مریض رجوری اور جموں جانے پر مجبور،عوام سراپا احتجاج، محکمہ صحت پر عدم توجہی کا الزام
رمیش کیسر
نوشہرہ // نوشہرہ کے سب ڈسٹرکٹ ہسپتال میں گزشتہ آٹھ برسوں سے مستقل بے ہوشی (اینستھیزیا) کا ڈاکٹر تعینات نہ ہونے کے باعث مریضوں کو شدید پریشانیوں اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سرحد کے قریب واقع اس اہم ہسپتال میں جہاں چوبیس گھنٹے میڈیکل سہولیات کی ضرورت ہوتی ہے، وہاں بنیادی طور پر ایک اہم ڈاکٹر کی مسلسل غیر موجودگی نے علاج و معالجہ کا نظام مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ذرائع کے مطابق ہسپتال میں اس وقت دو سرجن ڈاکٹر تو موجود ہیں، مگر اینستھیزیا اسپیشلسٹ نہ ہونے کی وجہ سے وہ کسی بھی قسم کا آپریشن کرنے سے قاصر ہیں۔ صورتحال اس حد تک خراب ہو چکی ہے کہ معمولی سرجری کروانے کے لئے بھی مریضوں کو یا تو راجوری یا پھر جموں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس سے ایک طرف مالی بوجھ بڑھ جاتا ہے اور دوسری طرف مریضوں کی صحت کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔محکمہ صحت کی جانب سے وقتی بنیادوں پر راجوری ہسپتال کے ایک اینستھیزیا ڈاکٹر کو ہفتہ میں صرف ایک دن نوشہرہ بھیجا جاتا ہے۔ اس ایک دن میں وہی مریض آپریشن کروا پاتے ہیں جنہیں پہلے سے سرجن ڈاکٹر نے تاریخ دے رکھی ہوتی ہے۔ مگر سب سے تشویشناک مسئلہ ایمرجنسی کیسز کا ہے،ایسی صورتحال میں آپریشن نا ہونے کے باعث مریضوں کو یا تو فوری طور پر دوسرے اضلاع لے جایا جاتا ہے یا پھر تاخیر کی وجہ سے مریض جان کے خطرے سے دوچار رہتے ہیں۔جمعرات کے روز بھی ہسپتال میں آپریشن کے منتظر کئی مریض اور ان کے تیماردار اس بات پر پریشان نظر آئے کہ آخر کب نوشہرہ ہسپتال میں مستقل اینستھیزیا ڈاکٹر تعینات ہوگا؟ سرجن ڈاکٹرز کے مطابق وہ کئی کیسز تیار رکھتے ہیں، مگر بے ہوشی کے ڈاکٹر کے بغیر وہ آپریشن شروع نہیں کر سکتے۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران اس سنگین مسئلے کو لے کر کئی مرتبہ حکومت کو تحریری یادداشتیں پیش کی گئیں، متعدد بار احتجاج بھی ہو چکا ہے، مگر محکمہ صحت کے وزیر سے لے کر ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز تک، کسی نے بھی اس اہم مسئلے پر سنجیدگی سے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔نوشہرہ کے ممبر اسمبلی، جو موجودہ حکومت میں بطور نائب وزیراعلیٰ بھی خدمات انجام دے رہے ہیں، ان پر بھی عوام نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی اور حساس ذمہ داری رکھنے کے باوجود انہوں نے نوشہرہ ہسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی پورا کرنے کی سمت ابھی تک کوئی عملی اقدام نہیں کیا۔عوام نے متنبہ کیا ہے کہ اگر دسمبر تک نوشہرہ ہسپتال میں مستقل بے ہوشی کا ڈاکٹر تعینات نہ کیا گیا تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع کریں گے۔ لوگوں نے حکومت سے فوری مداخلت اور اس اہم مسئلے کے حل کی پرزور مانگ کی ہے تاکہ مریضوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات ختم کیے جا سکیں اور نوشہرہ ہسپتال میں بہتر صحت سہولیات بحال ہو سکیں۔