۔مجموعی طور پر یہ ایک چھوٹی سی قوم کی بہت ہی بدترین حالت ہے جس کی تقدیر کے ساتھ گھناونا کھیل کھیلا جارہا ہے ۔نیوزی لینڈ میں ایک ہی وقت میں چالیس کے قریب مسلمان مارے گئے ۔کشمیر میں ہزاروں انسان اس سے بھی زیادہ بے دردی کے ساتھ مارے جارہے ہیں لیکن کشمیریوں کی دلجوئی کرنے والی ، سہارا دینے والی اور رہبری کرنے والی کوئی جسنڈرا آرڈن نہیں ہے ۔میر محلہ حاجن میں جو سانحہ ہوا وہ کرائسٹ چرچ سانحے سے اس لحاظ سے زیادہ وہشت ناک ہے کہ یہاں ایک معصوم بچے کا خون ہوا ۔ ایک بچے کا خون ایک انسان کا نہیں ایک زمانے کا خون ہے ۔کس کو اس کا احساس ہے ۔ مذمتی بیانات کی روایت پوری کرنے والے سیاست دانوں ، رہبروں اور رہنمائوں نے نہ اس واقعہ کی گہرائی کو سمجھا اور نہ ہی پلوامہ کے رضوان پنڈت کی موت کو ۔کوئی ایک بھی ایسا ہے جو اس طوفان کو روکنے کی فکر کرے ۔ سب کے سب ایسے واقعات کو اپنے سیاسی مفاد کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ یہ ذہنیت اس دہشت گرد کی ذہنیت سے مختلف نہیں جو ایک نسل کے مفادات کے نام پر انسانیت کا قتل عام کرتا ہے ۔
ہفت روزہ ’’نوائے جہلم‘‘ سری نگر