رمیش کیسر
رمیش کیسر//شری گرو روی داس جی کے 649ویں پرکاش پروب کے موقع پر ضلع راجوری کے نوشہرہ علاقے میں ایک عظیم الشان شوبھا یاترا نکالی گئی، جس میں بڑی تعداد میں عقیدت مندوں اور مقامی لوگوں نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔ یہ مذہبی جلوس روحانی عقیدت، بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کی ایک خوبصورت مثال بن کر ابھرا۔اس موقع پر جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب وزیر اعلیٰ سریندر چوہدری نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ دونوں رہنماؤں نے شری شری 108 سوامی گردیپ گری جی مہاراج سے آشیرواد حاصل کیا اور شری گرو روی داس جی کی تعلیمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
ان کی موجودگی نے پروگرام کی اہمیت میں مزید اضافہ کیا اور مذہبی رواداری کے پیغام کو تقویت دی۔شوبھا یاترا نوشہرہ کے مختلف علاقوں سے گزری، جہاں عقیدت مندوں نے بھجن، کیرتن اور روحانی نعروں کے ذریعے ماحول کو مذہبی رنگ میں رنگ دیا۔ جلوس کے دوران شری گرو روی داس جی کی تعلیمات، خصوصاً مساوات، اخوت، سماجی انصاف اور انسانی وقار پر زور دیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ گرو روی داس جی نے ہمیشہ ذات پات، فرقہ واریت اور سماجی تفریق کے خلاف آواز بلند کی اور ایک ایسے معاشرے کی وکالت کی جہاں سب کو برابر کا درجہ حاصل ہو۔شوبھا یاترا کے پْرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ پولیس اور دیگر سیکورٹی اہلکاروں کو جلوس کے راستوں پر تعینات کیا گیا تاکہ ٹریفک کی روانی برقرار رہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ انتظامیہ کی مستعدی کے باعث جلوس نہایت نظم و ضبط اور امن کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔تقریب کے اختتام پر شرکاء نے شری گرو روی داس جی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں گے اور معاشرے میں امن، بھائی چارے اور باہمی احترام کو فروغ دیں گے۔ مجموعی طور پر یہ شوبھا یاترا نہ صرف ایک مذہبی تقریب تھی بلکہ سماجی ہم آہنگی اور اتحاد کا ایک مضبوط پیغام بھی تھی، جسے عوام نے بے حد سراہا۔