پُر تَپِش چِلۂ کَلان
اِس برف کے سب مُنَتظِر، ہیں یاں مگر اب کے برس
یہ پرُ تَپِش چِلۂ کلاں کچھ اور ہی جَتلائے ہے
نَالاں ہے سَنگ و ہر شجَر،بے بَرف اس موسم میں یہاں
ہر تِشنہ لَب کو یہ خبر، جہلم ندی بتَلائے ہے
جب جب زمیں کا تن بدن، جَاڑے میں تَرسے بُوند کو
تب تب مہینۂ ہَاڑ تو، بس دُھول ہی چَٹوائے ہے
وہ کَانگِر تو ہے سَر خَم واں، بے سَتر تَن اور مَن پر اب
کہ سوزاں یہ سَماں بس، کِیل پر ہی ٹَنگوائے ہے
دَرزِ زَمیں چِیخے ہے یاں ،سِسکے ہر اک چَشمہ بھی اب
اور یہ سَماں سَر مَست تو، ہر آہ کو دہکائے ہے
جھیلِ ولر میں اب کے تو، رائج چہل قدمی ہے یاں
شاید ہماری خُو خَطا ہی یہ سماں دِکھلائے ہے
َربُ العلا،مُشکل کُشا ، نے دے رکھا ہے راستہ
توبۂ نَصُوحَا ہر قدم، ہر رَنج سے چُھڑوائے ہے
سید بشارت بخاری
موبائل نمبر؛ 9419000728
آندھیاں
آندھیوں کا کیا
وہ آکر چلی جاتی ہیں
مگر ہم
ذی روح،زندہ
ایک دانہ ، ایک قطرہ
ایک زمین سے
وابستہ
ہمارا بسیرا
ہرے بھرے پیڑ کی
ان خوبصورت
شاخوں پر
مانا
میرے بال و پر
جدا ہیں ۔
تیری چال میری اُڑان
الگ ہیں ۔
تم اپنی چال میں مگن
میں اپنی خال میں خوش
خون پسینہ ایک کر
ہم تم تنکے جوڑ کر
بنائے اپنا پیارا گھر
پیڑ کی موٹی شاخوں پر
ہوا کے جھونکے
اورہم تم
مل کر
اپنے سروں میں
گاتے ہیں ۔
یہ بے رحم آندھیاں
کہاں سے آتی ہیں ،
آکر
کریں بےگھر ہمیں
گھر ہمارے گرتے ہیں
خون ہمارا بہتا ہے
دل ہمارے جلتے ہیں
آندھیوں کا کیا
وہ آکر چلی جاتی ہیں ۔
کون جانے
یہ۔۔۔۔
بے نام و بے نشاں
بے رحم، بے خبر
نہ ان کا خون ہوتا ہے
نہ جگر ان کا کٹتا ہے
بارود کی ۔۔۔
آندھیاں
کہاں کہاں سے آتی ہیں
کن کے ذہنوں میں
پلتی ہیں ۔
���
ریحانہ شجر
وزیر باغ سرینگر، کشمیر
[email protected]
اعتبار زہر پر
بہت مدتوں بعد آیا ہے زہر کا خط
جو خط پڑھا تو لکھا تھا کچھ ایسا
کیا تم وہی ہو جسے انتظار تھا میرا؟
کیا تم وہی ہو جسے اعتبار ہے مجھ پہ ؟
بڑا عجب منظر ہے کہ کوئی اعتبار و انتظار بھی کرتا ہے میرا
ورنہ لوگ اکثر میرے نام سے گھبراتے ہیں۔
اب بتاؤ کیوں تمہیں اعتبار ہے مجھ پہ اور انتظار تھا میرا؟
میں مسکرایا ، پھر جواب لکھنے لگا۔
میں اُس دنیا میں رہتا ہوں جہاں روز و شب لوگ مرتے ہیں
سوتا ہے یہاں کوئی بھوکے پیٹ، کسی کی بھوک ہی پیڑوں کیلئےہوتی ہے
یہاں حق کے لیے نہیں لڑتا کوئی ، یہاں لڑتے ہیں لوگ مذہب پر ۔
وہاں غربت سے کیوں لڑے کوئی جہاں مرنے کو چند غریب بیٹھے ہوں؟
وہاں قاعد کیوں بنے کوئی،جہاں لبّیک نہ کہے کوئی؟
یہاں ہر کسی کے ہزار چہرے، ہر کوئی لیتا ہے پیسوں پہ پھیرے۔
بس یہی بات ہےکہ مجھے اعتبار ہے تم پر اور مجھے انتظار تھا تیر۱ ۔
ناصر حسین
دراس، لداخ
موبائل نمبر؛ 7889386531
آپ کہاں ہو ڈیڈ ی
میں ہر شب
دبے پاؤں
آپ کے کمرے کا دروازہ کھول کر
آپ کے قریب جاکر
بیٹھتی ہوں ۔
آپکو تکتے رہنا
آپ سے باتیں کرنا
ہزاروں گلے شکوے کرنا
آپکا خاموش رہ کر سب سننا
آنسو پونچھنا اور
بنا الوداع کہے
واپس دروازہ بند کرنا
میری عادت بن گئی ہے
روحی جان
نوگام سرینگر، کشمیر
گُل
مجھے کلی سے
پیار ہے
غنچے سے
محبت ہے۔
شِگوفہ کا حُسن
مجھے
بھاتا ہے۔
میں اَدھ کھلے
پھول پر
فریفتہ ہوں
لیکن
میری گروید گی
ہار
مان لیتی ہے۔
سمجھو
ہار جاتی ہوں
بے بس
ہو جاتی ہوں
جب لوگ
خوشبو لینے سے پہلے
پھول کو مَسل دیتے ہیں۔
یوضاوسیم بٹ
نیرویٹرنری ہاسپیٹل کشتواڑ،جموں