رمیش کیسر
نوشہرہ //بیری پتن تحصیل کے عوام نے محکمہ جل شکتی کے اعلیٰ حکام سے پرزور اپیل کی ہے کہ ان کے گاؤں میں پینے کے صاف پانی کی سپلائی کو متواتر اور باقاعدہ بنایا جائے، کیونکہ موجودہ صورتحال میں پانی کی انتہائی کم فراہمی کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ سرحدی تحصیل بیری پتن کے کئی دیہات میں پینے کے پانی کی سپلائی نہایت محدود مقدار میں فراہم کی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اتنے کم پانی میں گھریلو ضروریات پوری کرنا ناممکن ہو گیا ہے، جبکہ جانوروں کے لئے پانی کا انتظام کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔علاقہ مکینوں کے مطابق پورے مہینے میں صرف تین یا چار مرتبہ ہی پانی کی سپلائی دی جاتی ہے، جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہفتے میں کم از کم دو یا تین بار پانی فراہم کیا جائے تاکہ عوام کو پانی کے بحران سے نجات مل سکے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ محکمہ جل شکتی کی جانب سے بنائے گئے پانی کے ٹینکوں میں پانی موجود ہونے کے باوجود بھی سپلائی نہایت کم دی جا رہی ہے، جو سمجھ سے بالاتر ہے۔لوگوں نے کہا کہ پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے اور گھریلو استعمال کے ساتھ ساتھ مویشیوں کے لئے بھی وافر مقدار میں پانی ہونا لازمی ہے۔ مسلسل قلت کی وجہ سے خواتین، بچے اور بزرگ سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جنہیں دور دراز علاقوں سے پانی لانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔عوام نے محکمہ جل شکتی کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بیری پتن تحصیل میں پینے کے پانی کی سپلائی کو ہفتے میں کم از کم دو یا تین بار یقینی بنایا جائے اور اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے۔اس سلسلے میں جب محکمہ جل شکتی کے ایگزیکٹو انجینئر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ بیری پتن گاؤں میں پینے کے پانی کی سپلائی معمول کے مطابق جاری ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ اگر کسی علاقے میں پانی کی کمی کی شکایت ہے تو وہ اپنے ماتحت اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر اور جونیئر انجینئر سے رپورٹ طلب کر کے معاملے کی جانچ کریں گے اور ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔