بشیر اؔطہر
شہر کے ٹاؤن ہال میں دن بھر “نشہ مُکت سماج” کے عنوان سے پروگرام جاری رہا۔ مقررین نے نوجوانوں کو نشے کی تباہ کاریوں سے آگاہ کیا۔ اسٹیج پر موجود شاہد سب سے زیادہ پُرجوش دکھائی دے رہا تھا۔ وہ بار بار مائیک سنبھالتا اور بلند آواز میں کہتا“ہمیں اپنے وطن کو نشے سے پاک رکھنا چاہیے!”لوگ تالیاں بجاتے اور اُس کی تقریر کو خوب سراہتے۔رات ڈھلنے لگی تو دوستوں نے شاہد کو فون کیا، مگر اُس نے کال نہ اُٹھائی۔ پہلے تو سب نے یہی سمجھا کہ شاید تھک کر سو گیا ہوگا، لیکن جب بار بار رابطہ نہ ہوسکا تو تشویش بڑھنے لگی۔ دوست اُس کے گھر پہنچے، مگر وہ وہاں بھی موجود نہیں تھا۔پریشانی کے عالم میں وہ اُسے ڈھونڈنے نکلے۔ سڑک کے کنارے ایک سنگِ میل کے ساتھ ٹیک لگائے شاہد بے ہوش پڑا تھا۔ اُس کے ہاتھ میں شراب کی خالی بوتل تھی اور اردگرد سگریٹ کے جلے ہوئے ٹکڑے بکھرے پڑے تھے۔دوستوں نے اُسے بیدار کرنے کی کوشش کی تو اُس نے نیم وا آنکھوں سے اُنہیں دیکھا اور لڑکھڑاتی زبان میں بڑبڑایا’’ہمیں… اپنے وطن کو… نشے سے پاک رکھنا چاہیے…‘‘یہ کہتے ہی اُس کا سر ایک طرف ڈھلک گیا۔سڑک پر خاموشی تھی، مگر اُس خاموشی میں معاشرے کے بے شمار کھوکھلے نعروں کی گونج صاف سنائی دے رہی تھی۔
���
خانپورہ کھاگ بڈگام ،کشمیر
موبائل نمبر؛7006259067