جاوید اقبال
مینڈھر//سابق رکن قانون ساز کونسل ایڈووکیٹ مرتضیٰ احمد خان نے پیر پنچال کے نوجوانوں کو ایک مضبوط، دور اندیش اور بیدار کرنے والا پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ دور میں نوجوان ہی سب سے فیصلہ کن قوت ہیں اور خطے کا مستقبل انہی کے شعور، کردار اور عمل سے جڑا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوان صرف کل کے وارث نہیں بلکہ آج کے معمار بھی ہیں۔ تاریخ کے اس نازک موڑ پر یہ نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سوچ، فیصلوں اور تنظیم سازی کے ذریعے اپنے خطے کی تقدیر کا تعین کریں۔ ایڈووکیٹ خان نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ فرسودہ سوچ، خاص طور پر صرف سرکاری نوکریوں اور ٹھیکیداری کلچر تک محدود رہنے کی ذہنیت سے باہر نکلیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور جو خود کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے میں ناکام رہے گا، وہ پیچھے رہ جائے گا۔ نوجوان جدید مہارتیں سیکھیں، ٹیکنالوجی کو اپنائیں، سیاحت، تجارت اور کاروبار کے مواقع تلاش کریں اور عالمی معیشت میں مقابلے کے لیے خود کو تیار کریں۔سابق ایم ایل سی نے نفرت پر مبنی سیاست کے خلاف سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض سیاست دان ذاتی مفادات کے لئے نوجوانوں کو تقسیم کرتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو اندھی تقلید اور نعرے بازی سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ قیادت کو لباس یا نعروں سے نہیں بلکہ کارکردگی، دیانت داری اور جوابدہی سے پرکھا جانا چاہیے۔انہوں نے معاشرے کو مذہبی، مسلکی اور طبقاتی بنیادوں پر بانٹنے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ایسے عناصر مذہب کو سیاست کے لئے استعمال کر کے نوجوانوں کو سیڑھی بناتے ہیں۔ ایس ٹی درجہ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اسے ترقی کا ذریعہ قرار دیا، تاہم ساتھ ہی محنت اور نظم و ضبط کو کامیابی کی اصل بنیاد بتایا۔منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایڈووکیٹ مرتضیٰ احمد خان نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے علاقوں کے محافظ بنیں۔ اپنے پیغام کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ پیر پنچال کی زمین، عزت اور وقار نوجوانوں کی امانت ہے۔