موجہ انوار
یم بہ یم موجۂ انوار میں آ جاتے ہیں
جو بھی چشمِ شۂ ابرار میں آ جاتے ہیں
حسنِ اخلاق کے امکانی مدارج بڑھ کر
حیطۂ سیرتِ سرکارؐ میں آ جاتے ہیں
ہو تصور میں مدینے کے اگر نقش و نگار
اشک پیرایۂ اظہار میں آ جاتے ہیں
اسمِ سرکارؐ کی جب بھی میں بناتا ہوں ردیف
قافیے وجد کے آثار میں آ جاتے ہیں
طلع البدر کے نغموں سے تجلی لے کر
’’قریۂ مدحتِ سرکارؐ میں آ جاتے ہیں‘‘
جب بھی آتے ہیں خیالوں میں نبیؐ کے نعلین
تارے جُڑنے مری دستار میں آ جاتے ہیں
جو بھی ہم بھیجتے ہیں سرور عالمؐ پہ دورد
روشنی بن کے شبِ تار میں آ جاتے ہیں
نعت لکھنی ہو مشاہدؔ تو انوکھے مفہوم
مسکراتے ہوئے اشعار میں آ جاتے ہیں
مشاہد رضا مصباحی
فیض آباد، اُترپردیش
نعت نبی ؐ
خدا کو سب سے پیارا ہے محمدؐ
رسولوں کا دلارا ہے محمدؐ
ہر اک آیت ہے اسکی ایک سیرت
قرآن کا ہر سپارا ہے محمدؐ
ستاروں نے اُسی سے نور پایا
ہر اک سورج سے پیارا ہے محمدؐ
غذا روح کو ملی ہے میری جب سے
میرے دل نے پکارا ہے محمدؐ
ہے محشر ہر نفس ہے بے بسی میں
شفاعت کا سہارا ہے محمد ؐ
ہلالؔ پھر غم رہے کیا اس جہاں میں
یقیں گر ہو ہمارا ہے محمدؐ
ہلال بخاری
ہردوشورہ کنزر ، کشمیر