عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//نوکری سے متعلق دھوکہ دہی کے خلاف ایک بڑے کریک ڈاؤن میں، کرائم برانچ کشمیرکی اقتصادی جرائم سے متعلق ونگ نے2افراد کے خلاف ایک شکایت کنندہ کو سرکاری نوکری کا جھوٹا وعدہ کرکے 11 لاکھ روپے کی دھوکہ دہی کے الزام میں چارج شیٹ داخل کی ہے۔کرائم برانچ کشمیرنے بتایاکہ دفعہ420 اور 120-Bآئی پی سی کے تحت دائر چارج شیٹ، چیف جوڈیشل مجسٹریٹ، بڈگام کے سامنے پیش کی گئی ہے، جو روزگار کی یقین دہانیوں کی آڑ میں کام کرنے والے منظم دھوکہ دہی کے نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنے میں ایک اہم قدم کی نشاندہی کرتی ہے۔ بیان میں، کرائم برانچ کشمیرکی اقتصادی جرائم ونگ نے ایف آئی آر نمبر 08/2024زیردفعہ 420 اور 120-Bآئی پی سی کے تحت2ملزمین کے خلاف دھوکہ دہی اور سازش کے کیس کے سلسلے میں چارج شیٹ داخل کی ہے جس میں سرکاری ملازمت کا فرضی وعدہ شامل ہے۔بیان میں کہاگیا ہے کہ چارج شیٹ کو عدالتی فیصلہ کیلئے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ، بڈگام کی معزز عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔یہ مقدمہ ایک تحریری شکایت سے شروع ہوا ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ عشرت بانو دختر محمد ایوب بٹ، ساکن زرہامہ، ضلع کپواڑہ، نے بے ایمانی کیساتھ شکایت کنندہ کو 11لاکھ روپے کی رقم اس جھوٹے بہانے سے الگ کرنے پر آمادہ کیا کہ اس کا شوہر اس کیلئے سرکاری نوکری کا بندوبست کرے گا۔اس یقین دہانی پر عمل کرتے ہوئے شکایت کنندہ نے مذکورہ رقم بینک اکاؤنٹ میں منتقل کردی۔ بار بار یقین دہانی کے باوجود نہ تو کوئی سرکاری ملازمت کا بندوبست ہوا اور نہ ہی رقم واپس کی گئی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ شکایت موصول ہونے پرکرائم برانچ کشمیرکی اقتصادی جرائم سے متعلق ونگ کی طرف سے تفصیلی تحقیقات شروع کی گئیں۔ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ یہ رقم ملزم گلزار احمد وانی عرف شاہد ولد شمس دین وانی، ساکن زرہامہ لدروان، ضلع کپواڑہ کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی تھی۔تفتیش میں مزید انکشاف ہوا کہ ملزم گلزار احمد وانی عرف شاہد اور ملزمہ عشرت بانو کے درمیان میاں بیوی کا کوئی رشتہ نہیں تھا۔ عشرت بانو کے اس لین دین کے پیچھے سازش اور دھوکہ دہی کا ارادہ کارفرما تھا۔تفتیش نے ابتدائی طور پر دونوں ملزمان کی دھوکہ دہی اور مجرمانہ سازش میں ملوث ہونے کا ثبوت دیا۔ نتیجتاً، مقدمہ پولیس اسٹیشن اقتصادی جرائم ونگ کشمیر (کرائم برانچ کشمیر) میں درج کیا گیا اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد الزامات ثابت ہو گئے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اسی مناسبت سے چارج شیٹ عدالتی فیصلے کے لیے مجاز عدالت میں جمع کرائی گئی ہے۔