پونچھ//نجی سکول ایسوسی ایشن پونچھ کے بینر تلے نجی سکول مالکان کا ایک اہم اجلاس حاکیہ اکیڈمی میںمنعقد ہوا ۔اس اجلاس کی صدارت نجی سکول ایسوسی ایشن پونچھ کے صدر راجہ شہزاد تانترے نے کی۔اجلاس کے دوران مختلف مدعوں پر تبادلہ خیال کیا گیا اور کچھ اہم فیصلے لئے گئے۔ اس دوران ایسو سی ایشن کے صدر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کرونا وباء کے دوران سرکار نے تعلیمی نظام کو لیکر کوئی واضح پالیسی نہیں بنائی ہے۔انہوں نے کہا تعلیم کو ترجیح دینی چاہئے تھی تاکہ ملک کا مستقبل تابناک بن سکے اس شعبے کو بار بار متاثر کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کا ہر شعبہ کام کر رہا ہے مگر تعلیمی اداروں کو سرکار نے بند کر دیا۔انہوں نے کہا کہ سرکاری سکولوں کے اساتذہ تو برابر تنخواہ لے رہے ہیں مگر نجی سکولوں کا سارا نظام ہی بچوں کی فیس سے چلتا ہے سرکار نے سبھی فیس نہ دینے کا حکم نامہ صادر کر کے صرف ٹوشین فیس وصول کرنے کی اجازت تو دی ہے مگر والدین وہ فیس بھی نہیں دے رہے۔انہوں نے کہا آن لائن کلاسوں کیلئے نجی سکولوں کے اساتذہ جی جان سے محنت کر رہے ہیں مگر انکا معاوضہ، گاڑیوں کی قِسط، نان ٹیچنگ اسٹاف کی تنخواہ ،بجلی ،پانی ،بلڈنگ کا کرایہ یہ سب اخراجات اسکول ادا نہیں کر پا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس لئے وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ نجی سکولوں کیلئے بھی کو واضع پالیسی بنانی جائے۔چیئر مین وحید احمد بانڈے نے کہا کہ سرکار نے پہلے کہا تھا کہ تین مہینوں کی اجرت اساتذہ کی وہ دینگے آج تک وہ بھی نہیں ملی اب پھر اسکول بند کر دیئے گئے ہیں ہم جائیں تو کہاں جائیں۔انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مشورہ دیا کہ آڈ ایون فارمولہ اپنایا جائے، ایک دن میں ایک ہی کلاس کو اسکول آنے کی اجازت دی جائے ۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ بھی دیگر فارمولے آزمائے جا سکتے ہیں اگر حکومت کے پاس اس کا کوئی حل نہیں ہے تو وہ نجی اسکولوں کو بند ہی کر دے تاکہ ہم اپنے اساتذہ و دیگر اسٹاف کو گھر بھیج دیں ۔اس دوران ایسو سی ایشن کی جانب سے ایک تحریری یاداشت ڈی ڈی سی چیئر مین تعظیم اختر اور نائب چئر پرسن اشفاق احمد اور ڈی سی پونچھ کو کو پیش کی گئی جہاں انہوں نے 10 دنوں کے اندر اندر مسئلے حل کرنے کی اپیل کی ۔انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر ان کا مسئلہ حل نہ ہوا تو وہ آن لائن کلاسیز بند کر دینگے۔