ننھی منھی آصفہ کی تصویر اور اس کی یا دیں اس کے والدین کے ذہن میں رہ رہ کر اس قدر درد دے رہی ہیں کہ انہیں بر داشت کر نا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے ذرا سو چئے ایک ما ں با پ کی ننھی منھی لا ڈلی بیٹی کو اگر ایسے بے در دی اور وحشیا نہ حر کت کے ساتھ مو ت کی نیند سلا دیا جا ئے تو والدین کے دل پر کیا گذرے گی ۔آصفہ کی درد بھر ی داستان لکھتے لکھتے قلم نے آنسو بہا نے شرو ع کر دیئے ہیں ۔دل خو ن کے آنسو رو رہا ہے ۔بے چاری آصفہ جس کا تعلق ضلع کٹھوعہ کے رسانہ گائو ںسے ہے ۔ اس کی درد بھر ی داستان کو لکھنے سے دل کو درد تو ہو تا ہی ہے مگر کیا کریں اگر اس درد بھر ی داستا ن پر آواز نہ اٹھائیں تو پھر یہ بات با لکل واضح ہے کہ اسے انصاف نہیں ملنے والا ۔معصو م آصفہ جو اپنے ما ل و مویشی کے ساتھ جنگل میں گئی تھی اور اس کے ساتھ دیپک شر ما نا می ایک درندہ صفت ایس ،پی ،او نے اس کی عصمت دری کر کے اس کو بے رحمی کے ساتھ قتل کر دیا اور اس کی لا ش جھاڑیو ں میں پھینک دی گئی ۔جس کے بعد گو جر و بکروال طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے آصفہ کی لا ش ملنے کے بعد اس کے قا تلوں کو ڈھونڈنے کے لئے جگہ جگہ پر مظاہر ے شرو ع کئے ان لو گو ں کی جد و جہد کے بعد اگر چہ ملزمان کو گر فتار تو کر لیا گیا مگر بد قسمتی سے جب اس کیس کی تحقیقات کے لئے دو پو لیس آفیسر مقر ر کئے گئے تو انہو ں نے دیپک شر ما سے بھی بڑھ کر کہیں زیا دہ درندہ صفت حر کت کر تے ہو ئے اس کیس کے شواہد کو ہی مٹا دیا جس سے لو گو ں کے دلو ں میں اس چیز کا ڈر پیداہو گیا ہے کہ شاید ایسے درندہ صفت انسان نہ جا نے ہما ری ریا ست کے لئے کتنا بڑا خطرہ بن جا ئیں گے ۔بڑے افسوس کی با ت ہے کہ گو جر و بکروال طبقہ جو پہلے سے خانہ بدوشی کی زند گی جی رہا ہے کبھی مذہب کے نا م پر تو کبھی جنگلات پہ نا جا ئز قبضہ کر نے جیسے الزامات لگا کر ان کو ہراساں کیا جا رہا ہے ۔جس کا ثبو ت صاف طور پر دیپک شر ما کی طرف سے پو لیس تفتیش کے دوران بتا یا گیا ہے ۔واضح رہے کہ دیپک شر ما نے پو لیس تفتیش کے دوران اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ اس نے ایسی حر کت جمو ں کے مسلمانوں میں خو ف و ہراس پیدا کر نے کے لئے کی ہے ۔سمجھ سے با لا تر ہے کہ انسا نیت سے کو سو ں دور ہو کر پی ڈی پی کی سہیلی بی جے پی نے معصو م آصفہ کے قتل کے معا ملہ کو سیا سی رنگ دینا شرو ع کر رکھا ہے ۔ بی جے پی کی طرف سے اس قسم کی نیچ حر کت اس وقت سامنے آئی جب ہندو ایکتا منچ کی طرف سے حالیہ دنوں میں دیپک شر ما کی رہا ئی کے حق میں نعر ہ بازی کی گئی جس میں بی جے پی پارٹی سے دو کابینہ وزراء سمیت بہت سارے پارٹی کارکنوں نے بڑھ چڑھ کر ہندو ایکتا منچ ریلی میں شر کت کی اس سے بڑی شر م کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ ایک ملزم جو اپنا جر م قبو ل کر چکا ہے اور اس کے حق میں رہا ئی کے لئے سر کا ر کی طرف سے نعر ہ با زی کی جا رہی ہے اور حد تو یہ ہو گئی ہے کہ وہ پی ڈی پی جما عت جس نے اقتدار کی لا لچ میں بی جے پی کے ساتھ ہا تھ ملا یا تھا آج اسی پارٹی سے وابستہ ریا ستی وزیر اعلی محتر مہ محبوبہ مفتی جی کا کنٹرول بی جے پی پر با لکل نہیں رہ گیا ۔کیو نکہ محبو بہ مفتی ریا ستی عوام کی فلا ح و بہبود پہ اتنا دھیا ن نہیں دیتیں جتنا کہ وہ کو نا گپور کو خو ش کر نے کے لئے دیتی ہیں ۔افسوس اس بات کا ہے کہ مر کزی سر کا ر کی طرف سے بیٹی بچائو و بیٹی پڑھا ئو پروگرام کو زمینی سطح پر عملا نے کے لئے جو دعو ے کئے جا رہے ہیں یا تو سر کا ر اس پہ عمل کر نے سے قا صر ہے یا پھریہ پروگرام ریا ستی مسلمان بیٹیوں کے لئے یہ پروگرام نہیں ہے کیو نکہ اگر یہ پروگرام سب کے لئے یکساں ہو تا تو پھر ننھی آصفہ کو اس طر ح بے رحمی سے قتل نہ کیا جا تا اور نہ ہی تحقیقاتی افسر شواہد کو مٹانے کی جر ات کر تے ۔ننھی منھی آصفہ کے والدین کے ساتھ ساتھ پو ری ریا ست کے مسلمانوں کو اس بات پہ پو را شک ہو رہا ہے کہ کہیں آصفہ کے قا تلو ں کو معا ف کر کے انہیں کھلے عام ریا ستی مسلمانوں کو ہراساں کر نے کی اجازت نہ دے دی جا ئے کیو نکہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ ہندو ایکتا منچ نیچ حر کت کر تے ہوئے ما نگ کر رہا ہے کہ یہ معا ملہ سی بی آئی کو سو نپا جا ئے آخر کیوں ؟آصفہ کے قا تلوں نے اگر اپنا جر م قبو ل کر لیا اور یہ ثابت بھی ہو گیا کہ وہ آصفہ کے قاتل ہیں تو پھر اس معاملہ میں سی بی آئی انکوائر ی کر وانے کا کیا مطلب ہے ۔ان تما متر با تو ں کو مد نظر رکھتے ہوئے ریا ستی مسلمان آصفہ کے والدین کو انصاف دلانے کے لئے کچھ بھی کر نے کو تیا ر ہیں ۔کیو ں نہ انہیں اپنی جا نیں بھی قر بان کر نی پڑیں ۔ریا ستی مسلمان وزیر اعلی سے اپیل کر تے ہیں کہ آصفہ کے معا ملہ میں قصورواروں کو سخت سے سخت سزا دی جا ئے تاکہ وہ دو بارہ انسانیت کو شر مسار کر نے کی جرات نہ کریں ۔اگر ریا ستی سر کا رنے اس معاملہ میں دل چسپی سے انصاف نہ دلا یا تو حالات کا رخ کچھ اور ہو گا ۔جس کی تما متر ذمہ داری سر کا ر پر عائد ہو گی ۔
چو ہد ری محمد آصف لو دھی
رابطہ نمبر 9596921891
غریب عوام کا خداہی حافظ
ضلع رام بن میں ڈگری کالج ہائر سیکنڈری سکول ، ہائی سکول ،مڈل سکول اورپرائمری سکول جیسے تعلیمی ادارے قائم ہیں۔ان تمام اداروں میں سٹاف کی ازحد کمی ہے جس کی وجہ سے زیر تعلیم طلباء اوران کے والدین متفکر ہیں۔اس صورتحال پرایک شعرصادق آتاہے وہ یہ کہ ؎پرندے نہ دکھتے ہیں اپنے آشیانوں میں۔بچوں کی زندگی گذر جائے گی سکولوں کے قید خانوں میں۔ضلع رام بن میں جموں و کشمیر حکومت نے مطابق ضرورت ZEOآفس قائم کئے ہیں۔علاقہ نیل ڈسٹرکٹ رام بن کا پہاڑی و برفانی علاقہ ہے۔گورنمنٹ ہائر سکنڈری سکول نیل گورنمنٹ ہائی پرہندر،مڈل سکول اورہائی سکول تقریباً 30-31دوری پرواقع ہیں۔لوگوں کی مانگ ہے کہ علاقہ نیل میں زیڈای اودفترقائم کیاجائے۔ریاستی حکومت کی جانب سے ہائر اسکینڈری سکول اکھڑ ہال واقع ہے ۔بمقام مبینہ بھتی،گجڑارہ،رونیگام تقریباً19-20کلومیٹر دور سے ہائر سکنڈری سکول اکھڑال میں آتے ہیں۔جموں و کشمیر گورنمنٹ نے عرصہ تقریباً60-61سال قبل ہائر سکول پوگل قائم کیا تھا۔کافی پرائمری سکول و مڈل سکول جو کہ وجود میں نہ تھے وہ آ ج یاتوڈگری کالج یاپھر ہائر سکینڈری سکول بن گئے ہیں۔لوگوں کی حکومت سے پر زور اپیل ہے کہ گورنمنٹ ہائر سکول پوگل کو ہائر سکینڈری سکول کا درجہ دیا جائے۔جموں و کشمیر گورنمنٹ نے ہائر سکنڈری سکول نیل قائم کیا ہے۔جس میں پانچدار،فتوگنا،پرکوٹ،بیڈرار،سیلمنڈ،کانسوں تالہ،نماگام،ہروڑی سرنگہ،سدنمال نہ ورسانرگ نیل ٹاپ سے تقریباً10-11کلومیٹر سفر بے کرنا پڑتا ہے۔ہائر سکول پرمندر کافی دیر سے ہائی سکول ہے۔اس ہائی سکول کے گرد نو مڈل سکول اور پرائمری سکول تقریباً 15-16قائم ہیں، ہائی سکول پرمندر کو ہائر سکینڈری سکول کا درجہ دیا جائے۔جموں و کشمیر گورنمنٹ کی جانب سے ڈگری کالج بانہال و ہائر سکینڈری سکول بانہال میں زیر تعلیم بچے بمقام رپنوس،نیل،میورا،چملواس پکنا ڑواساژل،بڈگام،گنینہ تقریباً16-17کلومیٹر سفر بھی کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح ہائی سکول چملواس بھی قائم ہے۔گورنمنٹ سکول چملواس کو ہائر سکنڈری کا درجہ دیا جائے۔ضلع رام بن ہسپتالوںمیں ڈاکٹروں کی کمی ہے جس وجہ سے عوام پریشان ہے۔چند لوگ علاج کے بغیر لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔چند علاقہ جات میںمیڈیکل آفیسرکی ضرورت ہے ،کافی ہے کہ علاقہ پہاڑی ہے۔فرسٹ ایڈیشن منظور نہ کیا جائے۔گورنمنٹ کی جانب سے ڈسٹرکٹ رام بن میں کافی علاقہ جات میں شفا خانہ حیوانات اور شیپ ایڈ وول سنٹرل قائم ہیں بوجہ ڈاکٹروں اور ملازموں سے غریب عوام مال مویشی بوجہ بیماری لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔حکومت نے جموں کے سرینگر تک نور ول سڑک روڈ کا کام زور و شور سے شروع کیا ہے۔قصبہ رام بن میں جامع مسجد رام بن مارکیٹ سے بھولیل رام بن تک روڈ بوجہ کام فوروے لائن دریائے چناب میں گر گیا ہے تحصیل گول،سنگلدان لیک میترا گوبند پورہ وغیرہ کی عوام میترہ رام بن براستہ کروال رام بن قصبہ ضلع ہسپتال رام بن ہائر اسکینڈری سکول ہائی سکول،مڈل سکول،پرائمری سکول و دیگر محکمہ جات کے دفتر وغیرہ تقریباً8/10کلومیٹر سفر طے کرنا پڑتا ہے۔سکول کے طلباء نیشنل ہائی وے قصبہ رام بن میں بڑی مشکل سے سڑک پار کرتے ہیں۔خدانہ کر کے کسی بھی وقت کوئی حادثہ پیش آسکتا ہے۔ڈسٹرکٹ رام بن کافی علاقہ جات میں روڈ کا کام بذریعہPWD,R&Bاور محکمہPMGSYچل رہا ہے چند مقامات پر سڑک کا کام بند پڑا ہے۔جیسا کہ مکر کوٹ ہونگنا نیل روڈ بمقام گو تلک مکمل ہے۔درمیان میں ایک میدار کا کچا مکان روڈ میں آتا ہے۔دوسری جانب سے بھی روڈ کا کام مکمل ہو چکا ہے مکان کے دونوں جانب روڈ مکمل ہے جس وجہ سے علاقہ نیل کے عوام سات پنچایتوں پر مشتمل آبادی کی براستہ چملواس ڈسٹرکٹ رام بن و دیگر کے لوگوں کوکم از کم80-90کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔اگر مکرکوٹ روڈ کا کام مکمل ہونے پر تقریباً40-45کلومیٹر کا سفر کم ہوتا جاتا ہے۔نیل چملواس روڈ دوران برف سرما میں کم از کم2-3ماہ بند رہتا ہے۔مکر کوٹ میوگن نیل روڈ مکمل ہونے پر غریب عوام بدوران برف ،بارش ضلع ہیڈکوارٹر سے کٹ جاتے ہیں ۔یہ وڈ بند نہ ہوگا۔بانہال نیل جریڑیPMGSYروڈگورنمنٹ کی جانب سے سنگلدان منظورہوا تھا۔اس روڈ میں عرصہ تقریباً11-12سال قبل کام شروع کیا تھا4کلومیٹرPMGSYروڈ کا کام تقریباً3.5کلومیٹر تا مکمل ہوا ہے۔وہاں سے آگے500میٹر جریڑی تک بقایاکام چھوڑ دیا ہے۔ٹھیکیدار کو محکمہPMGSYکے آفیسران نے بل تقریباً10-12لاکھ بند رکھی تاکہ ٹھیکیدار کام کو انجام دیں اس وقت بقایا رقم ادا ہوگئی۔لیکن اشوری محل بھگت نے ٹھیکیدار کو 10-12لاکھ دئے تو ٹھیکیدار نے عرصہ3-4سال سے کچھ نہ کیا ہے۔گورنمنٹ عوام کی جانب سے اپیل کریں تاکہ غریب عوام پر مشتمل آبادی کو راحت مل سکے اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر رام بن کے دیا جائے۔جموں و کشمیر گورنمنٹ کی جانب سے ضلع کے کافی علاقہ جات میں بجلی کا کام مکمل ہوا ہے۔چند علاقہ جات میں بجلی کا کام نا مکمل ہے کام چل رہا ہے۔جموں و کشمیر گورنمنٹ کی جانب سے ڈسٹرکٹ رام بن میں پائپPHEکافی مقامات پر مکمل ہے چند مقامات میں کوئی پائپ لائن موجود نہ ہے جس وجہ سے غریب عوام پانی کے لئے ترس رہے ہیں۔ضلع رام بن میں گورنمنٹ کی جانب سے محکمہ باغبانی ،محکمہ ہارٹیکلچرکا قیام ضرور کیا ہے لیکن محکمہ کے آفسران چند لوگوں سے ہی رابطہ رکھے ہوئے ہیں۔غریب عوام کا خداہی حافظ۔ضلع رام بن کا علاقہ کافی دور تک پھیلا ہے کافی پہاڑی وبرفانی علاقہ سے محکمہ جنگلات میں سر زبانی کی کمی کی وجہ سے جنگلات کا کافی نقصان ہو رہا ہے۔جموں و کشمیر گورنمنٹ نے غریب عوام کی مانگ پر ڈسٹرکٹ رام بن میںSDMآفس ،تحصیل آفس نیابت آفس،CDبلاک وغیرہ قیام کئے ہیں۔بوجہ کمی آفسران و ملازمین عوام دربدر و پریشان حال ہے عوام کی جانب سے پرزور اپیل ہے کہ برائے کرام آفیسران و ملازمین تعینات کئے جائیں۔ضلع رام بن میں گورنمنٹ نےACD,BDOدفتر قائم کیا ہے جو کہ غریب عوام کو مفت مکانات ،باتھ روم و پیدل راستے،نالہ دیوار بندی،ڈیریز وغیرہ کے کام جاری ہے۔ضلع میں سوشل ویلفیئر دفتربھی قائم ہے۔غریب عوام اولڈ ایج پنشن سے محروم ہیں۔ڈسٹرکٹ رام بن میں آنگن واڑی سنٹرل ہال بھی قائم ہے ۔جے اینڈ کے ہیومن رائٹس واچ جموں و کشمیر گورنمنٹ پرزور اپیل کرتی ہے کہ عوام کی مندرجہ بالا مشکلات کا ازالہ فرمایا جائے تاکہ غریب عوام سکون کی زندگی بسر کر سکے۔
بی ایل کپور اورمحمدیوسف
چیئرمین اورضلع صدررام بن جے اینڈ کے ہیومن رائٹس
٭٭٭