تتلیوں کا موسم
تم نے تتلیوں کا موسم دیکھا ہوگا
میں نے نہیں دیکھا
میں تتلیوں کا پیچھا کرتا رہا
اور موسم ڈھلتا گیا
جب تک کہ میں بڑا ہوگیا۔
تتلیوں کا موسم انا کےدھوئیں میں کھو گیا
اور میں خالی ہاتھ تصورات کی وادی میں بھٹکتا رہ گیا۔
تصورات میرے شاعر کا اثاثہ ہے
جو کسی کام کا نہیں
میر سے غالب تک سبھی میری طرح
تتلیوں کو پکڑنے کی بے سود رائگانی میں موسم کھو گئے۔
نہ بادل جھومے نہ بارشیں گنگنائی
نہ پھول مہکے نہ تتلیاں ہاتھ آئیں
پیاس لگی تو اوس کے قطرے چکھ لئے۔
غم کا پیراہن تار تار ہوا
تو زخم عریاں ہوئے
قہقہے زمین سے پھوٹے
اذیتوں پہ کونپلیں نکل آئیں
ہوائیں یادوں کے گھاؤ کریدنے لگی
کرنیں نمک چھڑکتی گئیں۔
پتنگوں کے پیچھے دوڑنے والوں کا ناول تتلیوں کا موسم لئے خوب بک گیا
میری تتلیاں مٹھی میں آنے سے پہلے ہی مر گئیں
تتلیوں پہ لکھے مرے اشعار چیخوں تلے دب گئے
تتلیوں کا جو موسم میرا تھا
وہ میرا نہیں ہوا
میں کب بڑا ہوگیا پتہ نہیں چلا۔
چاندنی راتوں میں آج بھی کبھی کبھی ہتھیلی پہ تتلیاں بناتا ہوں
پھر مٹاتا ہوں
سوچتا ہوں
میں اب بڑا ہوگیا ہوں
تتلیوں کا موسم مجھ سے چھوٹ گیا ہے
یہ جو ہے رنگیاں سرسراہٹ کی لے پہ رقص کرتے ہوئے میری اور آرہی ہیں
خزاں زدہ شجر کے آدھ سوکھے پتے
ہیں
تتلیاں نہیں!!!!!!!!
علی شیداؔ
نجدون نیپورہ اسلام آباد، اننت ناگ
کشمیر موبائل نمبر؛9419045087
بہ حالتِ زار
دیارِ غیر میں آکر ہوئے بیمار سردی میں
نہ ہمراہ کوئی معاون ہے نہ ہے تیمار سردی میں
یہ تحفہ کشتِ کشپؔ نے ہے بھیجا شہرِ جموں کو
اُٹھائو تم بھی ہلکا سا ہمارا بار سردی میں
مکیں ہوں ایسے خستہ میں بعیں جو گور ہے آذرؔ
خموشاں جسکی یکسر ہے در و دیوار سردی میں
پڑی ہے دید حیرت میں ہوں کیسے اب تلک زندہ
پکڑتی سانس ہے کیسے ابھی رفتار سردی میں
ہوائیں چُھوکے آتی ہیں یہاں قطبین کو شاید
بمؤجب اسکے چلتی ہیں یہی خونخوار سردی میں
اسیرِ گردشِ ماتم پڑا ماحول ہے دیدے
ہوا غارت سکونِ دل، جگر ہے تار سردی میں
بظاہر ہے چلن قائم حیات و موت کا اب بھی
یہ باطن ہے خلق ساری پئے آزارسردی میں
بہار انگڑایاں لیگی یہ مانا پھر کہ گھر گھر میں
رکھیں اُمید ہم اسکی یہ ہے بیکار سردی میں
بہ دوراں ناگفتہ بہہ حالت اگر مقصود ہے جینا
اُٹھائو سر پہ جینے کا اماں پھر یار سردی میں
بحالتِ غیر کے بھی کچھ میرا یہ شُکر ہے مولیٰ
ہے ملتا صبح دم عظمیٰؔ ہمیں اخبار سردی میں
طنابیں طوقِ ہمت کی ابھی کچھ تھام لو عُشاقؔ
یہ مانا سر پہ طاری ہے ابھی کچھ بار سردی میں
عُشاقؔ کشتواڑی
صدر انجمن ترقی اردو (ہند)شاخ چناب ویلی کشتواڑ،جموں
موبائل نمبر؛9697524469
وقار
ہر شخص یہاں اپنی جگہ پر آزمایا جاتا ہے
لفظ کم بولے جائیں تو مزاج بنایا جاتا ہے
سچ اپنی قیمت وقت دیکھ کر بتاتا ہے
ہر دور میں سچ ایک سا نہیں نبھایا جاتا ہے
ہم نے سمجھا خاموشی کمزوری ہوتی ہے
بعد میں معلوم ہوا یہ ہنر سکھایا جاتا ہے
جو بات دل میں رہےوہ بوجھ نہیں بنتی
بوجھ وہ ہوتا ہے جو سب کو سنایا جاتا ہے
زمانہ الزام نہیں آئینہ دکھاتا ہے
چہرہ وہی رہتا ہے بس رنگ بدلا جاتا ہے
آخر میں انسان یہی سیکھ پاتا ہے
وقار مانگا نہیں جاتا کمایا جاتا ہے
محمد خلیل
[email protected]
اسے کشمیر کہتے ہیں
حسیں تصویر کہتے ہیں
اسے کشمیر کہتے ہیں
یہاں کے لوگ ہیں پیارے
بہت اعلی بڑے نیارے
نرم گو ہیں یہاں سارے
کہ دل ان کے برف والے
بھلی جاگیر کہتے ہیں
اسے کشمیر کہتے ہیں
سبھوں کی آرزو دیکھو
ہے سب کی جستجو دیکھو
یہ کتنا خوبرو دیکھو
خُلد ہے ہو بہو دیکھو
سبھی تقدیر کہتے ہیں۔
اسے کشمیر کہتے ہیں۔
بڑے مخمور سے چہرے
یہ دیکھو حور سے چہرے
ہیں ہر جا نور سے چہرے
سبھی مشہور سے چہرے
اجی… توقیر کہتے ہیں
اسے کشمیر کہتے ہیں ۔
چمک مہتاب جیسی ہے
لچک سرخاب جیسی ہے
ہمک تو آب جیسی ہے
دمک بھی خواب جیسی ہے
حسین تعبیر کہتے ہیں
اسے کشمیر کہتے ہیں۔
فلک کا شامیانہ ہے
زمین کا آشیانہ ہے
جہاں سارا دیوانہ ہے
اگر جنت فسانہ ہے
اسے تفسیر کہتے ہیں
اسے کشمیر کہتے ہیں۔
فلک ریاض
حسینی کالونی چھترگام کشمیر
موبائل نمبر؛6005513109
نظم
اپنی اپنی مد میں رہنا چاہیے
امن سے سرحد میں رہنا چاہیے
مغربی تہذیب کے افعال کو
مستقل مرقد میں رہنا چاہیے
جاں کی بخشش کے لئے شاہین کو
چند دنوں گنبد میں رہنا چاہیے
ساتھ میں لاتی ہیں یہ آسانیاں
مشکلوں کی زد میں رہنا چاہیے
آسمان کا یہ ہمیں پیغام ہے
آدمی کو حد میں رہنا چاہیے
ماجد جامی
محمد آباد ، ڈوڈہ، جموں
موبائل نمبر؛9858599000