رمیش کیسر
نوشہرہ//سب ڈویژن نوشہرہ میں یوریا کھاد کی عدم دستیابی نے کسانوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ مقامی کاشتکاروں کے مطابق گزشتہ دس روز سے کھاد کی سپلائی مکمل طور پر بند ہے جس کے باعث فصلوں کی دیکھ بھال متاثر ہو رہی ہے اور زرعی سرگرمیاں شدید متاثر ہونے لگی ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ کھاد کے بغیر فصلوں کی مناسب نشوونما ممکن نہیں اور تاخیر سے پیداوار میں واضح کمی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ہفتہ کے روز بھی متعدد دیہات سے تعلق رکھنے والے کسان کھاد کی تلاش میں مختلف اسٹوروں کے چکر لگاتے رہے مگر انہیں مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔
کسانوں نے بتایا کہ وہ صبح سویرے ہی اسٹوروں کے باہر پہنچ جاتے ہیں لیکن ہر جگہ یہی جواب ملتا ہے کہ سپلائی ابھی تک نہیں آئی۔ کئی کسانوں کا کہنا ہے کہ فصلوں کو اس وقت فوری کھاد کی ضرورت ہے، خاص طور پر گندم اور سبزیوں کی کاشت کرنے والے کسان شدید دباؤ کا شکار ہیں۔مقامی کسان رہنماؤں نے حکومت اور متعلقہ محکمہ زراعت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوریا کھاد کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ کسانوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ کھاد کی قلت صرف نوشہرہ تک محدود نہیں بلکہ ملحقہ دیہات میں بھی یہی صورتحال دیکھی جا رہی ہے، جس سے زرعی معیشت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔کسانوں نے حکومت کو دو ٹوک الفاظ میں انتباہ دیا ہے کہ اگر پیر تک کھاد کی سپلائی اسٹوروں تک نہ پہنچی تو وہ سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے شروع کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پرامن احتجاج کریں گے مگر اپنے حقوق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔دوسری جانب عوامی حلقوں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زرعی شعبے کو درپیش اس سنگین مسئلے کو فوری حل کیا جائے کیونکہ کسان ہی ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو آنے والے دنوں میں زرعی پیداوار متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ مقامی منڈیوں میں بھی اثرات ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے۔