اردو زبان
ورثے میں یہ ملی ہے اسکو نہ تم گنواؤ
اردو زباں ہے اپنی، دل سے اسے لگاؤ
تہذیب کو ہماری اس نے بلندی بخشی
شیرینیٔ سخن بھی ہے بے مثال اس کی
کتنے عظیم شاعر پیدا کئے ہیں اس نے
کیا دلفریب نغمے ہم کو دیئے ہیں اس نے
ہو میر کی غزل یا حالی کی ہو رباعی
ہر شعر نے لطافت اسکے ہی دم سے پائی
فرقوں میں بانٹتے ہو جو اس زباں کو سن لو
تم سے نہ بٹ سکے گی جتنے بھی جال بن لو
افسانہ پریمؔ جی کا تم کو کبھی دکھا ہے
کیا جانتے ہو ان کو ان کو کبھی پڑھا ہے
آتے ہیں کم جہاں میں چکبَستؔ جیسے شاعر
ہیں آج کل کہاں وہ لطف و سخن کے ماہر
آؤ فراقؔ سے بھی میں روبرو کرادوں
بیدی نے کیا کہا ہے چاہو تو میں سنا دوں
ہم تھے غلام جس دم حاکم تھے جب فرنگی
اردو میں گیت گائے سب نے تھے انقلابی
آزاد ہند کا نعرہ جب جہاں میں گونجا
آزاد تب ہوا تھا پیارا وطن ہمارا
بسملؔ نے اپنی نظمیں لکھیں اسی زباں میں
اشفاق نے لگائے نعرے اسی زباں میں
وہ جو شہید ہو کر اب تک ہیں یاد ہم کو
ان کی زبانِ شیریں لگتی ہے زہر اب تو
ہم سے حروفِ تہجی رو رو کے کہ رہے ہیں
جو پاسباں تھے ان کے وہ لوگ سو رہے ہیں
اے نوجوان غافل تو ہوش میں ذرا آ
سیلِ رواں میں بیجا یوں ہی نہ تو بہا جا
ہاتھوں سے خود تو اپنی میراث کھو رہا ہے
غفلت کی نیند سے کب بیدار ہو رہا ہے
میں نے کِیا ہے اب تک جن کا بھی زکر ان کی
اردو سے تھی محبت اردو زباں تھی ان کی
حمد و ثنا خدا کے عشیارؔ پڑھ رہے ہیں
اردو زباں میں اپنی ہر نظم لکھ رہے ہیں
عشیار عبداللہ
موبائل نمبر؛7006347399
حالِ عشاق
بن برق گرے آشیاں برباد ہوئے کیوں
نابود یہ چنارؔ اور شمشاد ہوئے کیوں
آفات کے نزول سے انکار نہیں ہے
چوگانِ نخل آن میں آباد ہوئے کیوں
تِنکوں کی طرح اُڑ گیا جو کچھ بھی پاس تھا
اب سوچتے ہیں ہم صاحبِ جائیداد ہوئے کیوں
کِس جرم کی پاداش میں مولیٰ یہ سزا دی
خوش باش مکیں مائلِ فریاد ہوئے کیوں
ہر سمت فصلِ خار سی پھر آن اُگی ہے
نازک اندام آمادہ ناد ہوئے کیوں
شکوہ بہ لب ہیں خود سے خود طائیرانِ دشت
شاخِ ثمر پہ جاکے ہم آباد ہوئے کیوں
باور نہیں تھے پیڑوں پہ گرتی ہے تجلی
ہم سادہ لوح آکے یاں برباد ہوئے کیوں
دشت و دمن کا کیف زا ماحول چھوڑ کر
کھانے پہ ہم آمادئہ کھاد ہوئے کیوں
اب کوستے ہیں رات دن اپنے نصیب کو
ہم رونقِ بازار کے فرہادؔ ہوئے کیوں
دانستہ ہم نے ترک کیا طرز سلف کو
یہ دور اپنی زیست کے برباد کئے کیوں
المختصر عُشاقؔ کا یہ حال ہے آذرؔ
شِکوہ کریں تو کیا کریں برباد ہوئے کیوں
عُشاقؔ کشتواڑی
صدر انجمن ترقی اردو (ہند)شاخ چناب ویلی کشتواڑ،جموں
موبائل نمبر؛9697524469
کتابِ جاں کا ورق
تم نے تو یہ پھر لکھا ہے
داستاں مٹانی ہے
جو لکھی تھی مل کر کیا
تحریر وہ جلانی ہے
خوف ہے عبارتوں سے
سچ نہ کچھ جھلک جائے
منجمد ہے جو اَب تک
غم نہ وہ پگھل جائے
میں کہوں اگر تم سے
اے حریفِ جاں میرے
کیسے وار دوں اُن پر
قیمتی نشاں میرے؟
جن پیامی لمحوں کو
تم عذاب کہتی ہو
میں نے ان ہی لمحوں میں
کاٹی ہیں حیات اپنی
روح کے نہاں خانوں میں
اک دیا سا روشن ہے
تم جسے بجھاتی ہو
وہ مرا نشیمن ہے
وہ دیا بجھا دوں کیا؟
اپنا گھر جلا دوں کیا؟
جس کی ایک اک جنبش
میرے فن کا حاصل ہے
جس کا ایک اک نقطہ
میرا نقشِ منزل ہے
اپنا فن گنوا دوں کیا؟
راستہ بُھلا دوں کیا؟
وہ جو عہدِ ماضی میں
ایک کچے بندھن کو
تم نے نام بخشا تھا
سونپا تھا یہ جیون کو
وہ اگر ندامت ہے
وہ اگر خسارہ ہے
پھر بتاؤ دنیا میں
میرا کیا سہارا ہے؟
قیسؔ ہار بیٹھا ہے
ان سبک خیالوں سے
منہ چھپاتی پھرتی ہو
اپنے ہی سوالوں سے
بے رخا جئیں کیوں ہم؟
راکھ اب چنیں کیوں ہم؟
خواب اب بُنیں کیوں ہم؟
کیسر خان قیس ؔ
ٹنگواری بالا ضلع بارملہ
موبائل نمبر؛6006242157