مشتاق الاسلام
شوپیان //نیشنل گرین ٹربیونل (این جی ٹی) نے جموں و کشمیر کی حکومت کو ضلع شوپیان کے گاؤں ترینج میں مجوزہ صنعتی اسٹیٹ کے قیام کے معاملے پر نوٹس جاری کرتے ہوئے ماحولیاتی اور سیلابی خطرات کے حوالے سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔ یہ نوٹس معروف ماحولیاتی کارکن ڈاکٹر راجہ مظفر کی جانب سے دائر درخواست پر جاری کیا گیا۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تقریباً 500 کنال (63 ایکڑ) سرکاری اراضی پر قائم کیا جانے والا یہ صنعتی منصوبہ نالہ رمبی آرا کے قدرتی سیلابی میدان میں واقع ہے، جس سے دریا کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔
درخواست گزار کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف دریا کے فلو سسٹم پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں بلکہ شوپیان اور پلوامہ کے نشیبی علاقوں، زرعی زمینوں اور سیب کے باغات کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے ٹربیونل کو بتایا کہ مجوزہ صنعتی اسٹیٹ دریا کے کنارے سے محض 30 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہ مقام دریا کے قدرتی فلوڈ وے کے اندر آتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دریا کے کنارے پر تعمیرات سے پانی کے بہاؤ کا قدرتی راستہ متاثر ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں شدید بارشوں یا برف پگھلنے کی صورت میں متعدد دیہات کے زیر آب آنے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ درخواست میں ضلع شوپیان کے ڈرافٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ضلع پہلے ہی سیلابی خطرات سے دوچار علاقوں میں شامل ہے۔
درخواست گزار نے مزید نشاندہی کی کہ سٹیٹ انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (سیڈکو) کے تیار کردہ سائٹ پلان میں بھی صنعتی اسٹیٹ کو دریا کے عین متصل دکھایا گیا ہے، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ منصوبہ سیلابی میدان کے اندر واقع ہے۔ٹربیونل نے 24 فروری 2026 کو جاری اپنے حکم میں تمام متعلقہ فریقین کو چار ہفتوں کے اندر اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ساتھ ہی درخواست گزار کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام جواب دہندگان کو نوٹس کی باضابطہ تعمیل کو یقینی بنا کر تازہ حلف نامہ جمع کرے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 15 مئی 2026 کو مقرر کی گئی ہے۔واضح رہے کہ 68 کروڑ روپے مالیت کے اس صنعتی منصوبے کو فروری 2024 میں انتظامی کونسل سے منظوری دی گئی تھی، جس کا مقصد علاقے میں صنعتی ترقی کو فروغ دینا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا بتایا گیا تھا۔ تاہم منصوبے کے مجوزہ مقام کے سیلابی زون میں ہونے کے خدشات کے باعث اب یہ معاملہ عدالتی جانچ کے دائرے میں آ گیا ہے۔