قرینۂ ذوق
آذرؔ! زبانِ داغ ؔ کا ازلی رکن ہوں میں
یہ انتہائے عشق ہے غرقِ سُخن ہوں میں
آغازِ سخن ہوگیا تھا اولین دور میں
دس سال عمر تھی تب سے محوِ سخن ہوں میں
مابعد پھر صحبت ہوئی حضرت نشاطؔ سے
گاتا ہوں تب سے اب تلک اُسکے ہی گُن ہوں میں
جب آتشِ احساس کی ضو ہونے لگی نمود
کہنے لگے پھر غیر بھی شاعرِ وطن ہوں میں
باطن میں تہہ دل جو کچھ رکھتے تھے عداوت
اب اُن کیلئے ہی ظاہرناً اِک شوخ تن ہوں میں
یہ قصہ ہائے ناگفتہ بہہ اب درگور کیجئے
ہر حال میں ہر گام پہ رہتا مگن ہوں میں
یہ تھا جنونِ شعر کی تکمیل کا ہی ذوق
گھر چھوڑ کر دہلی کبھی پہنچا دکنؔ ہوں میں
رُودِ خیال میں گہہ اُٹھتی ہے موجِ نیلؔ
حدِ نظر تک بھاتا ہے اب پُرلگن ہوں میں
راہِ خیال میں اگر اُبھرے تضاد تو
کہتا ضمیر پھر بھی ہے رنگِ سخن ہوں میں
سیکھا طریقِ ترکِ اَنا میں نے جگنؔ سے ہے
اُن کے ہی نقش پاپہ ابھی گامزن ہوں میں
باغِ ادب سے اُڑ کے خود آتی ہے بوئے شعر
لگتا ہے اپنے آپ میں سرد سمن ہوں میں
مطلق نہ اب تشہیر کا ہوں میں متمنی عُشاقؔ
رُشدِ نشاطؔ، نورؔ و طالبؔ، جگنؔ ہوں میں
عُشاق کشتواڑی
صدر انجمن ترقی اردو (ہند)شاخ چناب ویلی کشتواڑ
موبائل نمبر؛9697524469
بلا عنوان
مہمان ہوں یہاں نہ مسافر ہوں میں
میں تو ایک سوال ہوں
خاک میں ملتا ہوا نور،
یا بادِ صبا کا جلال ہوں
کوئی بحر ہوں کہ
ہر شام “سورج” میرے سینے اُتر جاتا ہے،
اور چاند میرے شبستاں میں کھو جاتا ہے۔
میں وہ پیاس ہوں
جو بادلوں کو بھی نچوڑ کر پی لیتی ہوں
میں شجر ہوں،
کہ
میری جڑیں زمین کے پوشیدہ راز میں پیوست ہیں
میں نے دنیا کو،
یا دنیا نے مجھے جھیلا ہے
یا میں فقیر ہوں کوئی ۔۔۔!
جس کی جھولی میں
خود خُدا نے معجزے ڈال دیئے ہیں
میں روشنی پیتی ہوں
آسمان نگل لیتی ہوں
آتشِ عشق ہوں میں
کہ
ہر سانس میں الوہیت کی سرگوشیاں سنتی ہوں
ہر ذرّہ مجھے “کُنْ فَیَکُون” کا درس دیتا ہے
یا شاید فنا کے بعد بقا کی حکایت ہوں
جب خاک نے مجھے کھویا،
میں ہوا میں سما گئی
جب آگ نے پکڑا،
میں شعلے میں جھلک گئی
اب میں نہ راکھ ہوں
اور نہ ہی کوئی انگار
میں وہ نغمہ ہوں
جو راگ سے پہلے بھی تھا
اور راگ کے بعد بھی رہے گا۔
ریحانہ شجر
وزیر باغ ، سرینگر،کشمیر
[email protected]