یو این آئی
سرینگر// وادی کشمیر میں صدیوں پرانی ذائقے کی علامت اور ہر گھر کی پسندیدہ سبزی ’ندرو‘کی کاشتکاری تواتر کے ساتھ کئی گھرانوں کے روزگار کا موثر وسیلہ ہے ۔ ندرُو کو پانی سے نکالنے کا عمل محض محنت نہیں بلکہ محبت ہے ، اور یہ محبت نسلوں سے کشمیر کی ہتھیلیوں میں چلتی چلی آرہی ہے ۔ ڈل جھیل کے معروف ندرُو کاشتکار غلام نبی کہتے ہیں’’ندرُو نکالنا موج نہیں، سخت سردی میں ہاتھ سن ہوجاتے ہیں، لیکن یہ ہمارا روزگار بھی ہے اور ہماری پہچان بھی‘‘۔ ان کے پاس کھڑا راجہ فیاض مسکرا کر کہتے ہیں’’اصل ندرُو کی پہچان اس کی صاف گرہ اور اندرونی نرمی ہے ،’ندرو کو سمجھنے کے لیے برسوں پانی کی خوشبو سونگھنی پڑتی ہے ، تب کہیں جا کر اس کی اصل پہچان سامنے آتی ہے‘‘۔ کشمیر کے کھانوں میں ندرُو کو ایک ایسا مقام حاصل ہے جسے کوئی بدل نہیں سکتا۔ یخنی میں ڈوبا ہوا سفید ندرُو ہو یا تیز تڑکے والی تل والی ڈِش ہر کشمیری کے لیے یہ ذائقہ گھر کی یاد ہے ۔گزشتہ چند برسوں میں ندرُو کی قیمت میں حیران کن اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے ۔ سردیوں میں جب جھیلیں ٹھنڈی ہوجاتی ہیں تو پیداوار کم ہوتی ہے اور قیمت 300 سے 450 روپے فی کلو تک پہنچ جاتی ہے ۔