سالِ نو کی قیاسی جھلکیاں
رفتہ رفتہ سالِ نو آنے کو ہے
عصرِ حاضر محروم ہستی ہوجائیگا
پیش گویاں ہونگی پھر سامانِ دید
جھلکیاں اپنی یہ کچھ دکھلائیگا
لالہ کاری اب اسکی ہوگی پیشِ دید
بے بال و پر ہوکے بھی یہ اُڑ جائیگا
لمحہ لمحہ یہ بدل لیگا پھر روپ
گاہ راحت پھر گائہ الم لے آئیگا
چھوڑ کر سب پیچ ہائے خم میاں
دوشِ عالم پہ یہ رکھ کر یاسگی
جشنِ رحلت اپنا منائیگا آپ ہی
عمر کم ہونے کی ہوگی پاسگی
سالِ رفتہ کا وطیرہ چھوڑئے
پھر اصولِ سلف سے خود کو جوڑئے
عصرِ حاضر کا تقاضہ ہے یہی
نسلِ نو، کو اپنی جانب موڑئے
نسلِ نو کویہ بتا دو صاف صاف
شکست خوردہ شام اب جانے کو ہے
پھر فروزاں ہوگی یاں شمعِ حیات
قلبِ انساں کچھ نیا پانے کو ہے
تہہ دل رکھیو نہ کچھ کین وملال
ہوگا غارت مُلک کا جاہ و جلال
گر اصولِ سلف پہ ہم چل پڑیں
پھر نہیں ہوگا کوئی زیرِ زوال
خوشی لائے نہ لائے سالِ نو ، مگر
خلق اِس بات سے ڈرتی نہیں ہے
رہیگا باغِ ہستی پھر بھی تاباں
طبعِ حساس آہ بھرتی نہیںہے
عُشاقؔ کشتواڑی
صدر انجمن ترقی اردو (ہند)شاخ چناب ویلی کشتواڑ
موبائل نمبر؛9697524469
لالٹین
آزاد نظم
میں گئے وقتوں کا لالٹین ہوں…
کبھی جس کی روشنی میں
کتابیں کھولی جاتی تھیں،
دعائیں مانگی جاتی تھیں،
اور عشق کے وعدے
کچی دیواروں پہ لکھے جاتے تھے۔
اب
آدم مجھ سے بیگانہ ہو چکا ہے،
نہ اُس کے دل میں میری تپش باقی ہے
نہ اُس کی آنکھ میں
میری لو کا عکس۔
میں اب روشنی کے لئے نہیں لڑتا،
میں اب اُجالے کی جنگوں سے تھک چکا ہوں۔
بجلیوں نے مجھے زنجیر کردیا ہے
محض ایک بٹن کا محتاج،
ایک کلک سے بجھنے والا
سستا سا استعارہ۔
اور اندھیروں نے؟
وہ تو میرے جسم میں اُتر آئے ہیں،
میرے دل کو تسخیر کر چکے ہیں،
اب میں اپنے ہی سائے سے ڈرتا ہوں۔
مجھے چراغوں کی کہکشاں سے
خامشی کے کسی کوڑے پر پھینک دیا گیا ہے۔
بازارِ شکست میں
میری روشنی کو نیلام کیا گیا،
جہاں کوئی بولی لگانے والا نہ آیا،
جہاں روشنی اب جنسِ کم قیمت ہے۔
اب خود سے فراغت ہے مجھے،
اب نہ کوئی جستجو باقی ہے
نہ کوئی تمنا۔
اب عمر… یوں ہی گزر جائے گی،
کسی دھندلے دن کی طرح
جس کی صبح بھی ادھوری ہو
اور شام بھی خاموش۔
یہی زندگی اب غنیمت ہے مجھے،
یہی سناٹا، یہی تھکن۔
میں چراغوں کی قدیم نسل کا شہزادہ !
جس کے خمیر میں آگ رکھی گئی تھی،
جس کی لو ہوا کے سامنے جھکتی نہ تھی،
اب مٹی مانگتا ہے،
خاموشی کی مٹی،
بھول جانے کی مٹی۔
کوئی آ کر مجھ پر مٹی ڈال دے،
کوئی آ کر میری خاموش قبر پر
اک فاتحہ پڑھے،
نہ بہت لمبی،
بس چند لمحوں کی دُعائیہ سانس۔
اور کوئی ایک پتھر پر لکھ دے…
كُلُّ مَنْ عَلَيْـهَا فَانٍ
طارق علی میر
ڈورو، شاہ آباد، اننت ناگ،کشمیر
موبائل نمبر؛7006452955
بقا و فنا کا سفر
مجھے تم ٹوک مت لینا
راستہ روک مت لینا
میں واپس مڑ نہیں سکتی
تیرے سنگ جڑ نہیں سکتی
کہ میں بہتی ہوئی اک
دھارا ہوں
بس آگے ہی آگے جانا ہے۔
میں۔۔۔!
بھولی نہیں ہوں
مہتاب بن کر
میرے خوابوں میں
اترنا تیرا
کبھی آفتاب بن کر
تیرے ہاتھوں کا لمس
میرے دوپہر سیماب
کرتے ہوئے
تیری شام کی کرنوں سے
میرا ہر قطرہ
لعل بدخشاں میں
ڈھل جاتا
میں نہیں بھولی، میں نہیں بھولی
پر میں رک نہیں سکتی۔
میں تھک نہیں سکتی
کسی بادل کی بیٹی ہوں
مجھے بہتے ہی جانا ہے
وہ آگے بحربیکراں ٹھہرا
مجھے تحلیل ہونا ہے
اس کے ہاتھ لہریں ہیں۔
جن سے فرار مشکل ہے
، مجھے
اس کے رسم الخط میں
قدم رکھنا ہے۔
اس کی خاموشی
میرا نام اس طرح گھِس دے گی
جیسے اندھیرے میں ایک سیپ۔
اپنی نمکین زبان سے
مجھے بپتسمہ دے گا وہ۔
میں مزید گہرائی میں اتروں گی۔
جہاں سنگم ہے کوئی
وہاں ڈوبکی ضروری ہے
کہ
اشنان کرنے سے
موکشا پراپت ہوتی ہے
کہیں لہریں
قبلہ رو ہوکر
سجدے میں جُھک جاتیں ہیں۔
لامتناہی پانی کے
میں سارے گھونٹ پی لوں گی۔
بقا کی اس آنکھ مچولی میں
مجھے۔۔۔۔!
فنا کی بھینٹ چڑھنا ہے۔
مجھے تم ٹوک مت لینا
راستہ روک مت لینا۔
ریحانہ شجرؔ
وزیر باغ، سرینگر،کشمیر
ذرد موسم
نومبر کے مہینے میں
ذرد موسم کے آتے ہی
شجر کی سرد شاخوں پر
جب پتے رنگ بدلتے ہیں
کئی ارمان مسلتے ہیں ۔
ہوا کا ہلکا سا جھونکا
پتوں کو گراتا ہے
شاخوں سے اُڑاتا ہے
مٹی سنگ ملاتا ہے ۔
وہ پتے اُٹھ نہیں پا تے
دوبارہ جُڑ نہیں پاتے
ہوا بھی تو ہے معلوم
یہ اتنا بھی نہیں معصوم
شجر یہ سائبان ہوگا
کسی کا آشیاں ہوگا
روحی جان
نوگام سرینگر