حمد و ثناء
اے خدا تیری خدائی کی عطا ہے بے پناہ
صبحِ صادق کو ہے کردی روشنی تونے عطا
تونے ہی راتوں کو بخشی کس قدر تاریکیاں
کس طرح تونے سجایا ہے فلک پہ کہکشاں
تو نے ہی پیدا کئے سب یہ زمین وآسماں
اپنی قدرت سے بنایا اس جہاں کو گلستاں
تیرے ہی دم پہ چمکتا ہے جہاں میں افتاب
رات کی تاریکیوں میں کرکے روشن ماہتاب
رہنمائی کے لئے ہے تو ہی اپنا رہنما
تو بُلند بالا و برتر تیری طاقت بے پناہ
تو ہی رہتا ہے ہمیشہ میرے خیالوں میں قریب
دُور رہتا ورنہ رحمت سے میرا اپنا نصیب
آلِ یاسین پہ خدایا رحمتوں کا ہو نزول
گر وسیلے وہ بنیں گے ہر دُعا ہو گی قبول
ہے نصب ہی اُن کا اعلیٰ اور حسب بھی بہترین
روزِ اَول سے وہ ثابت اولین و آخرین
تیری ہیبت سے دلوں میں خوف طاری ہو جہاں
اب تو بھر دے دِل ہمارت نُورِ ایمان سے یہاں
دے مظفرؔ کو خدایا اب گناہوں سے پناہ
بارگاہ میں تیری یارب ہے میری یہ التجاء
حکیم مظفرؔ حسین
باغبانپورہ لعل بازار، سرینگر، کشمیر
موبائل نمبر؛9622171322
مُبارک! صد مبارک
جسٹس پیریہار سنجے ؔجی
جسٹس پیریہار سنجے ؔجی
شباب افروز مستی میں ہے ڈوبا مرد و زن سنجےؔ
وفورِ کیف میں شامل ہیں اِن کے انگنت جذبات
وطنِ مالوف کا پہلا فرد جسٹس ہوا تعینات
یہ شانِ کبریائی ہے دخل خالق کا ہے اس میں
بعد از تعیناتی کے جو آئے آپ ہیں گھر پہ
اِسی اعزاز بالا کی یہ تقریبِ سعید ہے آج
یہ تاریخی ملن مانو عجب عشرت بداماں ہے
نہاں خانوں سے ہر دل کے یہی آواز آتی ہے
مُبارک! صد مبارک ہو جسٹس پیریہار سجنے جی
اُبھارا ہے اسی پل نے مرے اس ذوقِ کامل کو
کہ میں لکھدوں سر چوگاں پلٹ پھر بہار آئی ہے
ہر اک چہرہ یہاں از خود لئے ایثار و اُلفت ہے
ضیائے حُسنِ فطرت پھر رُخِ روشن سنوار آئی
سراپا جشن میں ڈوبا ہوا ماحول ہے سارا
خیالِ آدمیت کا تصور پھر پیشِ امکان ہے
رہی ہے امن کی ضامن ازل سے وادیٔ کشتواڑؔ
یہی تاریخ ہے اسکی یہی تو اس کی مُسکاں ہے
اِسی بستی کے گوشوں کو سنوارا اوم مہتہ ؔ نے
اسی کو اپنی کاوش سے نکھارا اوم مہتہؔ نے
بدولت ڈول ہستیؔ کے بدل ڈالا سماں سارا
دیا ہے بے سہاروں کو سہارا اوم مہتہؔ نے
یہ رشیوں اور منیوں کی زمیں زرخیر ہے سنجےؔ
ابھی جاوید اُن کے یاں نشاں رہنے کے ملتے ہیں
ہے ضامن جسکا خود برہماؔاور ترسندھیا اب بھی دچھنؔ میں
مبارک! صد مبارک ہے جو آپ تشریف لائے ہو
سبھی ہیں مطمئن دیکھو سبھی یہ گنگناتے ہیں
ابھی جسٹس ہوئے ہیں آپ ابھی کچھ اور بننا ہے
یہی اُمید ہے سب کی یہی پھر سب کی آشا ہے
جگدیش راج عُشاق کشتواڑیؔ
صدر انجمن ترقی اردو (ہند) شاخ چناب ویلی کشتواڑ، جموں
موبائل نمبر؛9697524469
گیت
تعلیم اور شرم سے رشتے کو توڑ کر
رکشا چلا رہا ہوں کہیں گاؤں چھوڑ کر
کتنے سوار لوٹے ہیں کتنے اُتر گئے
بھوکے کے ہاتھ سے سبھی دانے بکھر گئے
مجھ کو کرایہ رکشے کا دینا ہے شام تک
جاموں نے آج رکھ دیا مجھ کو جھنجھوڑ کر
تعلیم اور شرم سے رشتے کو توڑ کر
جس درجہ جان چاہیے اس کو اُٹھان پر
اتنا ہی ضبط چاہیے اس کو ڈھلان پر
مشکل سے میرا رکشا پلٹنے سے ہے بچا
اس اونچے پل نے رکھ دیا مجھ کو نچوڑ کر
تعلیم اور شرم سے رشتے کو توڑ کر
گردن اٹھائے دیتا ہوں سینے پہ تھپکیاں
اٹھتی ہے کھانسی اور ابھرتی ہیں ہچکیاں
ہارا تھکا بھی روٹیاں کھاتا ہوں اس طرح
ثابت نمک کے ساتھ کبھی پیاز پھوڑ کر
تعلیم اور شرم سےرشتے کو توڑ کر
اب پل کے نیچے ہے میرا رکشا کھڑا ہوا
اکھڑا ہوا ہے سانس بدن ہے تھکا ہوا
سینے پہ ہاتھ رکھے ہیں گھٹنے مڑے ہوئے
رکشے میں سو رہا ہوں فقط خود کو اوڑھ کر
تعلیم اور شرم سے رشتے کو توڑ کر
رکشا چلانا کام ہے یہ پاپ تو نہیں
رکشا چلانے میں کوئی اپرادھ تو نہیں
محنت سے چند سکے کماتا ہوں پر ارون
یہ شہر دیکھتا ہے مجھے منھ سکوڑ کر
تعلیم اور شرم سے رشتے کو توڑ کر
ارون شرما صاحبابادی
پٹیل نگر ،غازی آباد اُتر پردیش
آزاد نظم
دل میں اُٹھتا جا رہا ہے ایک خواب آہستہ آہستہ
بن رہا ہے حُسن کا یہ انقلاب آہستہ آہستہ
چاندنی میں گھل گئی اُس کی ا?َدا کی نرم لَے
کِھل رہا ہے چہرہ جیسے ماہتاب آہستہ آہستہ
دھوپ میں بھی اُس کے سائے کی مہک باقی رہی
چل رہی ہے یاد کی یہ گردِ آب آہستہ آہستہ
ہونٹ چُپ ہیں، دل مگر سب کچھ کہے جاتا ہے اب
ہو رہا ہے عشق کا یہ احتساب آہستہ آہستہ
درد کی شدت میں بھی اک لُطف محسوسِ وفا
ہو گیا تسلیم یہ سارا عذاب آہستہ آہستہ
وقت کا لمحہ رُکا، سانسیں ہوئیں جیسے غزل
چھو گیا سبدرؔکو اُس کا انتساب آہستہ آہستہ
سبدر شبیر
[email protected]
دعویٰ
وفا کا دعویٰ ہے پر بے وفائی ہے
امن پسند ہے، دل میں تخریب کاری ہے
کھرا کوئی جہاں میں آتا ہے نظر کیا
چہرہ معصوم ہے ، بغل میں چُھری ہے
گھر گھر کی کہانی ہے ، ہر فرد بر ہم ہے
زبانِ خنجر کی اِک جنگ چھِڑ ی ہے
انسانیت نام کی چیز کا نام و نشان نہیں
اپنے سے بس غرض ہے، مطلب کی یاری ہے
اُس جیب پر نظر ہے دفتر کی کُرسی کو
جس سے ہمیشہ خوشحال دولت کی تِجو ری ہے
کوئی جئے ، کوئی مرے بھاڑ میں جائیں سب
اس دوُر کی عر و ج کی بس یہی کہانی ہے
جواپنا سا لگے ، نظر کوئی آتا نہیں تنہاؔ
ویران راستوں پر تو چھا ئی بے نوری ہے
قاضی عبدالرشید تنہاؔ
روزلین، چھانہ پورہ، سرینگر، کشمیر
موبائل نمبر؛7006194749
نظم
یہ ظلمتوں کی رات بھی ڈھل ہی جائے گی اک دن
خوف اور غم کے بادل چھٹ ہی جائیں گے اک دن
وہ صبحِ امید، وہ اجالا، وہ سکونِ دل بھی
ہماری دہلیز پر اُتر آئے گا اک دن
ہم کو یقین ہے، رب کا وعدہ سچّا ہے
جو ٹوٹی سانسوں میں بھی امید جگا دیتا ہے
ہر اندھیرا، ہر گراں لمحہ، ہر کرب کی لہر
نورِ رحمت میں بدل جائے گا اک دن
یہ خزاں کی بےرحم ہوائیں رک جائیں گی
سوکھے درختوں پر پھر کلیاں مہک جائیں گی
سجدوں کی نمی سے تقدیریں سنور جائیں گی ——
گھروں میں خوشبوِ رحمت اتر آئے گی اک دن
ہم راہی ہیں اس راستے کے جس کی منزل بلند ترین
جنت کی ہواؤں میں بسنا، اور رب کا دیدار پانا
یہ کانٹے، یہ تکالیف، یہ وقت کی مار
کل تاجِ عزت بن کر سر پر سجیں گی اک دن
صبر کو سینے میں مضبوط باندھ کر رکھو
یقین کے چراغ کو طوفانوں میں بھی جلنے دو
یہ نورِ ایمان راستہ دکھاتا رہے گا ہم کو
اور ہمیں آخری ٹھکانہ تک لے جائے گا اک دن
یہ دنیا عارضی ہے، دھوکے کی چمک ہے سب
مگر رب کا کلام ابدی نور ہے
جو دلوں کو زندہ کرتا ہے، جو امیدوں کو جگاتا ہے
ہر سو روح کو روشنی عطا کرے گا قرآن
اور یہی روشنی ہماری پہچان بنے گی اک دن
رئیس یاسین
موبائل نمبر؛7006760695
اونتی پورہ، کشمیر