عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// محکمہ زرعی پیداواراورترقی کے وزیر جاوید احمد ڈار نے ہفتے کے روز کہا کہ حکومت نے کشمیر کے ژالہ باری سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگانے اور امدادی اقدامات شروع کر دئیے ہیں۔ انہوںنے اعلان کیا کہ کسانوں اور باغبانوں کیلئے طویل انتظار کی موسم پر مبنی فصل بیمہ اسکیم اس سال جون سے نافذ کی جائے گی۔؎جاوید احمد ڈار نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے، کشمیر اور جموں کے کچھ علاقوں میں شدید بارش اور ژالہ باری ہو رہی ہے جس سے باغبانی اور زراعت کے شعبوں میں فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ کسانوں اور باغبانوں کو ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے مختلف محکموں کے حکام نے پہلے ہی متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ (SDRF) کے اصولوں کے تحت معاوضہ اور راحت فراہم کی جا سکے۔ جاوید احمد ڈار نے کہا کہ کل سے ہمارے متعلقہ محکمے متاثرہ لوگوں کو امداد اور ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے یقین دلایاکہ ہر کسان کو نقصانات کے تخمینہ کے مطابق معاوضہ ملے گا۔وزیر موصوف نے مزید کہا کہ حکومت جون 2026 سے موسم پر مبنی فصل بیمہ اسکیم کو لاگو کرنے پر سرگرمی سے کام کر رہی ہے اور اس سال اس کے لیے بجٹ کے انتظامات پہلے ہی رکھے گئے ہیں۔محکمہ زرعی پیداواراورترقی کے وزیر نے کہاکہ فصل کی بیمہ سکیم جون کے پہلے ہفتے میں نافذ کی جائے گی۔انہوںنے کہاکہ حکومت کسانوں کیلئے پریمیم کا بوجھ برداشت کرے گی اور یہ عمل اپنے آخری مرحلے میں ہے۔ وزیر جاوید احمد ڈار نے انکشاف کیا کہ عمل درآمد میں تاخیر بار بار ٹینڈرنگ کے مسائل اور حکومت ہند کی طرف سے جاری کردہ انشورنس پالیسی کے رہنما خطوط میں تبدیلیوں کی وجہ سے ہوئی ہے۔انہوںنے مزیدکہاکہ ہم نے پچھلے سال اس عمل کو تقریبا حتمی شکل دے دی تھی، لیکن مرکز کی جانب سے تازہ معیارات اور نظرثانی شدہ پالیسیوں کے لیے دوبارہ ٹینڈرنگ کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے سیب کے بیج لگانے کے لیے ایک مارکیٹنگ انٹروینشن اسکیم (MIS) کا مسئلہ بھی مرکز کیساتھ اٹھایا ہے تاکہ سیب کے کاشتکاروں کے لیے مناسب قیمت اور بہتر معیار کی دیکھ بھال کو یقینی بنایا جا سکے۔