پرندوں کی دنیا
خداوندا چہل قدمی رہے قائم پرندوں کی
صُبح دم صحنِ عالم میں یہ اکثر آتے جاتے ہیں
سراسر اِن کی آمد سے چمن کی سب فضا بدلے
سحر کُن لہن میں اکثر نغمے گنگناتے ہیں
رگِ گُل سے بھی نازک تر یہ تنکے لاتے رہتے ہیں
ان ہی کو جوڑ کر اکثر ٹھکانا یہ بناتے ہیں
تصور شاخِ نازک کو یہ کرتے ہیں وطن اپنا
اِسی اِک شاخ پہ بیٹھے! جہاں اپنا بساتے ہیں
بچا لیتے ہیں گھر اپنا یہ ہر موجِ حوادث سے
انہیں احساس ہے گاہِ برق گرتی ہے پیڑوں پر
عنایت کی خُداوند نے انہیں عقلِ سلیم ایسی
نظر رکھتے ہیں یہ اکثر زمانے کے بکھیڑوں پر
چمن کی رنگ و رونق کا ہے سہرا اِن پرندوں پر
صبح دم اِن کے نغموں سے چمن میں بہار آتی ہے
سُنو کوئل کی کُو کُو کو کہیں پنگھٹ پر تُم جاکر
لگے ایسا غزل کوئی کہیں گلنار گاتی ہے
بہ طرزِ خاکروب ہر دن یہ اکثر کام آتے ہیں
غلاظت پھنکنے والوں کو یہ پیغام دیتے ہیں
زمین کے گوشے گوشے کو فقط پاکیزگی چاہئے
اِسی پر بیٹھ کر ہم سب خُدا کا نام لیتے ہیں
ہر اِک آفت سے ائے مولیٰ بچائے رکھ پرندوں کو
کہیں اِن کا پتہ لگ جائے نہ انسانی درندوں کو
شکار اِن کا یہ کرتے ہیں بطور شوق دُنیا میں
دکھائی خیر و شر مطلق نہیں دیتاہے اندھوں کو
جہانِ زیست میں انساں بہت عاقل و اعلیٰ ہے
اِسے ہر شے کی اہمیت کا بخوبی علم ہوتا ہے
اَثاثہ خیر وشر کا بس اِسی کو داتؔ نے بخشا
مگر پھر باوجود اِسکے یہ فصلِ شہ ہی بوتا ہے
عُشاقؔ کشتواڑی
صدر انجمن ترقی اردو (ہند)شاخ چناب ویلی کشتواڑ،جموں
موبائل نمبر؛9697524469
اَشِک
زخم گہرے اتنے کہ سمندر کے گہر ہوگئے
آنسؤں ہیں راحتِ جان جیسی شبنمِ سحر ہو گئے
دل کی کیا سناؤں یارو، یاروں نے دل توڑ دیا
خود کی باتیں ، خود کو سُنایٔیں یوں مننا نے دہر ہوگئے
کِس کو کِس سے راحت ، یہ تو ہم خوب جانتے تھے
اُن کا ہی سلیقہ نِرالا ٹھہرا، ہم عبث شہر بدر ہو گئے
سُن رکھے تھے بہت قِصے محبت کے دیوانوں کے
میرے پلے نہ کچھ پڑا فقط اوسان حشر ہوگئے
مجھ کو جنون کی حد تک ، تھی محبت اُن سے مگر!
زمانے سے شکواہ کروں کیا ، لوگ قلندر ہوگئے
تنہاؔ تیری زبان ِ قلم پر، چھائی ہے سیاہی دھُندلی سی
اشک پی پی کر نجانے یہاں لوگ کتنے سمندر ہوگئے
قاضی عبدالرشید تنہاؔ
روزلین چھانہ پورہ، سرینگر کشمیر
موبائل نمبر؛7006194749