جاوید اقبال
مینڈھر//مینڈھر سب ڈویڑن کے نکہ ناڈ روڈ پر سڑک کی تعمیر کو لے کر تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں مقامی زمین مالکان نے الزام عائد کیا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود زبردستی تعمیراتی کام کرایا گیا۔ زمین مالکان ماسٹر فاروق کے مطابق اس سڑک کے ایک حصے پر خسرہ نمبر 32 واقعہ ناڈ کے سلسلے میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی جانب سے واضح حکمِ امتناعی نافذ ہے، جبکہ منصف عدالت مینڈھر نے بھی مذکورہ لینک روڈ پر تعمیر کے خلاف حکم جاری کر رکھا ہے۔متاثرہ زمین مالکان کا کہنا ہے کہ ان عدالتی احکامات کے باوجود جمعہ کے روز گورسائی پولیس نے مشینری لگا کر سڑک کی تعمیر شروع کرا دی۔
ان کے مطابق یہ کارروائی ایس ایچ او گورسائی کی قیادت میں انجام دی گئی، جہاں پولیس کی موجودگی میں نجی ملکیتی زمین پر تعمیراتی کام کیا گیا، جو کہ عدالتی فیصلوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ اس پورے معاملے سے متعلق نائب تحصیلدار ہرنی کو بھی اطلاع نہیں دی گئی، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ زمین مالکان نے سوال اٹھایا ہے کہ جب عدالت کی جانب سے واضح احکامات موجود ہیں تو پھر کس قانونی اختیار کے تحت تعمیراتی کام کرایا گیا، جبکہ محکمہ مال کے کسی افسر کو بھی اس کارروائی کی پیشگی اطلاع تک نہیں تھی۔متاثرین نے اعلیٰ انتظامیہ اور عدالتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور عدالتی احکامات کی مبینہ خلاف ورزی میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے یہ بھی اپیل کی ہے کہ جب تک عدالت کی جانب سے حتمی فیصلہ سامنے نہیں آ جاتا، اس سڑک پر ہر قسم کا تعمیراتی کام فوری طور پر بند کیا جائے۔دوسری جانب اس معاملے پر انتظامیہ کی طرف سے تاحال کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات کا احترام قانون کی بالادستی کے لئے ناگزیر ہے اور کسی بھی سرکاری اہلکار کو قانون سے بالاتر ہو کر کارروائی کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔