لوگ ہرسال ہلہ شری کرکے لکڑی کا عارضی پل بناتے ہیں
ظفر اقبال
اوڑی / سرحدی قصبہ اوڑی کے نامبلہ گاوں میں مقامی آبادی نے چوکیدار موڑ کے نزدیک نالہ پر پل ایک پل کی تعمیر کی مانگ کی ہے۔مقامی آبادی نے بتایا کہ یہاں پر پہلے ایک لکڑی کا پل ہوتا تھا مگر سال1995 میں ایک سیلابی ریلا کے دوران یہ پل ڈھہ گیا جسکے بعد اس پل کی تعمیر کسی نے دوبارہ سے نہیں کی۔آبادی نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نامبلہ گاوں کی ایک بڑی آبادی کو نالے کے پار رہنے والے بستیوں کے علاوہ نزدیکی گاوں گھرکوٹ کو آپس میں ملانے والا یہ پل گذشتہ تیس سالوں سے تعمیر نہ ہو سکا۔انہوں نے کہا اس پل نہ ہونے کی وجہ سے سکولی طلبہ، درسگاہ کے طلبہ کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا اس نالہ کے نیچے تین بڑے نالے آپس میں ملتے ہیں۔ مقامی آبادی نے بتایا کہ وہ آز خود ہر سال یہاں لکڑی کا عارضی پل تعمیر کرتے ہیں جسکی وجہ یہاں پر کئی حادثات پیش آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تقریبا 8 سال قبل 2017 میں اس نالہ پر محکمہ آپاشی و فلڈ کنٹرول کی جانب سے ایک پل کی تعمیر ی کام شروع کیا گیا تھا مگرپل کا کچھ حصے کے کام ہونے کے بعد تعمیر کا کام نامعلوم وجود کی وجہ سے روک دیا گیا اور ابھی تک تعمیر کا کام دوبارہ سے شروع نہیں کیا گیاجبکہ تعمیر کا سامان ریت، باجری اور سیمنٹ وغیرہ ابھی تک وہاں ہی پڑا ہوا ہے۔مقامی آبادی نے ممبر اسمبلی اوڑی ڈاکٹر سجاد شفیع سے اپیل کی ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کروائیں کہ آخر کار اس پل کی تعمیر کا کام کیوں ابھی تک مکمل نہ ہو سکا۔ ایگزیکیٹیو انجینئر آبپاشی، فلڈ کنٹرول اوڑی محمد امین میر جنہوں نے حال ہی میں چارج سنبھالا ہے نے بتایا کہ انہیں اس حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہے تاہم انہوں نے کہا کہ وہ متعلقہ اے ای اور جی ای سے جانکاری حاصل کریں گے۔