رمضان شریف کا مبارک مہینہ کئی دن قبل ہم پر سایہ فگن ہوچکا ہے۔ اس مہینے کو اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام ،قرآنِ کریم نازل کرنے کے لئے منتخب فرمایا۔ تمام سابقہ آسمانی کتابیں اسی ماہ میں نازل ہوئیں۔ حضرت واثلہ بن اسقعؓ سے راویت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے رمضان کی پہلی تاریخ کو نازل ہوئے، تورات چھ رمضان، انجیل تیرہ رمضان اور قرآن کریم چوبیس رمضان کونازل ہوا۔( مسند احمد) حضرت جا بر رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ زبور بارہ رمضان اورانجیل اٹھارہ رمضان کونازل ہوئی۔( ابن کثیر)۔رمضان کی وہ مبارک رات جس میں لوحِ محفوظ سے مکمل قرآن کریم آسمانِ دنیا کی طرف نازل ہوا شب قدر ہے۔ پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم تھوڑا تھوڑا کر کے 23 برس میں نازل ہوا۔
’’ ہم نے قرآن کریم کو تدریجاً اتارا تاکہ ہم آپ کے دل کو مطمئن کردیں اور ہم نے اس کو رفتہ رفتہ پڑھا۔‘‘ ( الفرقان: 32 )
رمضان کی دو اہم عبادتیں روزہ اور قرآن کی تلاوت ہیں۔ یہ دونوں عبادتیںقیامت کے دن سفارش کریں گی۔حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کہ روزہ اور قرآن شریف دونوں بندہ کے لئے شفاعت کرتے ہیں۔ روزہ عرض کرتا ہے یا اللہ! میں نے اس کو دن میں کھانے پینے سے روکے رکھا، میری شفاعت قبول کیجئے اور قرآن کہتا ہے کہ یا اللہ میں نے اس کو رات میں سونے سے روکا ،میری شفاعت قبول کیجئے۔ پس دونوں کی شفاعت قبول کی جاتی ہے۔
رمضان شریف کے مہینے میں نمازِ تراویح میں قرآن کریم کا پڑھنا اور سنناسنت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ ہر سال رمضان میں جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرمایا کرتے تھے۔جس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصال ہوا ،اس سال دو مرتبہ دور ہ فرمایا۔( بخاری)
تراویح میں قرآن کریم سننے اور سنانے کی سنت پر امت مسلمہ مسلسل عمل پیرا ہے۔ موجودہ دور میں مدارسِ اسلامیہ سے حفظِ قرآن کی سعادت پانے والے ہزاروں حفاظ کرام شہر و دیہات کی مختلف مساجد میں تراویح میں قرآن کریم سناتے ہیں۔ عوام میںقرآن کریم سننے کے ذوق و شوق میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ دراصل قرآن کریم ہی وہ نعمت ِعظمیٰ ہے کہ اس جہانِ رنگ وبو میں کوئی چیز اس سے زیادہ پُر تاثیر ہے ہی نہیں۔ اس کی تلاوت دلوں کو سکون وراحت عطاکرتی ہے۔ انسان کی سب سے بڑی سعادت اور خوش نصیبی یہ ہے کہ قرآن کریم کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کرے اور اس کے مفاہیم و معانی پر غور و فکر کرے اور اسی کو اپناوظیفہ بنائے۔ اس سے بڑی بد نصیبی کیا ہوگی کہ قرآن کریم سے اعراض کرکے اس کی تلاوت چھوڑ دی جائے اور اسکے مفاہیم پرغور نہ کیا جائے۔
حفظ و قرأت کے شعبہ میںمدارسِ اسلامیہ کی قرآنی خدمات کا زمانہ معترف ہے۔تجوید اور لہجہ کی ادائیگی پر جو محنت دینی مدارس کی درسگاہوں میں کی جاتی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ مدارس اسلامیہ میںطلباء کی ساری محنت ومشقت اور اساتذہ کی حد درجہ توجہ کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ نماز میں قرآن کریم پڑھتے وقت لحنِ جلی سے بچا جائے اور لحنِ خفی کا احتمال نہ رہے۔لحن جلی یہ ہے کہ ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف پڑھ دیا جائے یا حرکات کو بڑھا کر اور حروف مدہ کو گرا کر پڑھ دیا جائے۔ لحن خفی یہ ہے کہ حروف کے حسین ہونے کے جو قاعدے مقرر ہیں ان کے خلاف پڑھا جائے۔ حدیث شریف میں قرآن کریم کو عربی لہجوں اور ان کی آوازوں میں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نیز فرمان ِ پیغمبر ؐ ہے کہ اپنی آواز سے قرآن کومزین کرو ،کا حکم دیا گیا ہے۔
قرآن کریم کی تلاوت کا سب سے افضل موقع نماز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیاکہ تہجد کی نماز میں قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں۔ قرآن کریم کو ترتیل سے پڑھنے کا یہ حکم آغازِ نبوت میں ہی دیا گیا تھا۔ترتیل کے لفظی معنی کلمہ کو سہولت اور استقامت کے ساتھ منہ سے نکالنے کے ہیں۔ نمازِ تہجد اگر چہ قرأت وتسبیح،رکوع و سجود سبھی اجزائے نماز پر مشتمل ہے مگر اس میں اصل مقصود قرأت ِقرآن ہے۔ ( معارف القرآن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز بہت لمبی پڑھتے تھے اور یہی عادت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی بھی تھی۔اسی طرح تراویح کی نماز میں بھی اصل مقصود قرآن کریم کی قرأت یعنی تلاوت ہے۔حضرت ام سلمہ ؓ سے بعض لوگوں نے رات کی نماز میںرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوتِ قرآن کی کیفیت دریافت کی تو انہوں نے نقل کر کے بتلایا جس میں ایک ایک حرف واضح تھا۔ ( تر مذی،نسائی)
ترتیل میں بقدر اختیار خو ش آوازی سے پڑھنا بھی شامل ہے۔ حضرت علقمہ ؓ نے ایک شخص کو حسنِ صوت کے ساتھ تلاوت کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ اس شخص نے قرآن کی ترتیل کی ہے، میرے ماں باپ اس پر قربان ہوں۔ اصل ترتیل یہ ہے کہ قرآن کے حروف و الفاظ کی ادائیگی بھی صحیح اور صاف ہو اور اس کے معانی پر غور کر کے اس سے متاثر بھی ہو۔رفتار کے اعتبار سے قرآن کریم پڑھنے کے تین درجے ہیں:(۱)ترتیل:آہستہ اور اطمینان سے اور مدوں کو پوری مقدار سے پڑھنا۔مخارج و صفات کی رعایت رکھتے ہو ئے خوش الحانی سے پڑھنا۔ (۲)تدویر:حروف اور مدوں کو درمیانی رفتار سے پڑھنا۔ (۳)حدر:قواعد کی رعایت رکھتے ہوئے قدرے رواں پڑھنا۔لیکن اتنی تیز رفتاری نہ ہو کہ حروف کے حقوق ادا نہ ہوں اور نہ ہی تجویدکے قواعد کی رعایت رہے۔ فرض نمازوں میں ترتیل سے پڑھنا سب سے افضل ہے جبکہ نوافل اور تروایح میں تدویر یا حدر کی صورت اختیا ر کی جاسکتی ہے لیکن سب سے بہتر صورت ترتیل ہی ہے۔
عربوں کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم پڑھنے کا خاص ملکہ عطا فرمایا ہے۔اس سال سعودی عرب سے دنیا کے پنتیس ملکوں میں حفاظ کرام کو تراویح کی امامت کے لئے بھیجا گیا ہے۔ بیت اللہ میںتراویح کی نمازمیں قرآن کریم کی تلاوت کا ذکر کرتے ہوئے مفسر قرآن مفتی فیض الوحید صدر نشین مرکز المعارف جموں اپنے ایک مضمون ’’ حرم کی پناہوں میں‘‘ جو اسی اخبار میں شائع ہو چکا ہے، لکھتے ہیں: یوں تو دنیا بھر میں رمضان المبارک میں تراویح بھی پڑھی جاتی ہے اور تراویح میں قرآن کریم بھی سنا اور سنایا جاتا ہے لیکن جس کو اللہ تعالیٰ نے حرم پاک میںتراویح کا موقع نصیب کیا ہو ،اس نے ضرور یہ محسوس کیا ہوگا کہ قرآن اپنی شانِ قرأت کے ساتھ بس وہاں ہی پڑھا جاتا ہے۔اللہ
اللہ !دل کو کھینچنے والا انداز ہے،پُرسوز دل لبھانے والی آواز ہے۔ خوف خدا و خشیت الٰہیہ کے غلبے سے رقت آمیز لہجہ ہے۔ایسا لگتا ہے کہ جوش مارتا ہوا ایک سمندر ہے جو تھم گیا ہے۔نظام ہستی نے اپنے رب کے کلام کو سننے کے لئے کچھ وقت اپنی گردش روک دی ہے۔ جنت و جہنم کا تذکرہ آتا ہے تو قاری ان مناظر میں بہہ جاتا ہے ۔کئی دفعہ ایسا سما ںبندھ جاتا ہے کہ نزول کا منظر آنکھوں میں پھر جاتا ہے۔ دل خود بخود سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ جب چودہ سو سال بعد پڑھنے کا یہ عالم ہے تو جب حبیب ِخدا صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس زبان سے اسی حرم میں پڑھا جاتاہوگا تو یہاں کے درو دیوار کس طرح جھومتے ہوں گے۔تقریباً سوا دو یا ڈھائی گھنٹہ میں ایک پارہ تلاوت کیا جاتا ہے۔
گزشتہ برس مدرسہ اشرف العلوم حیدر پورہ سرینگر میں ایک عظیم الشان مجلس حسن قرأت منعقد ہوئی جس میں مفتی فیض الوحید دامت برکاتہہ بھی تشریف لائے تھے۔ مفتی صاحب نے قراء حضرات کو مشورہ دیا کہ ائمہ حرمین شریفین کے لہجہ کو اختیار کریں۔ مکہ میں مقیم ہمارے ایک دوست شیخ معراج صاحب نے بتایا کہ حرمین شریفین میں جوطلباء قرآن کریم سیکھتے ہیں ،انہیں ائمہ حرمین کے لہجوں میں پڑھنے کی خوب مشق کرائی جاتی ہے ۔ تراویح کی نماز میں ترتیل سے قرآن کریم کی تلاوت کرنے کے رجحان کو عام کیا جانا چاہئے۔ مساجد کے متولی اور مقتدی حضرات حفاظ کرام کو تراویح میں تیز رفتاری سے قرآن کریم کی تلاوت پر مجبور نہ کریں اور نہ ہی حفاظ کرام جلدی پڑھنے کا معمول بنائیں۔ قیامت کے دن صاحب ِقرآن سے کہا جائے گا کہ قرآن شریف پڑھتا جا اور بہشت کے درجوں پر چڑھتا جا اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جیسا کہ تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرتا تھا، بس تیرا مرتبہ وہی ہے جہاں آخری آیت پر پہنچے۔ ( ابو دائود، ترمذی )
وہ حفاظ کرام غور کریں جو تیز رفتاری سے قرآن پڑھتے ہیں کہ کل جب ان کا اعزاز و اکرام ہوگا او ر قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے بہشت کے درجات پر چڑھنے کاحکم دیا جائے گا توکیا وہ اس شرط پر پورا اتر سکیںگے کہ۔۔۔ ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جیسا کہ تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرتا تھا۔
فون نمبر8491096996