وہاں داغؔ پہنچا وہ اقبالؔوحالیؔ
ادیبوں کی دُنیا ہے آذرؔ نرالی
خیالات اُونچے مگر جیب خالی
دفینۂ علم پاس ہوتے ہوئے بھی
یہی ایک طبقہ ہے کنگال خالی
خلق بھولتی ہے بڑے شہنشاہ کو
مگر وردِ زبان اِن کو ہے الطاف حالیؔ
سمجھتا ہے اکثر یہ ادنیٰ و اعلیٰ
ادیبوں کے گھر روز ہوتی دیوالی
پھر اِک گام پہ اِن کو مغرور پایا
کرے جیسے اَلمست ہے کارِ حمالی
وسیع اِن کا چوگاں ہے فکر و نظر کا
زمینِ ادب کے ہیں یہ آپ مالی
جہاں فلسفی کا تصور ہی نہ پہنچا
وہاں سوچ شاعر کی پہنچی جمالی
پکڑلیں یہ اِک آن میں نبضِ فردا
یہ ٹولا ادیبوں کا ہے کیا کمالی
جہاں دُوربیں کی نگاہ مات کھائے
وہاں داغؔ پہنچا وہ اقبالؔ و حالیؔ
یہی ایک طبقہ ہے معقولِ فطرت
اُٹھایا قلم جوں ہی گنگاؔ بہالی
نہیں اِن کو مطلق ہے خوفِ حوادث
نہیں موجِ طوفاں میں گردن جُھکالی
نجومی نے جب بخت ان کے ٹٹولے
توپایا انہیں ایک ٹولہ کنگالی
لکھا اِن کے حق میں یہ تاریخداں نے
یہی بعدِ مُردن بھی ہونگے مثالی
نہیں ان کو سمجھو یہ دریوزہ گر ہیں
بھری علم سے اِن کی رہتی ہے تھالی
پیمبر یہی بس ہیں کانِ ادب کے
ہیں افکار اِن کے ہی عمدہ و عالی
جہانِ ادب کے سبھی کُتب خانے
مابعد اِن کے بھی ہونگے جمالی
نشاطِؔ گرامی کا ہے یہ فیض عُشاقؔ
جو باغِ ادب کا بنا میں بھی مالی
جگدیش راج عُشاقؔ کشتواڑی
صدر انجمن ترقی اردو (ہند)شاخ چناب ویلی کشتواڑ،جموں
موبائل نمبر؛9697524469
تجلیوں کی سحر ہے آج کی رات
جاں فزا نورِ قمر ہے آج کی رات
اک عطاؤں کا سفر ہے آج کی رات
یہ زمیں خلدِبریں سی سج گئی ہے
وہ درخشاں معتبر ہے آج کی رات
ابرِ رحمت کی ہوئی برسات اُس پر
سجدے میں جو بھی بشر ہے آج کی رات
مانگنے والے تہی داماں نہیں رہتے
وہ دعاؤں میں اثر ہے آج کی رات
جگ مگا اُٹھا نصیبا اس بشر کا
محوِ سجدہ جو بھی سر ہے آج کی رات
بہرہ ور ہونے لگے رب کے کرم سے
جو بشر دست نگر ہے آج کی رات
صبح دم بکھری ہوئی ہیں رحمتیں رب کی
ایسی جلوؤں کی سحر ہے آج کی رات
مانگ لو دل کی مرادیں، گونجتی ہے
یہ صدائے رب سر بہ سر آج کی رات
مانگنے دل سے معینؔ اپنی دعائیں
پوری ہوں گی وہ سحر ہے آج کی رات
معین فخر معین
موبائل نمبر؛003443837244
قدرت کی موجیں
یہ بادل یہ برسات یہ بارش کی کھوجیں
یہ دریا یہ لہریں یہ سمندر کی موجیں
یہ سبزہ یہ خوشبو یہ رنگین چمن زار
یہ گلشن یہ غنچے، یہ معطر کی موجیں
یہ پیڑوں کا رقص اورسرگوشی ہوا کی
یہ پنچھی، یہ نغمے، یہ منظر کی موجیں
فضاؤں میں گُھلتا یہ کیسا نشہ ہے
لبِ جو یہ ساقی، یہ ساغر کی موجیں
یہ صحرا کی وسعت، یہ تاروں کی دنیا
یہ خاموش راہیں، یہ منصور کی موجیں
کبھی دور صحرا کی خاموش رنگت
کبھی کوہساروں کے معمورکی موجیں
یہ بکھری ہوئی دھند پہاڑوں کے اوپر
یہ وادی، یہ جھرنے، یہ پتھر کی موجیں
عجب ایک جادو ہے قدرت کے رخ پر
کبھی برف باری کبھی زر کی موجیں
ازل سے ابد تک ہے جاری یہ ہنگام
یہ مٹی یہ خوشبو یہ پیکر کی موجیں
اسی میں کہیں کھو گیا ہے میرا دل
اٹھاتی ہیں یادیں جو نشتر کی موجیں
کہاں جا رہی ہیں، کسے ڈھونڈتی ہیں؟
مرے دل میں اُٹھتی یہ مضطر کی موجیں
تلاطم ہے کیسا یہ سوچوں کے بَن میں
بہا لے نہ جائیں یہ اندر کی موجیں
خدا جانے کس سمت لے جائیں ہم کو
خیالوں کے طوفان یہ جی بھر کی موجیں
چلو اب یہاں سے کنارے پہ ٹھہریں
بہت تھک گئی ہیں اب ایوب، ؔیہ موجیں
محمد ایوبؔ ؔ
[email protected]