جس شخص کی فکر اپنی ذات کر گرد گھومتی ہے وہ زندگی سے کوئی قابل ِذکر چیز نہیں پاتا بلکہ بدبخت و نامراد رہتا ہے اور جو شخص دوسرے کی مدد کے سلسلے میں اپنے آپ کو بھول جاتا ہے وہی زندگی کا لطف حاصل کرپاتا ہے ۔کوئی اگر زندگی سے لطف اُٹھانا چاہے تو اُسے دوسروں کو آرام و لطف پہنچانے میں بھی بھرپور حصہ لینا چاہئے کیونکہ انسان کے لُطف کا دارومدار دوسروں کولُطف و آرام پہنچانے پر اور دوسروں کا لُطف خود اُس کے لطف پر منحصر ہوتا ہے ۔ایک کامل مسلمان اپنی قوم کا مفید عضو ہوتا ہے،اُس سے صرف بھلائی کا صدور ہوتا ہے اور اُس سے نیکی اور اچھائی کے علاوہ کوئی دوسری توقع ہی نہیں کی جاسکتی ،وہ اپنی حرکت میںنورِ حق کی ایک کرن اور خیر و برکت کا خزانہ اور دشواری کو آسان کرنے میں کار آمد ثابت ہوتا ہے ،وہ اس زندگی میں تگ و دَو کرتا ہے تو اُس کا دل محبت سے لبریز ،زبان صلح و مؤدت سے تَر اور اُس کے ہاتھ ہر چلنے والے کو کچھ دینے کے لئے کُشادہ ہوتے ہیں اور وہ انہیںبلا تکلف دوسروں کی طرف آگے بڑھاتا ہے۔یہی اسلام کا مزاج ہے اور اس زندگی میں اسلام کا یہی پیغام ہے۔رسول اللہ ؐ کا فرمان ہے۔’’ہر مسلمان پر صدقہ ہے‘‘،لوگوں نے عرض کیا ؛یارسول اللہؐ! جس کے پاس کچھ نہ ہو ؟آپؐ نے فرمایا :اپنے ہاتھ سے کام کرکے خود اپنے آپ کو بھی فائدہ پہنچائے اور صدقہ بھی کرے،پوچھا گیا ،اگر ایسا ممکن نہ ہو ؟آپ ؐ نے فرمایا:شدیدضرورت مند کی مدد کرے۔لوگوں نے عرض کیا اور اگر ایسا بھی ممکن نہ ہو؟آپؐ نے فرمایا:’’نیکی پر عمل کرے اور بُرائی سے روکے کہ یہ بھی اُس کے لئے صدقہ ہے‘‘۔(بخاری)
اس حدیث شریف میں لوگوں کے مرتبوں اور صلاحیتوں کے مطابق اُنہیں درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ایک طاقت ور شخص کی طاقت کی زکوٰۃ یہ ہے کہ وہ قوم کی پیداوار میں اضافہ کرے اور اُس کی عام ترقی میں حصہ لے اور اپنے جیسے لوگوں کی سرگرمیوں کے ساتھ اپنی سرگرمیاں ملا دے تاکہ سب مل کر گُناہ و سرکشی پر نہیں بلکہ نیکی اور تقویٰ پر تعاون کریں،اس کام سے وہ اپنے آپ کو بھی فائدہ پہنچا سکے گا اور ٹیکس بھی ادا کرسکے گا، جو اُس کے معاشرے کی طرف سے اُس پر واجب ہوتا ہے ،جو خود رحم نہ کرسکے وہ رحم کرنے والوںکی تائید کرے،جو خود اپنی طاقت سے فائدہ نہ پہنچا سکے،وہ فائدہ پہنچانے والوں کی مدد کرے جیساکہ ’’شدید ضرورت مند کی مدد‘‘کے الفاظ سے مُراد ہے ۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کسی شخص کا مرتبہ اِس سے بھی کم ہو اور اُس کے پاس کمال و ترقی کے وہ ذرائع نہ ہوں جن سے مفید و مددگار ہوسکے تب وہ اپنے آپ سے سروکار رکھ کر نیکی کرے اور بُرائی چھوڑدے ،شائد اِسی سے اُس کی نجات ہوجائے۔
یہ بہترین طرز عمل کے لئے نِشان ِ راہ ہے جیساکہ رسول اللہؐ نے تشریح فرمائی ہے اور جس سے واضح ہوتا ہے کہ مومن سَرتا پا بھلائی ہے،اُس کی پیشانی پر شرف اور عزت چمکتی ہے ،اُس کی سیرت سے مردانگی جھلکتی ہے ،پہچاننے والے اور نہ پہچاننے والے سب اُس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ،اُس کی شرافت اور بہترین اخلاق و عادات پر بھروسہ کرتے ہوئے ،اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بُرا شخص وہ ہے جس سے بھلائی کی اُمید نہ کی جائے اور جس کی بُرائی سے محفوظ نہ رہا جائے ۔مٔو من ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا ،اللہ تعالیٰ سے اُس کا تعلق ایسا ہوتا ہے کہ اُس سے بھلائی کی اُمید کی جائے اور بُرائی سے محفوظ سمجھا جائے ۔دوسروں کی مدد و غمخواری میں ایک تنہا فرد کی سرگرمیوں کا دائرہ بہت وسیع ہوتا ہے۔جب کسی شخص کے جسم کو عافیت مل جائے تو اُس پر بہت سارے حقوق واجب ہوتے ہیں اور ہر ہڈی اور پٹھے پر کمزور وں اور مصیبت زدوں کی مدد کے لئے سرگرمی لازمی ہوتی ہے ۔فرمان ِ نبی ؐ ہے کہ ’’بھلا ئیاں بُرے کام سے بچاتی ہیں ،صدقہ اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے۔جو لوگ دنیا میں بھلائی کرنے والے داخل ہوں گے وہ آخرت میں بھی بھلائی والے ہوں گے اور جنت میں سب سے پہلے بھلائی کرنے والے داخل ہوں گے ‘‘،جس طرح جسم میں کچھ علامتیں ہوتی ہیں مثلاً احساس میں ،نبض اور حرارت بالکل اُسی طرح ایمان کی موجودگی کی بھی کچھ علامتیں ہوتی ہیں ،ایمان کی ایک ایسی ہی اہم نشانی بتاتے ہوئے رسول اللہ ؐ فرماتے ہیں:’’اگر اپنی نیکی سے تمہیں خوشی ہو اور اپنی بُرائی تمہیں بُری لگے تو تم مومن ہو‘‘۔یعنی کوئی بھلائی کرنے پر دِل کا مسرور ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ تمہارے دِل و دماغ میں کوئی احساس اور تمہارے پاس اخلاق و کردار میں پسند و ناپسند کا کوئی خاص معیار ضرور ہے۔جو شخص بُرائیوں میں پڑکر اس پر رنج و تکلیف محسوس نہیں کرتا اُس کا ضمیر مُردہ ہے اور مُردہ ضمیر بھی مردہ جسم کی طرح کوئی چوٹ کھاکر حرکت نہیں کرتا ۔
بھلائی خود بھلائی سے محبت کی وجہ سے کرنی چاہئے ۔احسان جتانے یا خود کو نمایاں کرنے کے لئے نہیں ۔لوگوں میں عام طور پرانانیت ،نفس پرستی اور بھلائی کا فوری بدلہ حاصل کرنے کا جذبہ پھیلا ہوا ہے ،چاہے یہ بدلہ جِس شکل میں ہو۔لوگوں کے طرزِ عمل میں خود پسندی سے زیادہ نفس کی سرکشی کا عمل دخل ہے اور آج کی سماجی ہلچل کا یہی سرچشمہ ہے ۔لوگوں کی بڑی تعداد اپنے اپنے خاص مطلب کی حدود میں زندگی گذارتی ہے،اگر اُن کی کوئی ضرورت ہو تو اُس کا شدید احساس ہوگا اور اُسے پورا کرنے میں زور لگے گا اور اگر اُن پر کوئی حق واجب ہوگا تو اُس سے غفلت برتیں گے،اُسے یاد بھی نہ کریں گے جب تک مطالبہ نہ کیا جائے اور مجبور نہ کیا جائے ،جس شخص کو صرف ذاتی مفاد سے دلچسپی ہوتی ہے وہ عام مفاد کی پرواہ نہیں کرتا بلکہ وہ لوگوں اور ملکوں کی بدبختی کا ذریعہ بنتا ہے۔ملک کو اُس ملازم سے کتنا نقصان پہنچتا ہے جو اپنی ڈیوٹی کی تو ذرا پرواہ نہ کرے،ہر وقت تنخواہ اور اضافہ ہی کے بارے میں باتیں کرتا رہے،کیونکہ وہ جسے اپنا حق سمجھتا ہے بس اُسی کومحسوس کرتا ہے ،اُس کے ذمے جو ڈیوٹی ہے اُسے جانتا بھی نہیں ۔اس طرح تو کوئی قوم اور معاشرہ قائم نہیں ہوسکتا ۔پاکیزہ معاشرہ کی بنیاد تو وہ لوگ ہوتے جو اپنے اوپر اللہ تعالیٰ اور معاشرے کے حقوق پہچانیں اور جب سب لوگ اپنے فرائض ادا کرنے لگیں گے تو نتیجتاً معاشرے کے ہر فرد کوبغیر مطالبہ اور کشمکش کے اُس کا فطری حق مل جائے گا ۔
اسلام یہ مانتا ہے کہ مومن کے دل میں بھلائی کی جڑیں کافی گہری ہوتی ہیں اور اُس کا حال زرخیز مِٹی جیسا ہے کہ اس میں بیج ڈالا جائے تو اُس کے نشوونما کے سارے اسباب پہلے ہی سے موجود ہوں گے۔اس لئے مومن اپنے دل میں راسخ بھلائی سے عشق و محبت کے بنا پر زیادہ سے زیادہ بھلائی کرنے والا ہوتا ہے لیکن معاشرے کی بھلائی کے دعویدار وں کے دل پتھر کی طرح سخت ہوتے ہیں ۔دین کچھ حقوق و فرائض کا نام ہے تو دنیا بھی کچھ حقوق و فرائض کا نام ہے اور ہر چیز انہی حقوق و واجبات سے تعلق رکھتی ہے۔انسان اپنا فرض ادا کرے اور اس کا بوجھ کاندھے پر محسوس کرے،اُس سے فرار کی کوشش نہ کرے ،اپنا فرض ادا کرنے کے بعد اگر اپنے حقوق کی توقع کرے یا مطالبہ کرے ،تب کوئی کچھ نہیں کہے گا ،لیکن اگر انسان دنیا میں کسی اہلیت یا استحقاق کے بغیر صرف’’ھل مِن مزید‘‘کا نعرہ ہی لگاتا رہے تو یہ المیہ ہوگا اور اس طرح کے مسلک سے نہ تو دنیا ہی حاصل ہوسکتی ہے اور نہ ہی دین صحیح ہوسکتا ہے۔
احمد نگر سرینگر،رابطہ۔9697334305