کھڑے ہیں ایک صف میں
بِن ’’گیس‘‘ کے پھیکا پڑا اب رہن سہن ہے
بابتِ حیات جب کہ یہ اللہ کی دین ہے
پیری کے اِس دور میں شاملِ قطار ہوں
آئیگی میری باری کب تھکتی کہ نین ہے
اِک صف میں آج محمدؔ اور اباز ؔ کھڑا ہے
مسئلہ نہیں ہے ذات کا وہ مسلمؔ یا جینؔہے
ہوتے نہیں تھے پہلے یوں بوڑھے قطار میں
دستِ ہتاش میں آج پر سب کے ’’کین‘‘ ہے
اِک گھونٹ پی کے آب یہ رہتے ہیں کھڑا کھڑا
گرمی کے سبب اِن کا پر مفلوج ذہن ہے
کرتا ہے اگر بات کوئی اِن کے اعیال کی
’’سلنڈر‘‘ ہو دستیاب کب یہ غرض ’’مین‘‘ ہے
کس حال میں عُشاقؔ ہے بِن ’’گیس‘‘ کے آذرؔ
مت پوچھو مجھ سے ناگفتہ بہہ اپنا کہ ذہن ہے
عُشاقؔ کشتواڑی
صدر انجمن ترقی اردو (ہند)شاخ چناب ویلی کشتواڑ،جموں
موبائل نمبر؛9697524469
زندگی
زندگی
وہ نہیں
جو میں نے کبھی پریوں کی کہانیوں
یا افسانوں میں پڑھی تھی۔
یہ کچھ اور ہے
کچھ حقیقت،
جو حقیقت پسندی سے جڑی ہوئی ہے،
اور منطق کی رہنمائی میں چلتی ہے۔
یہ ایک مسلسل کشمکش ہے
دماغ اور دل کے درمیان،
جذبہ بمقابلہ عقل۔
اور حقیقت یہ ہےکہ
اکثر منطق غالب آ جاتی ہے
ان جذباتی طوفانوں پر۔
رئیس احمد کمار
قاضی گنڈ کشمیر
ہم کسی خواب کو مرنے نہیں دینگے
مرتے ہیں ابھرتے ہیں
بگڑتے ہیں سنورتے ہیں
اک طفل کا عالم ہے
مکرنے نہیں دینگے
اب کسی خواب کو ہم
مرنے نہیں دینگے
کہہ کہہ کے تو کہتا ہے
دل رہ کے جو سہتا ہے
اس حد پہ آ کے ہم
سدھرنے نہیں دینگے
اب کسی خواب کو ہم
مرنے نہیں دینگے
اے دل کی صدا کھول
اے خاک کی قبا بول
مدت سے جو مردہ ہیں
انہیں مرنے نہیں دینگے
اب کسی خواب کو ہم
مرنے نہیں دینگے!!
شہزادہ فیصل
کرن نگر، سرینگر
موبائل نمبر؛ 8492838989
عارضی دنیا
دنیا
عارضی ہے اس میں دل نہ لگاو۔
موت
یقینی ہے ،اس کی تیاری کرو۔
وقت
قیمتی ہے اسے ضائع نہ کرو۔
نماز
فرض ہے، اسے قائم رکھو۔
قرآن
ہدایت ہے، اسے پڑھا کرو۔
دعا
مانگو، اسی میں طاقت ہے
صبر
کرو، اسی میں آسانی ہے۔
شکر
ادا کرو، اسی میں برکت ہے۔
گناہ
چھوڑ دو، یہی کامیابی ہے۔
استقفار
کرو، دل کو سکون ملتا ہے۔
نیت
صاف رکھو، عمل قبول ہوتا ہے۔
توکل
رکھو، اللہ بہتر فیصلہ کرتا ہے۔
اللہ
کو یاد رکھو ، دل کو یقینی سکون ملتا ہے۔
سیدمنصور احمد شاہ
ڈوڈہ، جموں
موبائل نمبر؛9797503083
ملاقات کی تمنا
ویسے ہی گزر رہی ہے زندگی تیرے بغیر
جیسے تو بھی جی رہا ہے میرے بغیر
جینا مرنا لگ رہا ہے روز کا معمول
سب برابر ہی لگ رہا ہے ہر بار
کچھ یادیں، کچھ ذمہ داریاں اور کچھ خواب
کچھ بھی اپنا نہیں سبھی لگتا ہے بیکار
درد تھے جو بھی وہ سب میرے حصے میں آئے
تیرے حصے میں کیا آیا کچھ تو بتا اک بار
بولنا؟ تنہا زندگی سے سب کچھ نکل گیا
بس رہ گئے جینے کے اب دن دو چار
کام تیرے وہ میں نے سارے پورے کئے
رکھ کے چھوڑے تھے جو تم نے مجھے اُدھار
مجھے بنا کے خُوب خود نکل ہی گئے
کیوں نکل گئے اتنے جو تھے سمجھدار
بس میرے پاس قلم ہی رہ گیا باقی
درد میرا جو ہے وہی لفظوں میں ہے اُبھار
تیرا دیدار تو ہو ہی جاتا ہے لیکن
آنکھ کھلتے ہی مرنا پڑتا ہے سوبار
آجا میرا بھی دکھ درد کچھ سُن لے
چاہے آکچھ دنوں کے لئے ہی اُدھار
رویندر کور کوملؔ
آلوچی باغ، سرینگر، کشمیر
موبائل نمبر؛9682565053