ملک منظور
گاڑی نے ابھی رفتار پکڑی ہی تھی کہ تھوڑے فاصلے پر ایک عورت نے آواز دی: “رک جاؤ! ٹھہرو!” ڈرائیور نے فوراً بریک ماری اور ایک برقع پوش خاتون گاڑی میں سوار ہو گئی۔ اس خاتون کا نام معروفہ تھا۔ بس کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، تل دھرنے کی جگہ نہ تھی اور کوئی بھی نشست خالی نہ تھی، لہٰذا معروفہ کو کھڑے رہنا پڑا۔ ابھی بس زیادہ دور نہیں نکلی تھی کہ ایک نوجوان نے معروفہ کے سامنے والی سیٹ سے چشمِ زدن میں کھڑا ہو کر اسے بیٹھنے کی جگہ دے دی۔ معروفہ بیٹھ گئی۔
بس اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔ معروفہ نے نگاہ اٹھا کر دیکھا تو وہ نوجوان ٹکٹکی باندھے اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔اس کی آنکھوں میں ایک انوکھی کشش تھی۔ معروفہ نے فوراً نظریں نیچے کر لیں۔ تھوڑی دیر بعد اس نے پھر چوری چھپے دیکھا تو نوجوان مسلسل اس پر نگاہوں کا پہرہ بٹھائے ہوئے تھا۔ اس نے رخ موڑ کر ادھر ادھر دیکھنا شروع کیا، لیکن نوجوان کی تیکھی نظروں سے وہ خود کو نہ بچا سکی۔ اس نے من میں سوچا: “اس نوجوان کو کیا ہو گیا ہے؟ یہ مجھے گھورے جا رہا ہے۔ کیا اسے معلوم نہیں کہ میں ایک شادی شدہ عورت ہوں؟” لیکن وہ خود کو اس کی نظروں کی ہتھکڑی سے آزاد نہ کر پائی۔ اس نے پھر دیکھا تو دوبارہ نظریں ٹکرائیں۔ نوجوان کے ہونٹوں پر دل موہ لینے والی مسکراہٹ تھی۔ لہذا ان نظروں نے معروفہ کی دھڑکنوں میں تلاطم برپا کر دیا۔ وہ ایک عجیب و غریب بے چینی کا شکار ہو گئی۔ اس کو لگا جیسے وہ برسوں کا جانکار ہو۔
“یہ کیا ہو رہا ہے مجھے؟ میں ایک بچے کی ماں ہوں، میرا شوہر مجھ سے بے پناہ محبت کرتا ہے،” وہ خود سے سرگوشی کرنے لگی۔
جب بے اطمینانی حد سے گزر گئی تو اس نے اپنا سر بازوؤں کے بیچ رکھ کر آنکھیں موند لیں۔ آنکھیں بند کرتے ہی وہ یادوں کے جھروکوں سے دس سال پیچھے چلی گئی۔ اسے وہ دن یاد آیا جب قصبے میں کسی بڑے آدمی کی موت پر پہیہ جام ہڑتال تھی اور وہ بے بس سڑک کنارے بس کی آس لگائے بیٹھی تھی۔ بڑی دیر کے بعد ایک نوجوان اس کے سامنے سکوٹر لے کر آ رکا اور پوچھا: “آپ کو کہاں جانا ہے؟ چلو میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں۔” معروفہ نے تھوڑا توقف کیا اور ہچکچاتے ہوئے کہا: “میں بس میں جاؤں گی۔”
“بس تو نہیں آئے گی اور آپ کو یہیں شام ہو جائے گی۔ ڈرو مت! اللہ پر بھروسہ رکھو، میں بھی دو بہنوں کا بھائی ہوں۔” نوجوان نے اسے بھروسہ دلاتے ہوئے کہا۔
معروفہ نے آنکھیں موند کر اس پر اعتبار کر لیا اور اسکوٹر پر سوار ہو گئی۔ وہ اسکوٹر پر مناسب دوری بنا کر بیٹھی رہی۔ اسے لگا شاید وہ نوجوان اچانک بریک مارے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس نوجوان کی شرافت معروفہ کے دل کو بھا گئی۔ راستے میں اس نے پوچھا: “آپ کیا کام کرتے ہیں؟”
“میں انجینئرنگ کا طالب علم ہوں، ابھی کالج میں داخلہ لیا ہے،” نوجوان نے جواب دیا۔
پھر کئی باتیں ہوئیں اور معروفہ نے بے خیالی میں اپنا ایک ہاتھ اس نوجوان کے کندھے پر رکھ دیا۔ ہاتھ رکھتے ہی اس کے دل کی دھڑکن رقص کرنے لگی اور وہ عجیب بے چینی کا شکار ہو گئی۔ گھر پہنچ کر اس نے اس نوجوان کو دیکھا، دونوں کی نظریں ٹکرائیں، دونوں مسکرائے اور اپنی اپنی سمت چل دیئے۔ معروفہ اس رات سو نہ سکی، بستر پر کروٹیں بدلتی رہی۔ وہ رات اس کے لئے طویل ہو گئی۔ نوجوان نے جیسے اس پر کوئی سحر کر دیا تھا اور وہ اس جادو میں غوطہ زن ہو گئی۔ اگلے دن دونوں کی پھر ملاقات ہوئی اور ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔ دونوں عشق کے دریا میں کود پڑے اور جذبات کے سمندر میں ڈوب گئے۔ معروفہ اس نوجوان کو اپنا دولہا سمجھ کر خواب سجانے لگی کہ اچانک ایک دن ایک تیز رفتار گاڑی نے اس نوجوان کو موت کی آغوش میں چھپا دیا۔ معروفہ پاگل ہو گئی۔ گھر والے پریشان تھے کہ اسے کیا ہو گیا۔ اس نے دانہ پانی چھوڑ دیا اور خود کو ایک کٹی پتنگ کی طرح بے قدر اور بدقسمت تصور کرنے لگی۔
دو سال بیت گئے اور گھر والوں نے اس کا رشتہ طے کر دیا۔ اس نے نہ حامی بھری اور نہ انکار کیا۔ بہر حال، شادی ہو گئی اور وہ ایک بچے کی ماں بن گئی۔
ان یادوں کی بارات سے باہر نکل کر اس نے دوبارہ دیکھا تو وہ نوجوان بس سے اتر چکا تھا۔ وہ اسے ڈھونڈنے لگی لیکن وہ عنقا ہو چکا تھا۔ وہ گھر پہنچی تو سب سے پہلے وضو بنایا اور دو رکعت نفل کی نیت باندھی۔ لیکن سجدے میں اس کا سر تو جھکا مگر دل نہیں۔ اس کی بے چینی تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ وہ سوچنے لگی: “مجھے کیا ہو گیا ہے؟ کیا میں باولی ہو گئی ہوں؟” جب کوئی صورت نظر نہ آئی تو اس نے ایک انوکھا فیصلہ کیا۔ اس نے یادوں کے دریچے سے پیار کا وہ ادھورا البم کھولا جس میں اس کے پہلے پیار کی تصویریں قید تھیں۔ اس نے ایک تصویر ہاتھ میں اٹھائی تو آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب امنڈ آیا۔ کچھ آنسو تصویر پر گرے جس سے تصویر کا چہرہ دھیرے دھیرے دھندلا گیا اور معروفہ کو حقیقت نظر آنے لگی۔ اسی اثنا میں اس کا شوہر کمرے میں داخل ہوا اور وہ دیوانہ وار ان سے چمٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
���
قصبہ کھُل کولگام ،کشمیر
موبائل نمبر؛9906598163