دو گلاب
رات دیکھا
دور بادلوں کے
اُس پار جاکے
جل گیا ۔۔۔۔میرا چاند
تنہا
پھر لپٹ کرمجھ سے دیر تک روئی رات
میرے بھی کچھ آنسو جھلملائے
سویرے دیکھا
آنگن میں دھوپ چمکیلی تھی
دو سیاہ گلاب
نکل آئے تھے
مشتاق مہدی
مدینہ کالنی۔ملَہ باغ،
سرینگر ۔کشمیر
موبائل نمبر؛9419072053
جمالِ قدرت
یہ تو تیری قدرت کا ہی کمال ہے
ہر سمت تیری شان کا یہ جمال ہے
گلشن کی رنگتوں میں ہے تیرا ہی عکسِ نور
کلیوں کی مسکراہٹ میں تیرا وصال ہے
تاروں کی انجمن ہو یا سورج کی روشنی
ذراتِ کائنات میں تیرا جلال ہے
صحرا کی وسعتوں کو دی تو نے ہی ہیبتیں
دریا کی موج موج میں تیرا ہی حال ہے
تیرے ہی دم سے قائم ہے ہستی کا یہ نظام
تیرے بغیر زیست تو محض اک خیال ہے
تیرے کرم کا سایہ ہے سب پر مہیط یوں
بندے کی ہر پکار پہ تیرا سوال ہے
جھکتا ہے تیرے در پہ جو صدقِ خلوص سے
ایوبؔ اس کی بندگی پھر تو کمال
محمد ایوبؔ گنائی
ٹیچر جی ایچ ایس ایس ترال
موبائل نمبر؛9596359446
تیری یاد
تری یاد جب شام ڈھلنے لگی
تو آنکھوں میں اک روشنی جلنے لگی
ہوا نے کہا، ’’تو ہے نزدیکِ جاں‘‘
مری سانس بھی خوشبو بننے لگی
وہ لمحہ، وہ وعدہ، وہ چپ کی صدا
مرے دل کی دیوار ہلنے لگی
تری زُلف میں رات گم ہو گئی
تری بات سے صبح کھلنے لگی
میں دیکھوں تجھے، تو زمانہ رُکے
یہ خواہش مری حد سے چلنے لگی
کبھی خواب میں تو، کبھی یاد میں
تری راہ دل میں مچلنے لگی
محبت کی صورت، عبادت کی طرح
تری آنکھ دل میں اترنے لگی
تری مسکراہٹ، دعا کی طرح
ہر اک دکھ سے مجھ کو سنبھلنے لگی
سبّدر شبیر
اوٹو اہربل کولگام
[email protected]
طلوع افکار
سب کچھ خاک ہوا اِسی کی حیرانی ہے
کیوں اور کیسے سر سے اوپر گیا پانی ہے
میں ہر ایک کے ساتھ اچھے مراسم رکھتا ہوں
کسی کے ساتھ کرتا نہیں آنا کانی ہے
ہر روز وہ خط لکھتا ہے مجھے آجکل
مگر دُہراتا وہی گِھسی پٹی کہانی ہے
زندگی سب مزہ کِرکرا ہو چکا ہے
جب سے رفیقہ حیات نے کی نقل مکانی ہے
عمرِ خضرؑ بھی گر ہو یا رو! عطا
زندگی پھر بھی آنی جانی ہے
غلام نبی نیئر
ناصر آباد کولگام کشمیر
موبائل نمبر؛9541547612